امام احمد بن حنبل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
احمد بن حنبل
مکمل نام احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال الشیبانی
پیدائش 780ء بمطابق 164ھ
مرو ، خراسان (اب ترکمانستان)
وفات 855ء بمطابق 241ھ
بغداد ، عراق
عہد اسلامی عہد زریں
مکتبہ فکر اہلسنت - فقہ حنبلی
شعبہ عمل فقہ ، حدیث ، عقیدہ
مؤثر شخصیات امام شافعی
متاثر شخصیات امام بخاری ، ابن تیمیہ
بسلسلۂ مضامین

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل

فقہ اربعہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


نام اور نسب[ترمیم]

آپ کا نام احمد ہے جبکہ آپ کے صاحبزادے عبداللہ بن احمد نے نسب نامہ یوں بیان فرمایا ہے: احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد بن ادریس بن عبداللہ بن حیان بن عبداللہ بن انس بن عوف بن قاسط بن شیبان بن ذہل بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکر بن وائل ذہلی شیبانی مروزی بغدادی۔

ولادت[ترمیم]

امام احمد بن حنبل کی ولادت ماہِ ربیع الثانی 164ھ بمطابق ماہِ دسمبر780ء میں بغداد میں ہوئی۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی، خود امام احمد بن حنبل کا بیان ہے کہ میں نے اپنے باپ دادا میں سے کسی کو نہیں دیکھا۔

اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے (مسند) کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ امام شافعی کی طرح امام احمد بن حنبل کی مالی حالت بھی کمزور تھی۔ لوگ انہیں بے شمار تحائف اور ہدیہ پیش کرتے لیکن آپ اپنے اوپر اس میں سے کچھ بھی نہ صرف کرتے سب کچھ بانٹ دیتے ۔

طلب علم[ترمیم]

امام احمد بن حنبل ابتدائی مکتب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اِختیار کیا اور اپنے استاد ہشیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔

مسئلہ خلقِ قرآن[ترمیم]

خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور نماز جنازہ پڑھی۔ عباسی خلافت کے آخری دور میں فقہ حنبلی کا بڑا زور تھا۔ پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی بھی حنبلی تھے۔ آج کل ان کے پیروکاروں کی تعداد گھٹ کر عرب کے علاقے نجد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ حنبلی علماء میں ابن تیمیہ کا شمار صف اول کے لوگوں میں کیا جاتا ہے۔

آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ [1]


مسلم آئمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی
ترتیب نام مکتبہ فکر پیدائش وفات تبصرہ
1 امام ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ (699ء) کوفہ 150ھ (767ء) بغداد فقہ حنفی
2 امام جعفر صادق اہل تشیع 83ھ (702ء) مدینہ منورہ 148ھ (765ء) مدینہ منورہ فقہ جعفریہ
3 امام مالک اہل سنت 93ھ (712ء) مدینہ منورہ 179ھ (795ء) مدینہ منورہ فقہ مالکی ، موطا امام مالک
4 امام شافعی اہل سنت 150ھ (767ء) غزہ 204ھ (819ء) فسطاط فقہ شافعی
5 امام احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ (781ء) مرو 241ھ (855ء) بغداد فقہ حنبلی ، مسند احمد بن حنبل
6 امام بخاری اہل سنت 194ھ (810ء) بخارا 256ھ (870ء) سمرقند صحیح بخاری
7 امام مسلم اہل سنت 206ھ (821ء) نیشاپور 261ھ (875ء) نیشاپور صحیح مسلم

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ابوزھرہ ، احمد بن حنبل ص: 81-147