امام احمد بن حنبل

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابوحنیفہامام شافعی
امام مالکامام احمد بن حنبل

فقہ اربعہ

فقہ حنفیفقہ شافعی
فقہ مالکیفقہ حنبلی

تقسیم بلحاظ تقلید

احنافشوافع
مالکیحنابلہ
غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح

780ء کو پیدا ہوئے اور 855ء کو وفات پائی۔ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے (مسند) کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ امام شافعی کی طرح امام احمد بن حنبل کی مالی حالت بھی کمزور تھی۔ لوگ انہیں بے شمار تحائف اور ہدیہ پیش کرتے لیکن آپ اپنے اوپر اس میں سے کچھ بھی نہ صرف کرتے سب کچھ بانٹ دیتے ۔

خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور نماز جنازہ پڑھی۔ عباسی خلافت کے آخری دور میں فقہ حنبلی کا بڑا زور تھا۔ پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی بھی حنبلی تھے۔ آج کل ان کے پیروکاروں کی تعداد گھٹ کر عرب کے علاقے نجد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ حنبلی علماء میں ابن تیمیہ کا شمار صف اول کے لوگوں میں کیا جاتا ہے۔

آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ [1]

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہاتھا :تین چیزوں کی کوئی اصل نہیں۔تفسیر، ملاحم اور مغازی۔
حافظ عراقی کا ایک شعر ہے: ولیعلم الطالب السیر۔۔۔۔۔۔۔ تجمع ماقد صح وماقد انکر :طالب علم کو جاننا چاہیے کہ سیرت کی کتب میں صحیح رویتیں بھی جمع کی جاتی ہیں اور غیر صحیح روایتیں بھی ۔ مثلاً طبرانی وغیرہ میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ ابو امامہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہتے ہوے سنا کہ اللہ نے جنت میں مریم بنت عمران ، موسی کی بہن کلثم اور فرعون کی عورت آسیہ کو میری بیوی بنایاہے۔ مذہبی داستان گوئی قدیم زمانہ سے لوگوں کا ذوق رہاہے۔ اس قسم کے لوگوں نے بے شمار بے بنیاد قسم کے قصے کہانیاں گڑھے اور ان کو سیرت کے نام پر بھیلادیا۔ یہ بے بنیاد قصف اسلامی کتب میں شامل ہوگئے اور واعظوں نے ان کو بیان کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ وہ اتنا زیادہ شائع ہوگئے کہ ان کوختم کرنا ہی ممکن نہ رہا۔ محقق علماء نے موضوعات حدیث کے بارہ میں نہایت قیمتی کتب لکھی ہیں ۔ قدیم کتب کے علاوہ موجو دہ زمانہ میں لکھی جانے والی کتب میں سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانیRAHMAT.PNG نہایت مفید کتاب ہے۔ [2]

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ ابوزھرہ ، احمد بن حنبل ص: 81-147
  2. ^ مولانا وحید الدین خان ، ڈائری جلد اول(1983-1984) ، ص:37