امام بری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Suspected hoax اس مضمون کی غیرجانبداری اور/ یا اس میں شامل معلومات کی صحت شکوک سے بالاتر نہیں.


سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق قادری سلسلہ سے ہے[حوالہ درکار]آپ بری امام کے لقب سے زیادہ مشہور ہیں آپ کا دربار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پور شاہاں میں واقع ہے جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں

مقالات بہ سلسلۂ مضامین
تصوف
Allah.svg
تصوف کی تاریخ

عقائد و عبادات
خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نمـاز · روزہ · حج · زکوٰۃ
صوفي شخصیات
اویس قرنی · عبدالقادر جيلانی
رابعہ بصری · سلطان باہو · حسن بصری · ابن عربی· مولانا رومی
نظام الدین اولیاء
تصوف کی معروف کتابیں
احياء علوم الدين · کشف المحجوب · مكتوبات الرباني · مکاشفة القلوب · القول الجمیل فی بیان اسوالسبیل
صوفی مکاتبِ فکر
سنی صوفی · شـیعہ صوفی
سلاسلِ طریقت
قادریہ · چشتیہ · نقشبندیہ
سہروردیہ · مجددی · قادری سروری
قادری المنتہی
علمِ تصوف کی اصطلاحات
طریقت · معرفت · فناء · بقاء · لقاء
سالک · شیخ · طریقہ · نور · تجلی
وحدت الوجود · وحدت الشہود
مساجد
مسجد الحرام · مسجد نبوی
مسجد اقصٰی
تصوف کی نسبت سے معروف علاقے
دمشق · خراسان · بیت المقدس
بصرہ · فاس

والدین[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے والد کا نام سید محمود شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ ہے سید محمود شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کا دربار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر واقع ہے[حوالہ درکار]

حالات بچپن[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ ( 1617) عیسوی اور (1026) ھجری میں چکوال کے ایک گاؤں کرسال میں پیدا ہوئے سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے والد سید محمود شاہ کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنے پورے خاندان سمیت ہجرت کر کے باغان گئے جو اب آبپارہ کے نام سے مشہور ہے[حوالہ درکار]

پرورش[ترمیم]

تعلیم[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ غورغستی (اٹک) گئے جہاں پر دو سال قیام کے دوران آ پ نے فقہ، حدیث، منطق، ریاضی اور علم طب کے متعلق سیکھا کیوں کہ اس دور میں غور غستی (اٹک)علم کا مرکز جانا جاتا تھا[حوالہ درکار]

مرشد[ترمیم]

شادی[ترمیم]

کرامات[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ بچپن میں مویشی چرایا کرتے تھے ایک بار آپ مویشی چرانے لے کر گئے آپ نے مویشیوں کو کھلا چھوڑ دیا کھ مویشی چر لیں اور خود درخت کے نیچے آرام کرنے لگے آپ کے مویشی چرتے ہوئے کھیتوں میں گھس گئے اور فصل کو نقصان پہنچایا آپ مویشی لے کرواپس آ گئے اتنے میں کھیت کا مالک بھی آ پہنچا اس نے آپ کے والد صاحب کو شکایت لگائی کہ آپ کے مویشیوں نے میری فصل تباہ کر دی ہے اور میرے پاس چشم دید شواہ بھی موجود ہیں جنہوں نے خود مویشیوں کو کھیت میں گھس کر فصل کو تباہ کرتے دیکھا اس پرسید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ فصل کو کسی نے تباہ نہیں کیا فصل بالکل ٹھیک ہے یہ سن کر کھیت کا مالک نے آپ کے والد صاحب سے کہا کہ آپ خود جا کر کھیتوں کی حالت دیکھیں جب آپ کے والد صاحب کھیتوں میں پہنچے تو وہاں کا نظارہ کچھ اور تھا کھیت لہلہا رہے تھے اور فصلیں بھی بالکل ٹھیک تھیں یہ نظارہ دیکھ کہ کھیت کا مالک حیران رہ گیا کہ اس نے جب دیکھا اس وقت کھیتوں کی حالت اور تھی اور اب اور ہے کھیت کا مالک اپنی بات پر پشیمان ہوا اور معافی مانگ کر واپس چلا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آ پ پیدائشی ولی تھے[حوالہ درکار]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ ایک بار پتھر پر بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے کہ اس علاقے سے بادشاہ وقت اورنگزیب عالمگیر کا اپنی فوج کے ساتھ گزر ہوا رات ہونے کی وجہ سےاورنگزیب عالمگیر نے فوج کو پڑاؤ کا حکم دیا اور لنگر کی تیاری کا بھی حکم دیا جب لنگر تیار ہوا تواورنگزیب عالمگیر نے حکم دیا کہ تمام علاقے کی عوام کو بھی کھانے میں شرکت کی دعوت دی جاۓ حکم کے مطابق لوگ کھانے کے لیے آ گئے اور کھانا شروع کر دیا اس اثنا میں چند سپاہی اورنگزیب عالمگیر کے پاس حاضر ہوئے اور شکایت لگاتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے آپ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے یہ سن کر اورنگزیب عالمگیر برہم ہوا اور بولا کہ جاؤ اور دوبارہ انہیں ہمارا حکم سناؤ سپاہی چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد جب لوٹے تو انہوں نے دوبارہ وہی جواب دیاجسے سن کر اورنگزیب عالمگیر نے سپاہیوں سے کہا کہ ہم خود جا کر اس شخص کو ملنا چاہتے ہی جب اورنگزیب عالمگیر سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ کےپاس پہنچا تو تہکمانا انداز میں سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ سے مخاطب ہوا ”کیا وہ تم ہی ہوجس نے ہمارا حکم ماننے سے انکار کیا“سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا ”ہاں وہ میں ہی ہوں“اس پر اورنگزیب عالمگیر بولا ”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم بادشاہ وقت ہیں اور تم ہماری جاگیر میں موجود ہو“سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا ”تم جو بھی ہو جاگیر صرف اللہ کی ہے اور اگر تمھیں جاگیر دیکھنے کا بہت شوق ہے تو ہمارے ساتھ اس پتھر پر بیٹھو “ جب اورنگزیب عالمگیر بیٹھا تو اسے اپنے چاروں طرف ہیرے جواہرات سے بنا دربار نظر آیا اور وہ پتھر جس پرسید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے تھے وہ ایک بہت خوبصورت تخت کی صورت میں نظر آیا “ تواورنگزیب عالمگیر سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ سےبولا”مجھے معاف کیجۓ گا میں آپ کو نہیں پہچان پا یا تھا اس لیے آپ سے گستاخی کر بیٹھا تھا “یہ سن کرسید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اورنگزیب عالمگیر کو معاف کیا اوراس کے حق میں دعا بھی فرمائی[حوالہ درکار]

سیرو سیاخت[ترمیم]

سید عبدالطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا جن میں کشمیر، بدخشاں، بخارا ، مشہد، بغداد اور دمشق شامل ہیں آپ حج کی غرض سے مکہ مکر مہ بھی گئے[حوالہ درکار] i dont know about it is it writ or wrong if he did preachs of islam then why the peoples all doing sajda to him why peoples cant iunderstan ohelp coms only from ALLAH

اشاعت اسلام[ترمیم]

سید عبد لطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے نور پور شاہاں میں قیام کے دوران اسلام کی تعلیمات کے ذریعے لا تعداد ہندوؤں کے دلوں میں اسلام کی شمع کو روشن کیا [حوالہ درکار]

لوہی دندی، نيلآن بہوتو==چلہ گاہیں ==

مزار[ترمیم]

آپ کا دربار پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پور شاہاں میں واقع ہے جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں آپ کا دربار اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دور حکومت میں تیار کروایا[حوالہ درکار]

مریدین[ترمیم]