امام مسلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسلم ابن الحجّاج
مکمل نام ابو الحسین مسلم ابن الحجّاج القشیری النیشاپوری
پیدائش 821ء بمطابق 206ھ
نیشاپور ، خراسان
وفات 875ء بمطابق 261ھ
نیشاپور ، خراسان
عہد اسلامی عہد زریں
مکتبہ فکر اہلسنت - فقہ شافعی
شعبہ عمل حدیث
تصانیف صحیح مسلم
مؤثر شخصیات امام احمد بن حنبل ، امام بخاری


حضرت امام مسلم کے مختصر حالات زندگی[ترمیم]

حضرت امام مسلم محدثین کرام میں جو بلند پایہ رکھتے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ علمائے اسلام کا اگرچہ فیصلہ ہے کہ قرآن مجید کے بعد پہلا مرتبہ صحیح بخاری شریف کا ہے اور پھر صحیح مسلم شریف کا ، جس سے صحیح مسلم کے جامع حضرت امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کی عظمت کا کافی اندازہ ہو جاتا ہے لیکن بعض علما کا خیال یہ بھی ہے کہ صحیح مسلم شریف کا درجہ اگر صحیح بخاری شریف سے بلند نہیں تو مساوی ضرور ہے کیونکہ صحیح مسلم شریف کی احادیث کافی تحقیقات کے بعد جمع کی گئی ہیں اور بعض اعتبارات سے تحقیقات میں حضرت امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کا درجہ امام بخاری سے بڑھا ہوا ہے۔ بہر نوع حضرت امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کا پایہ محدثین کرام رحمہم اللہ میں اس قدر بلند ہے کہ اس درجہ پر امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے سوا کوئی دوسرا محدث نہیں پہنچا اور ان کی کتاب صحیح مسلم شریف اس قدر بلند پایہ کتاب ہے کہ صحیح بخاری کے سوا کوئی کتاب اس کے سامنے نہیں رکھی جا سکتی۔

خاندان اور سلسلہ نسب ، پیدائش اور وفات[ترمیم]

حضرت امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری بن دردین تھا۔ ابولحسین آپ کی کنیت تھی اور عساکر الدین لقب تھا۔ قبیلہ بنو قشیر سے آپ تعلق رکھتے تھے جو عرب کا ایک مشہور خاندان تھا اور خراسان کا مشہور شہر نیشاپور آپ کا وطن تھا۔ حضرت امام مسلم ۲۰۳ ھ یا ۲۰۶ میں باختلاف اقوال پیدا ہوئے لیکن اکثر علما اور مؤرخین کی تحقیق یہ ہے کہ آپ کا سنہ ولادت ۲۰۶ ھ زیادہ معتبر ہے۔ حضرت امام نووی شارح صحیح مسلم لکھتے ہیں کہ حضرت امام مسلم ۲۰۶ میں پیدا ہوئے ، ۵۵ سال کی عمر پائی اور ۲۴ رجب ۲۶۱ ھ کو اتوار کے دن شام کے وقت وفات پائی اور نیشاپور میں دفن ہوئے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

حضرت امام مسلم نے والدین کی نگرانی میں بہترین تربیت حاصل کی اور اس پاکیزہ تربیت ہی کا یہ اثر تھا کہ ابتدائے عمر سے آخری سانس تک آپ نے پرہیزگاری اور دینداری کی زندگی بسر کی، کبھی کسی کو اپنی زبان سے برا نہ کہا یہاں تک کہ کسی کی غیبت نہیں کی اور نہ کسی کو اپنے ہاتھ سے مارا پیٹا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے نیشاپور میں حاصل کی۔ آپ کو اللہ تعالٰی نے غیر معمولی ذکاوت و ذہانت اور قوت حافظہ عطا کی تھی کہ بہت تھوڑے عرصہ میں آپ نے رسمی علوم و فنون کو حاصل کر لیا اور پھر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم و تحصیل کی جانب توجہ کی۔

مسلم آئمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی
ترتیب نام مکتبہ فکر پیدائش وفات تبصرہ
1 امام ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ (699ء) کوفہ 150ھ (767ء) بغداد فقہ حنفی
2 امام جعفر صادق اہل تشیع 83ھ (702ء) مدینہ منورہ 148ھ (765ء) مدینہ منورہ فقہ جعفریہ
3 امام مالک اہل سنت 93ھ (712ء) مدینہ منورہ 179ھ (795ء) مدینہ منورہ فقہ مالکی ، موطا امام مالک
4 امام شافعی اہل سنت 150ھ (767ء) غزہ 204ھ (819ء) فسطاط فقہ شافعی
5 امام احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ (781ء) مرو 241ھ (855ء) بغداد فقہ حنبلی ، مسند احمد بن حنبل
6 امام بخاری اہل سنت 194ھ (810ء) بخارا 256ھ (870ء) سمرقند صحیح بخاری
7 امام مسلم اہل سنت 206ھ (821ء) نیشاپور 261ھ (875ء) نیشاپور صحیح مسلم