محمد مہدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد المہدی
المہدی، القائم، المنتظم، صاحب الزمان
معظم در اسلام
علامات خروج دجال، سفیانی کا خروج، بغداد اور بصرہ کی تباہی
نسب محمد بن عبد اللہ


امام مہدیRAHMAT.PNG کا تصور اسلام میں احادیث کی بنیادوں پر امت مسلمہ اور تمام دنیا کے نجات دہندہ کی حیثیت سے پایا جاتا ہے؛ اور سنیوں میں ان کے آخرت یا قرب قیامت کے نزدیک نازل ہونے کے بارے میں متعدد روایات پائی جاتی ہیں جبکہ شیعوں کے نزدیک حضرت امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری کے فرزند اور اہلِ تشیع کے آخری امام ہیں۔ حضرت امام مہدیRAHMAT.PNG وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشادات تمام مستند کتب مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ میں ملتے ہیں۔ حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف ہے کہ آیا وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مہدیRAHMAT.PNG اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کرکے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں بھی ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدیRAHMAT.PNG ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی تفصیل حدیث میں موجود ہے پھر بھی اب تک مہدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔ سچے مہدی کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا نہ دعوی کریں گے نہ اعلان۔

ایک حدیث کے الفاظ ہیں۔

اگر دنیا کی عمر ختم ہو گئی ہو اور قیامت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو تو خدا اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ اس میں میرے اھلِ بیت میں سے ایک شخص کی حکومت قائم ہو سکے گی جو میرا ہم نام ہوگا ۔ وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ [1][2]

یهودی امام مهدی دجال کو بناکر پیش کرنے میں کافی حد تک کامیاب هوچکے هیں.

امام مہدی کا وجود[ترمیم]

امام مہدی کا تصور اسلام سے پہلے بھی قدیم کتب میں ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، عیسائی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں ایک انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ یہ تصور مسلمانوں میں اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ امام مہدیRAHMAT.PNG کے وجود کے بارے میں اسلامی کتب میں صراحت سے احادیث ملتی ہیں جو حد تواتر تک پہونچتی ہیں۔

عقیدہ اہل سنت[ترمیم]

اہل سنت کے علما کے مطابق امام مہدیRAHMAT.PNG حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے ہوں گے۔ ان کا نام محمد ہوگا اور کنیت ابو القاسم ہوگی۔ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے مگر پیدا ہونے کے بعد وہ باقاعدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر کفار و مشرکین سے جنگ کریں گے اور ایک اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ ان کی پیدائش قیامت کے نزدیک ہوگی۔ اور ان کا ظہور مشرق سے ہوگا اور بعض روایات کے مطابق مکہ سے ہوگا۔ ان کے ظہور کی نشانیاں بھی کثرت سے بیان کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل احادیث اہل سنت کی کتب میں موجود ہیں۔ جن پر شیعہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔

  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میرے اہل بیت سے ہیں۔ [3]
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی فاطمہ (علیہا السلام) کی نسل سے ہیں۔ [4] ۔ [5] ۔ [6]
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہدی میرے خاندان سے ہیں۔ وہ انقلاب لائیں گے۔ اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جیسے وہ ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی۔ [7]۔ [8]

اس کے علاوہ بے شمار احادیث ہیں۔ اس بارے میں ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ یہ روایات مصدقہ ہیں۔ [9]

عقیدہ اہل تشیع[ترمیم]

شیعہ حضرات اہل سنت کی روایات سے اتفاق کرتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوچکے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے تھے یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے ہیں ۔ وہ اب غیبت میں ہیں مگر زندہ ہیں یعنی ان کی عمر حضرت خضر علیہ السلام کی طرح بہت لمبی ہے۔ وہ قیامت کے نزدیک ظاہر ہونگے۔ اہل سنت کی کتب کے اوپر دیے گئے تمام حوالوں سے اہل تشیع متفق ہیں۔

امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مشہور علما کی کتابیں[ترمیم]

احادیث کی کتب میں تواتر کے علاوہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں کئی مشہور علما نے مکمل کتب تحریر کی ہیں جن کا تعلق اہل سنت کے مختلف مکتبہ فکر سے ہے۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

  • کتاب المھدی از امام ابو داود
  • علامات المھدی از جلال الدین السیوطی
  • القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر از ابن حجر
  • البیان فی اخبار صاحب الزمان از علامہ ابو عبداللہ ابن محمد یوسف الشافعی
  • مھدی آل رسول از علی ابن سلطان محمد الھراوی الحنفی
اردو میں

حالات[ترمیم]

ولادت[ترمیم]

ولادت کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے مطابق امام مہدیRAHMAT.PNG کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اور یہ پیدائش آخری زمانے میں قیامت سے کچھ پہلے ہوگی۔ البتہ ان کا تعلق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے ہوگا۔ ان کا نام محمد ہوگا۔ اور کنیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ابو القاسم ہوگی۔

اہل تشیع کے عقائد کے مطابق وہ 15 شعبان 256 ہجری کو سامرا (موجودہ عراق) میں پیدا ہوئے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور والدہ کا نام نرجس یا ملیکہ تھا جو قیصرِ روم کی نسل سے تھیں۔ ان کی پیدائش سے پہلے حاکم وقت نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا اس لیے ان کی پیدائش کا زیادہ چرچا نہیں کیا گیا۔ حاکم وقت نے ان احادیث کو سن رکھا تھا کہ اہل بیت سے بارہ امام ہوں گے جن میں سے آخری امام مہدی علیہ السلام ہوں گے جو حکومت قائم کریں گے۔ تمام اسلامی فرقے متفق ہیں کہ ان کا نام محمد اور کنیت ابو القاسم ہوگی۔

القاب و خطابات[ترمیم]

حوالوں میں دی گئی قدیم کتب میں ان کے کئی القاب ملتے ہیں۔ جن میں سے مہدی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کا اصل نام محمد ہے مگر مہدی اس قدر مشہور ہے کہ اسے ہی ان کے نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے القاب و خطابات یہ ہیں:

  • مہدی : ہدایت پائے ہوئے۔
  • القائم : کھڑا ہونے والا۔ یہ لقب اوپر دی گئی حدیث میں ہے جس میں ان کے بارے میں یہ لقب استعمال کیا گیا ہے۔
  • المنتظر : جن کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
  • صاحب الزمان : اہل تشیع کے مطابق وہ زمانے کے امام ہیں۔
  • امام عصر یا امامِ زمانہ : یہ بھی صاحب الزمان کے ہم معنی ہے۔

غیبت[ترمیم]

اہل تشیع کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی پیدا ہوچکے ہیں۔ وہ پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے مگر اپنے عمال یا نائبین کے ساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں۔ غیبتِ صغرٰی کے دوران وہ اپنے معاملات اپنے نائبین کے ذریعے چلاتے رہے۔ ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ 260ھ سے 329ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے جسے غیبت کبرٰی کہتے ہیں اس دوران انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق قیامت کے قریب ہوگا۔

علامات ظہور[ترمیم]

امام مہدیRAHMAT.PNG کے ظہور کی بے شمار علامات کتب اہل سنت اور اہل تشیع دونوں میں ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض پوری بھی ہو چکی ہیں۔ ان علامات میں سے کچھ حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی۔ حتمی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن کا بروایت پورا ہونا ضروری ہے۔ کچھ ان کے ظہور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہونگی اور کچھ ظہور کے نزدیک۔ یہاں ان میں سے کچھ درج کی جاتی ہیں۔

  • سب سے مشہور علامت دجال کا خروج ہے۔ جسے مغربی مفکرین ضد مسیح (Antichrist) کہتے ہیں۔ یہ ذکر تورات میں بھی ملتا ہے۔ [10]
  • سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق واقع ہونا۔
  • قواعد علم نجوم و فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور پندرہ کو سورج گرہن لگے گا۔ [11]
  • سفیانی کا خروج۔ یہ ابو سفیان کی اولاد سے ایک شخص ہوگا اور ماں کی طرف سے بنو کلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا۔ اس کا پورا لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔ بیداء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ [12][13][14]
  • مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا۔ [15](یه نشانی صحابه کے زمانه میں پوری هوچکی)
  • بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا۔ اور عراق پر روپے اور غلہ کی پابندی لگنا۔ [15][16]

ظہور کے بعد[ترمیم]

  • امام مہدیRAHMAT.PNG کا ظہور مکہ مکرمہ سے ہوگا اور لوگ رکن و مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کریں گے۔ [16]
  • حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور وہ امام مہدیRAHMAT.PNG کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ [16][17][18]
  • دجال کا قتل ہوگا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔ [16]

بیرونی روابط[ترمیم]

متعلقہ مضامین[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ صحیح ترمذی ۔ جلد 2 صفحہ 86
  2. ^ سنن ابی داود۔ جلد 2 صفحہ 7
  3. ^ سنن ابن ماجہ۔ جلد 2 حدیث نمبر 4085
  4. ^ سنن ابن ماجہ۔ جلد 2 حدیث نمبر 4086
  5. ^ النسائی اور البیہقی
  6. ^ الصواعق المحرقہ از ابن الحجر الیہثمی باب 11
  7. ^ مسند احمد بن حنبل جلد 1
  8. ^ مقدمہ از ابن خلدون
  9. ^ منہاج السنۃ ۔ جلد چہارم از ابن تیمیہ
  10. ^ صحیح مسلم۔ حدیث 7039
  11. ^ اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد یوسف۔ جامعہ اشرفیہ از حوالہ ابن حجر مکی
  12. ^ کتاب الفتن صفحہ 190
  13. ^ اسلام میں امام مہدی کا تصور از مولانا محمد یوسف۔ جامعہ اشرفیہ
  14. ^ سنن ابو داود۔ جلد 2 صفحہ 589
  15. ^ 15.0 15.1 مستدرک الحاکم جلد 4 صفحہ 456
  16. ^ 16.0 16.1 16.2 16.3 الخليفة المھدى فی الاحادیث الصحیحۃ از سید حسین احمد مدنی۔
  17. ^ صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 490
  18. ^ صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 87

(مراجع)