محمد امجد علی اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امجد على اعظمى سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی

امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری کا مزار
اہم شخصیات

فضل حق خیر آبادی · رضا علی خان
سید کفایت علی کافی ·
نقی علی خان
امام احمد رضا خان
جماعت علی شاہ محدث ·
سید جماعت علی شاہ ثانی
امجد على اعظمى ·
پير مہر علی شاہ
نعیم الدین مراد آبادی ·
عبد العلیم صدیقی
مصطفی رضا خان ·
مفتی احمد یار خاں نعیمی
مفتی غلام جان قادری ·
یار محمد بندیالوی
محمد سردار احمد قادری ·
حامد رضا خان
ارشد القادری ·
احمد سعید کاظمی
صاحبزادہ فضل کریم ·
محمد شفیع اوکاڑوی
سید شجاعت علی قادری ·
قمر الزمان اعظمى
قاری غلام رسول ·
شہید محمد سلیم قادری
حسن رضا خان ·
مفتی محمد امین
مولانا شاہ احمد نورانی ·
محمد اختر رضا خان قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری ·
ابو البرکات احمد
سرفراز احمد نعیمی شہید ·
عبدالقیوم ہزاروی
فیض احمد اویسی ·
محمد ارشد القادری
محمد خان قادری ·
مفتی منیب الرحمان
اشرف آصف جلالی ·
محمد اسحاق جان سرہندی
قاری سید صداقت علی ·
محمد الیاس قادری
مشتاق قادری ·
کوکب نورانی اوکاڑوی
راغب حسین نعیمی ·
ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
محمد عمران عطاری

اہم ادارے

جامعہ رضویہ منظر اسلام, بھارت
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان
فیضان مدینہ، پاکستان
جامعہ اسلامیہ لاہور, پاکستان
جامعہ اسلامیہ رضویہ, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ شیخوپورہ, پاکستان
جامعہ نعیمیہ لاہور, پاکستان
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان

تحریکیں

جنگ آزادی ہند 1857ء
آل انڈیا سنی کانفرنس
جمیعت علمائے پاکستان
تحریک ختم نبوت
دعوت اسلامی
تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی دعوت اسلامی
سنی تحریک
ورلڈ اسلامک مشن

صدر الشريعه مفتى محمد امجد على اعظمى (نومبر 1882ء تا 6 ستمبر، 1948ء) ایک مسلم اسلامی قانون دان، مصنف اور سابق مفتی اعظم ہند تھے آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری فاضلِ بریلوی کے ایک خاص شاگرد اور تصوف میں ان کے خلیفہ تھے۔ چونکہ اعلی حضرت انگریز کی کچہری کو عدالت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے لہٰذا آپ نے مفتی امجد علی اعظمی کو صدر الشريعہ کا لقب دیا اور انہیں پورے ہندوستان کے لیے قاضی مقرر فرمایا۔ مفتی امجد علی بھارت محلہ کریم الدین پور، قصبہ گھوسی، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش، بھارت میں، 1882ء (1300 ھ) کو پیدا ہوئے۔آپ کی ایک اہم ترین تصنیف جو عوام و خواص میں مقبول ہے "بہار شریعت" ہے۔

مفتى محمد امجد على اعظمى
مکمل نام محمد امجد على
پیدائش نومبر، 1882ء
اعظم گڑھ، اتر پردیش، بھارت
وفات 6 ستمبر، 1948ء
عہد جدید دور
مکتبہ فکر اہلسنت والجماعت (بریلوی - حنفی)
شعبہ عمل قرآن، حدیث، فقہ، تصوف، تاریخ، فتاویٰ نویسی
تصانیف بہار شریعت
مؤثر شخصیات ابو حنیفہ ، احمد رضا خان، احمد سرہندی


نام و نسب[ترمیم]

آپ کا پورا نام محمد امجد علی ہے۔ والد ماجد کا نام مولانا حکیم جمال الدین، دادا کانام مولانا خدا بخش اور پردادا کا نام مولانا خیر الدین تھا۔ ان کے والد ماجد اور جد امجد فن طب اور علم و فضل میں باکمال تھے۔

تعلیم[ترمیم]

آپ نے ابتدائی کتابیں جدامجد سے پڑھیں اس کے بعد اپنے چچرے بھائی مولانا محمد صدیق صاحب سے علوم فنون کی ابتدائی کتابیں پڑھ کر انہیں کے مشورہ سے مولانا ہدایت اللہ خاں رام پوری سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسہ حنفیہ جون پور میں داخل ہوئے۔ علوم و فنون کی تکمیل کے بعد مولانا وصی احمد محدث سورتی سے مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں حاضر ہوئے اور حدیث کا درس لیا اور 1330ھ/1902ء میں سند حاصل کی۔ 1323ھ میں حکیم عبد الولی چھوائی ٹولہ لکھنو سے علم طب حاصل کیا۔ 1324ھ سے 1327ھ تک مولانا وصی احمد سورتی کے مدرسہ میں درس دیا اس کے بعد ایک سال تک پٹنہ میں طب کا کام کیا بعد میں اپنے استاد مولانا وصی احمد سورتی کے کہنے پر طب کا کام چھوڑ کر امام اہل سنت اعلی حضرت مولانااحمد رضا خان بریلوی کے مدرسہ مظہر اسلام بریلی میں درس و تدریس کا کام انجام دینے لگے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی کی صحبت میں رہ کر ان کے علم میں وسعت پیدا ہوئی اور اس وقت کے فقیہوں میں ان کا شمار ہونے لگا۔


قوت حافظہ[ترمیم]

مولانا امجد علی بڑے ذہین تھے ذاتی اور خداداد خوبیوں کا یہ عالم تھا کہ خود فرماتے ہیں: ”کسی کتاب کا یاد کرنے کی نیت سے تین دفعہ دیکھ لینا کافی ہوتا تھا۔“ حافظہ کی یہ قوت خدا کسی کسی کو بخشتا ہے ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ زمانہ طالب علمی ہی سے وہ اپنی علمی صلاحیتوں کی داد حاصل کرتے آئے اور آخر عمر تک خراج تحسین حاصل کیا۔

درس و تدریس[ترمیم]

انہوں نےایک لمبے عرصے تک مدرسہ منظر اسلام بریلی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے اور 1924ء میں صدر المدرسین کی حیثیت سے دار العلوم معینیہ عثمانیہ اجمیر (راجستھان) چلے گئے۔ 1932ء میں پھر بریلی واپس آئے اور کچھ دنوں کے بعد نواب حاجی غلام محمد خاں شروانی رئیس ریاست دادوں، علی گڑھ کی دعوت پر مدرس اول کی حیثیت سے دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ میں ان کا تقرر ہوا جہاں سات سال تک بحسن و خوبی درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اس کے بعد ایک سال مظہر العلوم کچی باغ، بنارس میں بھی رہے۔ پھر آخر کار 1945ء تک منظر اسلام بریلی میں درس دیا اور پوری زندگی درس و تدریس کی نظر ہوئی۔ فروری 1926ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصاب کی تشکیل کے سلسلہ میں جن اہم مدرسین سے رابطہ قائم کیا گیا ان میں مولانا صاحب کا بھی نام تھا۔

درس و تدریس[ترمیم]

انہوں نے ابتدا ہی سے درس کا اہم فریضہ اپنے لیے چنا اور اسی پیشہ کو اپنی نجات سمجھا۔ ایک لمبے عرصے تک مدرسہ منظر اسلام بریلی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے اور 1924ء میں صدر المدرسین کی حیثیت سے دار العلوم معینیہ عثمانیہ اجمیر (راجستھان) چلے گئے۔ 1932ء میں پھر بریلی واپس آئے اور کچھ دنوں کے بعد نواب حاجی غلام محمد خاں شروانی رئیس ریاست دادوں، علی گڑھ کی دعوت پر مدرس اول کی حیثیت سے دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ میں ان کا تقرر ہوا جہاں سات سال تک بحسن و خوبی درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے اس کے بعد ایک سال مظہر العلوم کچی باغ، بنارس میں بھی رہے۔ پھر آخر کار 1945ء تک منظر اسلام بریلی میں درس دیا اور پوری زندگی درس و تدریس کی نظر ہوئی۔ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی نے جو ایک زمانہ میں حیدرآباد دکن میں صدر امور مذہبی رہ چکے تھے 1356ھ کے سالانہ جلسہ امتحان کے موقع پر اپنی تقریر میں مولانا امجد علی صاحب کی مہارتِ درس اور تبحر علمی کا اعتراف کیا اور کہا کہ ”مولانا امجد علی صاحب پورے ملک میں ان چار پانچ مدرسین میں ایک ہیں جنہیں میں منتخب جانتا ہوں۔“

غرض کہ مولانا امجد علی صاحب مختلف درس گاہوں کے تجربہ کار عالم تھے۔ جدید ضرورتوں سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ نصاب تعلیم کابھی انہیں بخوبی تجربہ تھا اسی لیے فروری 1926ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصاب کی تشکیل کے سلسلہ میں جن اہم مدرسین سے رابطہ قائم کیا گیا ان میں مولانا صاحب کا بھی نام تھا۔ ان کا شمار ان کے دور کے اعلیٰ پایہ کے اساتذہ میں ہوتا تھا۔ درس کے لیے جن خوبیوں کو اہم مانا جاتا ہے وہ مولانا کا شعائر زندگی بن گئی تھیں۔ حدیث و تفسیر کے علاوہ مختلف علوم و فنون کا درس بھی اس طرح دیتے کہ طلباء بخوبی سمجھ جاتے۔

خطابت[ترمیم]

مولانا امجد علی صاحب جہاں ایک باکمال مدرس اور خطیب تھے وہیں اعلیٰ مرتبہ مصنف بھی تھے۔ ان کی زبان سادہ، سہل اردو زبان تھی۔ انہوں نے اسلام کی خوب اشاعت کی اور اجمیر کے زمانہ قیام میں نومسلم راجپوتوں میں تبلیغ کا کام بھی بخوبی انجام دیا۔مولانا امجد علی صاحب کی تقریر خالص علمی مضامین اور قرآن و حدیث کی تفسیر و تفصیل پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ فقہی جزئیات نوک زبان پر رہتی تھی ان ہی خصوصیات کی بنا پر مولانا احمد رضا خاں نے ان کو ”صدر الشریعہ“ کا لقب دیا۔

اصلاح احوال[ترمیم]

مولانا امجد علی صاحب کی تقریر خالص علمی مضامین اور قرآن و حدیث کی تفسیر و تفصیل پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ فقہی جزئیات نوک زبان پر رہتی تھی ان ہی خصوصیات کی بنا پر مولانا احمد رضا خاں نے ان کو ”صدر الشریعہ“ کا لقب دیا۔

اجمیر کے قرب و جوار میں راجہ پرتھوی راج کی اولاد تھی جو اگرچہ مسلمان ہوچکی تھی لیکن ان میں فرائض و واجبات سے غفلت اور مشرکانہ رسوم بہت زیادہ پائی جاتی تھیں۔ مولانا امجد علی صاحب کے ایماء پر ان کے شاگردوں نے ان میں تبلیغ کا پروگرام بنایا تبلیغی جلسوں کا خوشگوار اثر ہوا، اور ان لوگوں میں مشرکانہ رسوم سے اجتناب اور دینی اقدار اپنانے کا جذبہ پیدا ہوگیا اس کے علاوہ اردگرد کے بڑے شہروں اور قصبات مثلاً نصیر آباد، لاڈنوں، جے پور، جودھپور، پالی مارواڑ اور چتوڑ وغیرہ میں بھی خود مولانا اور ان کے تلامذہ نے تبلیغی سرگرمیاں برابر جاری رکھیں۔ مولانا کی تقریر ایسی جامع اور مو ¿ثر ہوتی تھی کہ علماءاور مشائخ جھومتے اور داد تحسین دیتے تھے۔


تصنیف و تالیف[ترمیم]

مولانا امجد علی صاحب ایک صاحب قلم ادیب تھے حالانکہ دوسری مصروفیات کے مقابلے میں تصنیف و تالیف کا کام بہت نہیں ہوا لیکن جو کچھ بھی کام کیا وہ ان کی علمی صلاحیت اور اردو دانی پر بیّن ثبوت ہے۔ تلاش و تحقیق کے بعد ان کی جو تصانیف دستیاب ہوئیں ان کی تعداد 25 تک پہنچتی ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • (1) حاشیہ شرح معانی الآثار (قلمی نسخہ، زبان عربی)
  • (2) فتاویٰ امجدیہ جلد اول مطبوعہ الہ آباد، 1979ء (اردو)
  • (3) فتاوی امجدیہ جلد دوم مطبوعہ اکتوبر، 1983ء (اردو)
  • (4) اسلامی اخلاق و آداب مطبوعہ اکتوبر، 1986ء (اردو)
  • (5) بہار شریعت پہلا حصہ (اردو)
  • (6) بہار شریعت دوسرا حصہ (اردو)
  • (7) بہار شریعت تیسرا حصہ (اردو)
  • (8) بہار شریعت چوتھا حصہ (اردو)
  • (9) بہار شریعت پانچواں حصہ (اردو)
  • (10) بہار شریعت چھٹا حصہ (اردو)
  • (11) بہار شریعت ساتواں حصہ (اردو)
  • (12) بہار شریعت آٹھواں حصہ (اردو)
  • (13) بہار شریعت نواں حصہ (اردو)
  • (14) بہار شریعت دسواں حصہ (اردو)
  • (15) بہار شریعت گیارہواں حصہ (اردو)
  • (16) بہار شریعت بارہواں حصہ (اردو)
  • (17) بہار شریعت تیرہواںحصہ (اردو)
  • (18) بہار شریعت چودہواں حصہ (اردو)
  • (19) بہار شریعت پندرہواں حصہ (اردو)
  • (20) بہار شریعت سولہواں حصہ (اردو)
  • (21) بہار شریعت سترہواں حصہ (اردو)
  • (22) بہار شریعت آٹھارواں حصہ (اردو)
  • (23) بہار شریعت انیسواں حصہ (اردو)
  • (24) بہار شریعت بیسواں حصہ (اردو)
  • (25) اردو کا قاعدہ (بچوں کے لیے)

حاشیہ شرح معانی الآثار: مولانا امجد علی اعظمی نے امام ابو جعفر طحاوی (م321ھ) کی معرکۃ الآرا تصنیف ”شرح معانی الآثار“ پر حاشیہ لکھنا شروع کیا تھا۔ کثرتِ کار کے سبب یہ کام صرف پہلی جلد تک چل سکا مگر جتنا ہوا اس کی تفصیل یہ ہے کہ جلد اول کا نصف حاشیہ باریک قلم سے 450 صفحات پر مشتمل ہے اور ہر صفحہ میں 35،36 سطریں ہیںقادری منزل میں دائرة المعارف الامجدیہ گھوسی کے دفتر میں اس حاشیہ کا قلمی نسخہ موجود ہے انہوں نے دادوں ضلع علی گڑھ میں قیام کے دوران یہ حاشیہ عربی زبان میں لکھنا شروع کیا اور سات ماہ کی مختصر مدت میں نصف اول پر مبسوط حاشیہ لکھ دیا۔

فتاویٰ امجدیہ: دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے یہ مصنف کے ان فتاویٰ کا مجموعہ ہے جسے انہوں نے 7 ربیع الاول 1340 ھ سے لے کر 8 شوال 1367 ھ تک صادر کئے ہیں پہلی جلد کتاب الطہارت سے شروع ہوکر کتاب الحج پر ختم ہوتی ہے جو 403 صفحات پر مشتمل ہے دوسری جلد ”کتاب النکاح“ سے شروع ہوکر ”حدود و تعزیر کا بیان“ پر ختم ہوتی ہے یہ 341 صفحات پر مشتمل ہے۔

مولانا امجد علی صاحب سے مختلف زبانوں میں لوگوں نے سوال کئے اور فتوے پوچھے انہوں نے سفر میں، حضر میں، وطن میں اور باہر ہر جگہ بے شمار فتوے لکھے اور بیان کئے ان میں سے بعض اہم حصے دست برد زمانہ سے محفوظ نہ رہے لیکن آخر میں انہوں نے ایک یا دوجلدیں خاص کر اپنے فتاوی کے لیے سفید کاغذ کی تیار کرائیں اور اس میں اپنے فتاوے اندراج کرائے، اور ان فتاوے کی اکثر و بیشتر نقلیں مولانا سردار احمد (محدث پاکستان) کے ہاتھوں کی گئی ہیں۔ مولانا عبد المنان کلیمی فاضل اشرفیہ مبارکپور نے ان کو فقہی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا اور مولانا مفتی شریف الحق صاحب نے ان فتووں پر اپنے مفید حواشی کا اضافہ کیا۔ مولانا امجد علی کے یہ فتاوے دلائل و ترجیحات و عبارات فقہیہ پر مشتمل ہیں۔ ان فتاوے کی زبان نہایت سادہ ہے اور کم الفاظ میں زیادہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے جس کو بہت سراہا گیا اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔

بہار شریعت:

اصل مضمون: بہار شریعت

مولانا امجد علی اعظمی کی وہ کتاب جو دوسرے مصنفین کی جملہ تصانیف پر بھاری ہے وہ ان کی معرکۃ الآرا تصنیف ”بہار شریعت“ ہے اس کتاب کے سبب وہ زندہ جاوید ہوئے اس کتاب میں انہوں نے فقہ حنفی کو اردو قالب میں ڈھال کر وقت کی اہم ضرورت کو پورا کیا ہے اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں علماءعوام دونوں شامل ہیں مصنف فقہ اسلامی اور مسائل شرعیہ کو مکمل طور پر بیس جلدوں میں سمیٹنا چاہتے تھے مگر عمر نے ساتھ نہ دیا اور سترہ حصے لکھنے کے بعد دنیائے دار فانی سے 2 ذی قعدہ، 6ستمبر 1367ھ/1948ء دوشنبہ کو 12 بج کر 6 منٹ پر انتقال کر گئے اور وصیت کرگئے کہ اگر میری اولاد یا تلامذہ یا علمائے اہل سنت میں سے کوئی صاحب اس کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا ہے اس کو پورا کردیں۔ چنانچہ ان کے شاگرد اور دیگر علماءبہار شریعت کے باقی تین حصے 18،19،20 ضبط تحریر میں لاچکے ہیں جو چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں۔ مصنف کی وصیت کے مطابق یہ خیال رکھا گیا ہے اور اس میں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ مسائل کے مآخذ کتب کے صفحات کے نمبر اور جلد نمبر بھی لکھ دئیے ہیں تاکہ اہل علم کو مآخذ تلاش کرنے میں آسانی ہو اکثر کتب فقہ کے حوالہ جات نقل کردئیے ہیں جن پر آج کل فتوی کا مدار ہے حضرت مصنف کے طرز تحریر کو حتی الامکان برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فقہی موشگافیوں اور فقہا کے قیل و قال کو چھوڑ کر صرف مفتی بہ یعنی جس پر فتوی ہے اقوال کو سادہ اور عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔

بہار شریعت (حصہ 18) کے مصنف مولانا عبد المصطفیٰ ازہری شیخ الحدیث، مولانا وقار الدین نائب شیخ الحدیث و مولانا قاری محبوب رضا خاں بریلوی مفتی دار العلوم امجدیہ کراچی ہیں۔ اس کا موضوع جنایات (خون بہا، قصاص، اکسیڈنٹ وغیرہ) ہے۔ اس میں سنہ طباعت کا ذکر نہیں ہے اور نہ مطبع کا ذکر ہے البتہ ناشر کا نام قادری بک ڈپو، نومحلہ مسجد، بریلی ہے۔ اس کتاب میں صفحات 119 اور کل مسائل 658ہیں۔

بہار شریعت (19واں حصہ): یہ حصہ مطبوعہ ہے اس کے مصنف مولانا امجد علی کے شاگرد مولانا سید ظہیر احمد زیدی ہیں۔ اس کتاب کے 72صفحات ہیں۔ ابتدائے کتاب میں مولانا عبد المصطفی ازہری اور مولانا قاری رضاءالمصطفیٰ کے تذکرے تحریر ہیں۔ اس کے بعد مو ¿لف کتاب بہار شریعت 19واں حصہ ظہیر احمد زیدی کا ایک تعارف مکرمی جناب ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم (ہمدرد یونیورسٹی، نئی دلی) نے تحریر فرمایا ہے جس میں مصنف سے متعلق اپنے تاثرات، تجربات اور مشاہدات مختصر انداز میں بیان کئے ہیں پھر ایک مقدمہ ہے جسے مولف ہی نے قلمبند فرمایا ہے۔ مولف کی ص72 پر تحریر کے مطابق بہار شریعت 19واں حصہ کی تالیف مورخہ 29شوال 1400ھ مطابق 10ستمبر 980اءیوم چہارشنبہ اختتام کو پہنچی۔ اس کتاب میں کل 8احادیث اور 445 مسئلے ہیں وصایا کے مباحث پر یہ کتاب مشتمل ہے اس کا اختتام ذمی کی وصیت کے بیان پر ہوتا ہے۔

بہار شریعت (20واں حصہ): مولانا امجد علی صاحب کی حسب وصیت اس حصہ کے مصنف مولانا وقار الدین مفتی و نائب الشیخ الحدیث دار العلوم امجدیہ، کراچی ہیں۔ یہ مطبوعہ ہے اس کے 64 صفحات ہیں۔ یہ حصہ وراثت کے بیان میں ہے مسائل بیان کرنے سے پہلے بسلسلہ وراثت آیات قرآنی اور 17 احادیث مذکور ہیں تقریباً اس میں 172 مسائل کا بیان ہے۔ ان سب کے ناشر کا نام قادری بکڈپو، نو محلہ مسجد، بریلی ہے۔ ان میں سنہ طباعت اور مطبع کا ذکر نہیں ہے۔

مولانا امجد علی صاحب کی بہار شریعت کے سترہ حصوں کا تجزیہ اس طرح ہے۔ بہار شریعت پہلا حصہ: اس حصہ میں عقائد سے متعلق مباحث ہیں۔ کتاب میں 123 عقیدے بیان کئے گئے ہیں۔ جن مسائل پر گفتگو کی گئی ہے ان کی تعداد 125 ہے اہم عقیدوں کے سُرخیاں اس طرح ہیں۔

ذات و صفات باری تعالٰیٰ، عقائد نبوت، ملائکہ، جن، جنت و دوزخ، ایمان و کفر، امامت وولایت، عالم برزخ اور معاد و محشر وغیرہ۔ جہاں مصنف نے معاد و محشر کا ذکر کیا ہے۔ وہاں انہوں نے اس کے ضمن میں 28 نشانیاں شمار کرائی ہیں۔

بہار شریعت دوسرا حصہ: یہ کتاب، کتاب الطہارت کے ابواب و فصول پر مشتمل ہے۔ اس میں 189احادیث اور 262مسائل کا ذکر ہے۔ وضو، غسل، تیمم، حیض، نفاس، استحاضہ، موزوں پرمسح، نجاستوں اور استنجا کا بیان اس کے مباحث ہیں۔

اس حصہ کی تکمیل غالباً 1335ھ میں ہوئی اس کے آخر میں ایک ضمیمہ بھی ہے جو حقہ سے متعلق کئے گئے اعتراضات کا جواب ہے جس کے آخر میں اس دور کے جلیل القدر علماءکی تصدیقات بھی ہیں۔

بہار شریعت تیسرا حصہ: نماز جیسی اہم عبادت سے شروع ہوکر احکام مسجد کے بیان پر ختم ہوتی ہے اس میں کل 342، احادیث اور 842 مسائل ہیں۔ اس کے اہم مباحث اس طرح ہیں۔ نماز، وقت نماز، اذان، شرائط نماز، طریقہ نماز، مسئلہ درود، بعد نماز ذکر و دعا، تلاوت قرآن مجید، قرات میں غلطی، امامت، جماعت، مکروہات اور احکام مسجد وغیرہ، کتاب کے آخر میں مولانا احمد رضا بریلوی کی تقریظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب رمضان 1337ھ میں مکمل ہوئی۔

بہار شریعت چوتھا حصہ: اس کتاب میں وتر کا بیان، وتر کے فضائل، سنن و نوافل کا بیان، نماز استخارہ، تراویح کا بیان، قضا نماز کا بیان، سجدہ ¿ سہو، سجدہ ¿ تلاوت، نماز مسافر، نماز مریض، نماز جمعہ، نماز عیدین، نماز استسقائ، نماز خوف، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، قبرو دفن، تعزیت، شہید کا بیان وغیرہ جیسے اہم مسائل درج کئے گئے ہیں۔ اس کتاب میں کل 176احادیث اور 810 مسائل کا ذکر ہے۔ 1337ھ ہی میں غالباً یہ حصہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔

بہار شریعت پانچواں حصہ: اس کتاب کی ابتدا زکوۃ کے مسائل سے ہوتی ہے اور مسائلِ اعتکاف پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ اس میں 253احادیث اور 530 مسائل ہیں۔

بہار شریعت چھٹا حصہ: اس حصہ میں 115احادیث اور 475 مسائل ہیں یہ حصہ حج کے فضائل و مناسک پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں حج کے جن مسائل کی سرخی قائم کی گئی ہے اس کی ترتیب اس طرح ہے۔ حج کا بیان، میقات کا بیان،احرام کا بیان، داخلی حرم محترم و مکہ مکرمہ و مسجد الحرام، طواف و سعی صفا و مروہ و عمرہ کا بیان، منٰی کی روانگی اور عرفہ کا وقوف، مزدلفہ کی روانگی اور اس کا وقوف، منٰی کے اعمال اور حج کے بقیہ افعال، قیران کا بیان، تمتع کا بیان، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، محصر کا بیان، حج فوت ہونے کا بیان، حج بدل کا بیان، حج کی مَنَّت کا بیان، فضائل مدینہ طیبہ۔

بہار شریعت ساتواں حصہ: یہ حصہ نکاح کے مسائل پر مشتمل ہے اس میں 48 احادیث اور 418 مسائل کا ذکر ہے اس کے اہم موضوعات اس طرح ہیں۔ نکاح کا بیان، محرمات کا بیان، دودھ کے رشتے کا بیان، ولی کا بیان، کفو کا بیان، نکاح کی وکالت کا بیان، لونڈی غلام کے نکاح کا بیان، نکاحِ کافر کا بیان، باری مقرر کرنے کا بیان، حقوق الزوجین، شادی کے رسوم۔

بہار شریعت آٹھواں حصہ: یہ کتاب 21 احادیث اور 742 مسائل پر مشتمل ہے اس میں طلاق کے مسائل مع کلیات و جزئیات بیان کئے گئے ہیں اس کی تکمل 22 ربیع الآخر 1338ھ کو ہوئی اس میں مندرجہ ذیل مسائل کو دل نشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ طلاق کا بیان، صریح کا بیان، اضافت کا بیان، غیر مدخولہ کی طلاق کا بیان، کنایہ کا بیان، تعلیق کا بیان، استثناءکا بیان، طلاق مریض کا بیان، رجعت کا بیان، ایلا کا بیان، خلع کا بیان، کفارہ کا بیان، نفقہ کا بیان، یہ اس کتاب کی اہم سرخیاں ہیں اس کے ضمن میں اس کے متعلقہ مسائل کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا اختتام جس مسئلہ پر ہوتا ہے وہ جانور پر بوجھ لادنے سے متعلق ہے۔

بہار شریعت نواں حصہ: اس حصہ میں درج ذیل مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ آزاد کرنے کا بیان، مدبر و مکاتب و ام ولد کا بیان، قسم کا بیان، قسم کے کفارہ کا بیان، منت کا بیان، مکان میں رہنے اور جانے سے متعلق قسم کا بیان، کھانے پینے کی قسم کا بیان، کلام کے متعلق قسم کا بیان، طلاق دینے اور آزاد کرنے کا بیان، خرید و فروخت و نکاح وغیرہ کی تقسیم، نماز و روزہ و حج کی قسم کا بیان، لباس کے متعلق قسم کا بیان، حدود کا بیان، کہاں حد واجب ہے کہاں نہیں، زنا کی گواہی دے کر رجوع کرنا، شراب پینے کی حد کا بیان، راہزنی کا بیان، حد قذف کا بیان، تعزیر کا بیان، چوری کی حد کا بیان، ہاتھ کاٹنے کا بیان، کتاب السیر غنیمت کا بیان، غنیمت کی تقسیم کا بیان، استیلائے کفار کا بیان، مستامن کا بیان، عشر و خراج کا بیان، جزیہ کا بیان، مرتد کا بیان۔ اس میں کل 118 احادیث اور 656 مسائل ہیں س کی تکمیل 12رمضان المبارک 1348ھ میں ہوئی۔

بہار شریعت دسواں حصہ: اس حصہ کی تکمیل 15رمضان المبارک 1349ھ کو ہوئی۔ اس میں 25احادیث اور 561 مسائل کا ذکر ہے اس کی ابتدا لقطہ کے بیان سے ہوتی ہے اور اختتام وقفہ مریض پر ہے اس کے علاوہ مندرجہ ذیل مباحث اس میں ہیں۔ لقیط کا بیان، مقصود کا بیان، شرکت فاسدہ کا بیان، شرکت کا بیان، وقف کا بیان، کس چیز کا وقف صحیح ہے، معارف وقف کا بیان، اولاد یا اپنی ذات پر وقف کا بیان، مسجد کا بیان، قبرستان وغیرہ کا بیان، وقف میں شرائط کا بیان، قومیت کا بیان، اوقاف کے اجارہ کا بیان، دعوٰی اور شہادت کا بیان۔

بہار شریعت گیارہواں حصہ: اس حصہ میں 96احادیث اور 667 مسائل ہیں خرید و فروخت کے بیان سے اس حصہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اوراس کا اختتام بیع صرف کے مسئلہ پر ہوتا ہے اس کے علاوہ کتاب کی درج ذیل سرخیاں اہم ہیں۔ خیار شرط کا بیان، خیار عیب کا بیان، بیع فاسد کا بیان، بیع مکروہ کا بیان، اقالہ کا بیان، رابحہ و تولیہ کا بیان، بیع و ثمن میں تصرف کا بیان، قرض کا بیان، سود کا بیان، حقوق کا بیان، استحقاق کا بیان، بیع مسلم کا بیان، استصناع کا بیان، بیع صرف کا بیان۔

بہار شریعت بارہواں حصہ: اس حصہ میں 41احادیث اور 568 مسائل ہیں شروع کتاب میں کفالت کی اصطلاحی تعریف ہے اس کے بعد کفالت کے مسائل بیان کئے گئے ہیں پھر بالترتیب درج ذیل موضوعات پر عالمانہ سنجیدہ گفتگو ہے۔ حوالہ کا بیان، قضا کا بیان، انکار کے مسائل، تحکیم کا بیان،گواہی کا بیان، شہادت میں اختلاف کا بیان، شہادت علی الشہادت کا بیان، گواہی سے رجوع کرنے کا بیان، وکالت کا بیان، خرید و فروخت میں توکیل کا بیان، وکیل بالخصومت اور وکیل بالقبض کا بیان، وکیل کو معزول کرنے کا بیان۔

بہار شریعت تیرہواں حصہ: اس کا آغاز ”دعوی کے بیان“ سے ہوتا ہے اس میں 12احادیث اور 600 مسائل ہیں اس کے دوسرے موضوعات یہ ہیں۔ حلف کا بیان، تحائف کا بیان، دعوی دفع کرنے کا بیان، دو شخصوں کے دعوی کرنے کا بیان، دعواے نسب کا بیان، اقرار کا بیان، استثناءاور اس کے متعلقات کا بیان، نکاح و طلاق کا اقرار، وصی کا اقرار، اقرار مریض کا بیان، اقرار نسب، صلح کا بیان، دعواے دین میں صلح کا بیان، تخارج کا بیان، غصب و سرقہ و اکراہ میں صلح، کام کرنے والوں میں صلح، بیع میں صلح، صلح میں خیار، جائداد غیر منقولہ میں صلح، یمین کے متعلق صلح وغیرہ۔

اس کتاب کے آخر میں صلح سے متعلق کچھ احادیث اور آیات ہیں جو شاید درمیان کتاب میں صلح کے موضوع پر لکھنے سے رہ گئے تھے۔

بہار شریعت کا چودہواں حصہ: اس حصہ میں 24احادیث اور 732 مسائل ہیں مندرجہ ذیل موضوعات پر اس کتاب میں تفصیلی بحث ہے۔ مضاربت کا بیان، ودیعت کا بیان، عاریت کا بیان، ہبہ کا بیان، ہبہ واپس لینے کا بیان، اجارہ کا بیان، دایہ کے اجارہ کا بیان، اجارہ ¿ فاسد کا بیان، ضمان اجیر کا بیان، اجارہ فسخ کرنے کا بیان، ولا کا بیان۔

بہار شریعت پندرہواں حصہ: اس حصہ میں 84احادیث اور 665 مسائل ہیں اکراہ کے بیان سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔ حج، بلوغ، ماذون، غصب، مغصوب چیز میں تغیر، طلب شفعہ، شفعہ کے مراتب، شفعہ باطل ہونے کی وجہ، تقسیم مہایاة، مزارعت، معاملہ،ذبح، حلال و حرام جانور، قربانی، عقیقہ، قربانی کے جانوروں کا بیان اس کتاب کے دوسرے موضوعات ہیں۔

بہار شریعت سولہواں حصہ: اس حصہ میں 826احادیث اور 544 مائل ہیں اس کتاب میں جن مسائل کو موضوع قلم بنایا گیا ہے وہ یہ ہیں: خطرو اباحت، پانی پینے کا بیان، ولیمہ، ضیافت، ظروف، خبر کہاں معتبر ہے، لباس، عمامہ، جوتا، انگوٹھی اور زیور کا بیان، برتن چھپانے اور سونے کے وقت آداب، بیٹھنے، سونے اور چلنے کے آداب، دیکھنے اور چھونے کا بیان، مکان میں جانے کے لیے اجازت لینا، سلام، مصافحہ، معانقہ، چھینک اور جماہی، خریدوفروخت کا بیان، آداب مسجد و قبلہ، قرآن مجید پڑھنے کے فضائل، عیادت، علاج، لہو ولعب، اشعار، جھوٹ، بغض وحسد، غصہ و تکبر، سلوک کا بیان، ہجر و قطع تعلق کی ممانعت، پڑوسیوں کے حقوق، اللہ کے لیے دوستی و دشمنی، حجامت بنوانے وناخن ترشوانے کا بیان، ختنہ، زینت، مسابقت کسب، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، ریاو سمعہ اور زیارتِ قبور کا بیان، ایصال ثواب مجالسِ خیر، آداب سفر وغیرہ۔

بہار شریعت سترہواں حصہ: تحری کے بیان سے اس حصہ کا آغاز ہوتا ہے اس میں 69احادیث اور 360 مسائل ہیں اس حصہ کی تکمیل 1ربیع الآخر 1371ھ میں ہوئی یہ مصنف کی اس سلسلے کی آخری کڑی ہے اس میں درج ذیل مباحث کا ذکر ہے۔ احیاءاموات، شراب و اشربہ، شکار، جانوروں سے شکار، زمین، شئی مرہون کے مصارف کا بیان، مرہون میں تصرف، کس چیز کو رہن رکھ سکتے ہیں، باپ یا وصی کا نابالغ کی رہن رکھنا، رہن میں جنایات کا بیان، کہاں قصاص واجب ہوتا ہے، اطراف میں قصاص کا بیان۔

مصنف نے بہار شریعت میں اعتماد و یقین کے ساتھ مسائل بیان کئے ہیں اس کا اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مسائل کا جس انداز سے احاطہ کیا ہے بلاشبہ وہ انہیں کا حصہ ہے۔ سارے بیان کئے ہوئے مسائل کی نشاندہی اور پھر اس کا تجزیہ کرنا اور دلائل اور لب و لہجہ کے اعتبار سے اس کی اہمیت واضح کرنا وقت طلب کے ساتھ ساتھ دقت طلب بھی ہے مگر مصنف نے اس مشکل کو آسان کردیا۔ مثلاً مصنف نے طہارت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کتاب میں جگہ جگہ آب مطلق اور آب مقید سے بحث کی ہے انہوں نے اس کے ضمن میں یہ بھی لکھا ہے کہ حقہ کا پانی پاک ہے۔ اگرچہ رنگ و بو مزہ میں تغیر آجائے اس سے وضو جائز ہے بقدر کفایت اس کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں۔

اسلامی اخلاق و آداب: مولانا امجد علی اعظمی کی یہ تصنیف اسلامی اخلاق و آداب پر ایک بہترین کتاب ہے جو مسلم معاشرہ کے لئے لائحہ عمل ہے۔ یہ مجموعی اعتبار سے 352 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتابت زرق الماسی قادری رامپوری نے کی ہے۔ جدید ترتیب، تصحیح، تعلیق، تقدیم مولانا محمد احمد مصباحی بھیروی استاد عربی جامعہ اشرفیہ مبارکپورکی ہے۔ یہ کتاب اکتوبر 1986ءمیں دوہزار چھپی تھی۔ ناشر المجمع الاسلامی فیض العلوم محمد آباد گوہنہ ہے۔

ان تمام اخلاقی و آدابی مسائل کو احادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے اس کی زبان سہل، سادہ اور عام فہم ہے احادیث کے اردو ترجمے پیش کیے گئے ہیں۔ کھانے سے متعلق 65 احادیث ہیں اس کے علاوہ باقی مختلف موضوعات پر کل 806 احادیث کریمہ درج ہیں۔ اسلوبِ بیان دلکش، سادہ اور اردو زبان عام بول چال سے بالکل قریب ہے۔

مولانا امجد علی صاحب کے یہ اردو کارنامے دنیائے اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھنے کے قابل ہیں۔ اور اردو کے سرمائے میں ایک اضافہ ہیں۔ ان کے ان کارناموں کی بدولت انہیں اردو کا ایک ممتاز ادیب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

حوالہ جات[ترمیم]

تذکرہ علمائے اہل سنت، محمود احمد قادری، مطبوعہ کان پور 1391ھ، ص53