امرتسر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


امرتسر

ਅੰਮ੍ਰਿਤਸਰ

—  City  —
ہرمندر صاحب (دربار صاحب) کا ایک شب بینی منظر
متناسقات
ملک Flag of India.svg بھارت
ریاست پنجاب
ضلع ضلع امرتسر
Mayor شوائت ملک
آبادی 1,194,740 (2009)
منطقۂ وقت IST (متناسق عالمی وقت+05:30)
رقبہ

ارتفاع


218 میٹر (720 فٹ)

موقع جال www.amritsarcorp.com/

امرتسر بھارتی پنجاب کا ایک شہر ہے اور ہندوستان کے شمال مغربی جانب ریاست (پنجاب) کے دارالخلافہ، چندی گڑھ سے 217 الف پیما (kilometer) اور پاکستان کے لاہور سے 32 الف پیما مشرق کی جانب واقع ہے۔ 2001 کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی پندرہ لاکھ بتائی جاتی ہے جبکہ تمام ضلع امرتسر کی آبادی قریباً چھتیس لاکھ بیان ہوتی ہے۔ امرتسر شہر میں سکھ مت کا روحانی مقام دربار صاحب واقع ہے۔

تاریخ[ترمیم]

امرتسر شہر کی ابتداء کے بارے میں یہ ذکر بھی تاریخ میں ملتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ اکبر نے امرتسر کا علاقہ سکھوں کے چوتھے روحانی پیشوا گرو رام داس کو دے دیا تھا اور رام داس نے یہاں رام داس پور کی بنیاد ڈالی جس کا نام بعد میں امرتسر ہوا [1] [2]؛ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے 1565ء میں گرو امر داس اور پھر 1579ء میں گرو رام داس اور 1606ء میں گرو ارجن دیو کو علاقے کی پیشکش کی تھیں جنہیں ان تینوں اشخاص نے قبول نہیں کیا تھا ؛ گرو امرداس کی نسبت یہ بھی تاریخ میں آتا ہے کہ جاگیر قبول کرنے سے انکار کے بعد اکبر نے وہ جاگیر جس پر امرتسر قائم ہوا امرداس کی بیٹی بی بی بھانی کو شادی کے تحفے کے طور پر دے دی تھی جس سے امر داس انکاری نا ہوسکے [3]۔ مزید یہ کہ اکبر نے سکھوں کے تمام علاقے کو محصول ادا کرنے سے آزاد کر دیا تھا [4]۔ امرتسر کے لیے پرانے نام رام داس پور کے علاوہ گرو چک اور رام داس چک بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ کرتار پور (پاکستان) میں 1539ء میں اپنے انتقال سے قبل گرونانک نے گرو انگد دیو کو نیا گرو نامزد کردیا تھا پھر تیسرے گرو امرداس (1479ء تا 1574ء) کے بعد آنے والے چوتھے گرو رام داس (1534ء تا 1581ء) نے امرتسر کے پرانے تالاب کی مرمت کا کام شروع کیا اور اس کے درمیان میں ایک مندر یا گردوارا ، دربار صاحب تعمیر کیا جس کو ہری مندر بھی کہا جاتا ہے۔ شہنشاہ اکبر اور اس کے بعد بھی عمومی تعلقات رام داس پور (امرتسر) کی جانب اچھے رہتے اور مغلیہ سلطنت میں رام داس پور کی حیثیت نیم خود مختار علاقے کی سی تھی لیکن پھر سولہویں صدی سے اس علاقے میں مکمل آزادی یا خود مختاری کے احساسات نمودار ہونا شروع ہوئے [5]۔ تصوف کے کرشمات کو سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور عرصے تک تصوف کے افکار سے ایک مبہم صورت قائم رہی حتیٰ کہ گرونانک کو مسلمان بھی کہا جاتا ہے[1]۔

لاہور سے امرتسر[ترمیم]

شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں بھی سکھ مت اتنا واضح اور الگ مذہب نہیں بنا تھا لیکن آثار نمایاں ہونے لگے تھے کہ اب سکھ مغلیہ سلطنت کے مرکز برائے پنجاب یعنی لاہور کے بجائے امرتسر کی جانب دیکھنے لگے تھے [6]۔ سکھ ذرائع کے مطابق شہنشاہ جہانگیر کے کہنے پر ادی گرنتھ میں ترامیم سے گرو ارجن کے انکار پر ، اس نے خسرو کو امداد فراہم کرنے کا بہانا بنا کر ان کو قتل کروا دیا تھا [7] اور اس بات نے ان کے بیٹے اور چھٹے گرو ہرگوبند (1595ء تا 1644ء) کو عسکری طاقت کی جانب مائل کردیا تھا جس کے ردعمل کے طور پر جہانگیر نے ایک بار امرتسر سے ہرگوبند کو گرفتار بھی کرا لیکن پھر آزاد کردیا۔ ہرگوبند نے مغلیہ سلطنت کو ناجائز قرار دیکر اپنے پیروکاروں کو اسے تسلیم کرنے سے منع کردیا تھا اور گرو کو خدا کی جانب سے دی جانے والی سلطنت کو جائز قرار دیا؛ شاہجہان کے دور (1628ء تا 1658ء) میں رام داس پور (امرتسر) پر حملہ کیا گیا اور ہرگوبند نے امرتسر سے بھاگ کر کرتار پور میں سکونت اختیار کی۔ اورنگزیب کے تبدیل ہوتے ہوئے کردار نے مختلف واقعات کو جنم دیا جن میں ایک سکھوں سے معاملات کا واقع بھی ہے جس میں محصول یا جزیہ پر ہونے والی معاشیاتی کشمکش کو مذہب اور خودمختاری سے جوڑ دیا گیا۔ تیغ بہادر کے قتل کو متعدد تاریخی دستاویزات میں سکھ مسلم ناچاقی یا نفرت کا آغاز کہا جاتا ہے [8]۔

رام داس پوری سیاست[ترمیم]

سولہویں صدی کے اواخر کے امرتسر (رام داس پور) میں گرو گوبند سنگھ کی خالصہ براہ راست مغلیہ سلطنت سے ٹکرانے پر تیار ہو رہی تھی [9]؛ گو کہ اکبر سے لیکر شاہ جہاں تک مغلوں کا رویہ گروؤں کی جانب مناسب ہی نہیں باعزت بھی رہا لیکن امرتسر کی جانب سے جہانگیر اور شاہ جہاں دونوں کی حکومت کے دوران سلطنت مغلیہ کے معاملات میں مداخلت کی جاتی رہی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 India by Karen schreitmüller
  2. ^ Later Mughal: Atlantic publishers and distributors, New Delhi
  3. ^ Maharaja ranjit singh, the last to lay arms by Kartar singh duggal
  4. ^ Temple of Sprituality Or Golden Temple of Amritsar by Jagjit singh
  5. ^ Religions of south asia: an introduction by Sushil mittal, Gene R. thursby
  6. ^ Holy people of the world: Volume 3 by Phyllis G. jestice
  7. ^ History of sikh gurus retold: 1469-1606 C.E By Surjit singh gandhi
  8. ^ The new encyclopaedia britannica: Encyclopaedia britannica, inc
  9. ^ The city of golden temple by J S Grewal


Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔