امیر دوست محمد خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش: 1793ء

انتقال: 1863ء


بارک زئی قبیلے کا سردار جو محمد شاہ کی برطرفی کے بعد 1826ء میں افغانستان کے تخت پر بیٹھا۔ اس نے ملک کا انتظام بہتر کیا اور ایران اور روس سے تعلقات استوار کیے۔ کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر لیا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی رنجیت سنگھ اور کابل کے تخت کے دعوے دار شاہ شجاع سے مل کر امیر دوست محمد خان کو تخت سے ہٹانا چاہتی تھی۔ لارڈ آکلینڈ نے 1839ء میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اگست میں کابل فتح ہوا۔ امیر دوست محمد خان نے اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا اور شاہ شجاع کابل کے تخت پر بیٹھا۔ مگر افغانوں امیر دوست محمد خان کے بیٹے اکبر خان کی قیادت میں بغاوت کردی۔ انگریزوں کی ساڑھے سولہ ہزار فوج میں سے فقط ایک آدمی زندہ سلامت ہندوستان واپس پہنچا۔ اور شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا۔ انگریزوں نے مجبور ہو کر دوست محمد خان کو رہا کر دیا۔ وہ کلکتے سے 1855ء میں کابل واپس گیا اور تادم مرگ حکومت کرتا رہا۔ مرنے سے کچھ عرصہ پیشتر اس نے ھرات کو فتح کرکے افغانستان میں شامل کر لیا۔