امین احسن اصلاحی
وکیپیڈیا سے
| اس مضمون یا قطعہ کو وکیپیڈیا کے معیار کے مطابق از سر نو لکھنے کی ضرورت ہے۔ برائے مہربانی اسے بہتر بنائیں۔ |
خدا کے اس منصوبے کے تحت انسانوں کوخیر و شر کا شعور دے کر اس کرۂ ارض پر آباد کیا گیا۔ اس نے اپنے ذمہ یہ کام لیا کہ وہ انسانوں کواپنے اس منصوبے سے باخبر رکھے گا۔ باخبر رکھنے کا یہ کام خدا کی نصرت قرارپایا۔ جس کے لیے خدا نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو ہر دور میں لوگوں کے پاس بھیجا۔ انہوں نے انسانوں کو اس منصوبے سے آگاہ کیا۔ مگر افسوس کہ انسانوں کی دنیا میں سب سے زیادہ ناقابل تذکرہ خدا کی یہی دنیا رہی۔ اور انسان شیطان کی فریب کاریوں کا شکار ہوتے رہے۔ آخر کار خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آخری دفعہ فیصلہ کن طور پر یہ پیغام بھیجاگیا۔ جس کے بعد خدا کا یہ منصوبہ تاریخ اور قرآن دونوں کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔
ہزار سال گزرگئے۔ آہستہ آہستہ قرآن اور اس منصوبے پر گرد پڑتی چلی گئی۔ ادھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے بعد، بائبل کے الفاظ میں، سانپ کی شکل میں قید شیطان رہا ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث دنیا بھر میں غلامی کے شکنجے میں جکڑ گئے۔ دین کو وہ پہلے ہی ترک کرچکے تھے کہ غلامی کی آفت اور آ گئی۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر اس شکنجے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔
اب امت کا حال یہ ہوا کہ ایک طرف نئی تہذیب اور اس کے متاثرین اور دوسری طرف صدیوں سے جمود میں مبتلا اہل دین۔ نئی روشنی اور نئے دور میں دین کے قدیم ذخیرے پر سوال اٹھنے شروع ہوئے۔ مگر اہل دین کے لیے مذہب دشمنوں کے خلاف ابھارنے والا ایک ہتھیار تھا یا پھر ان تمناؤں کے اظہار کا ایک ذریعہ جن میں سارے غیر مسلم کافر اور جہنمی اور وہ ہر حال میں جنت کے مستحق ٹھہرتے۔ وہ بھلا سوالات کا جواب کیا دیتے۔
یورپ کی طرح یہاں بھی جب لوگوں کو سوالات کا معقول جواب نہ ملا توان کی نگاہ میں دین کی اعتباریت مشکوک ہوگئی۔ وہ خدا کے منصوبے کو بھی ایک خواب و خیال سمجھنے لگے۔ کچھ لوگوں نے ایک نئی نبوت کی آغوش میں پناہ ڈھونڈی تو کچھ لوگوں نے لباس شریعت ہی اتار پھینکا۔ کچھ نے صدیوں کے فقہی کام کو اصل دین قرار دے کر اس سے چمٹ جانا باعث نجات جانا اور کچھ نے رسول کو ایک انقلابی رہنما سمجھ کر اس کی پوری دعوت آخرت کو دعوت انقلاب بنا ڈالا۔
بات یہ نہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بنجر ہوچکی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ آغاز کار کا سرا ہی نہ ملتا تھا۔ قدیم علم کی روایت کے آخری عالم شاہ ولی اللہ اور فکراسلامی کے آخری امام علامہ اقبال بھی ڈور کا وہ سرا نہ ڈھونڈ سکے جس سے یہ گتھی سلجھ سکتی۔
اپنے منصوبے کا ابلاغ خدا کی ذمہ داری تھی سو اس نے خود مداخلت کر کے اس کام کو بھی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک گمنام عالم نے اپنی زندگی قرآن کے لیے وقف کردی۔ خدا کی کتاب کے اسرار و رموز اس شخص پر کھلنے لگے۔ کلاسیکل عربی، قدیم صحف سماوی اور علوم دینیہ کا یہ بے مثل عالم دنیا سے کٹ کر قرآن کے بحر بے کنار میں غواصی کرتا اور ایک ایک کر کے نظم قرآن کے وہ اصول دریافت کرتا گیا جس نے دینی علوم کی ساری اساسات نئے سرے سے متعین کیں۔ دینی علم کی دنیا کے اس آئن اسٹائن کا نام حمید الدین فراہی (1863ء - 1930ء) تھا۔ اپنی زندگی میں گمنام رہنے والے اس شخص کی قبر بھی آج مٹ چکی ہے۔ اس کا علم بھی مٹ جاتا، اگر اسے اپنی عمر کے آخر ی حصے ایک نوجوان نہ مل جاتا۔ فراہی کے علم کا یہ امین جس کا نام امین احسن اصلاحی (1904ء - 1997ء) تھا، امام فراہی کی زندگی کے آخری پانچ برسوں میں ان کی صحبت میں رہا اور ہر طرف سے کٹ کر فراہی کے چشمۂ علم سے اپنی پیاس بجھاتا رہا۔ نہ جانے اس میں خدا کی کیا مصلحت تھی کہ فکر فراہی کا یہ امین اپنی عمر عزیز کے اگلے 25 برس جماعت اسلامی کی نذر کر بیٹھا اور سیاست کے گلی کوچوں میں بھٹکتا رہا۔ پھر ایک حادثہ نے اسے میدان سیاست سے نکال کر قرآن کے قدموں میں دوبارہ لا پھینکا۔ بڑھاپا اب اس کی دہلیز پر دستک دے رہا تھا۔ مگر یہ کام خدا کا تھا۔ حوصلہ اور مہلت عمر بھی اس نے عطا کی کہ اگلے 25 برسوں میں فراہی کے اصولوں پر اصلاحی نے تفسیر قرآن لکھ کر ان بہت سے سوالات کا جواب دیا جو صدیوں سے عقدۂ لا ینحل بنے ہوئے تھے۔ اس کتاب کی عظمت یہ ہے کہ اس امت کی تاریخ میں تفسیر کی جو چار کتابیں امہات الکتب (Original Books)میں شمار کیے جانے کے قابل ہیں یہ ان میں سے ایک ہے۔ قرآن کے بعد اصلاحی نے حدیث پر غور کے اصول بھی متعین کر دیے اور مہلت عمل تک اسی خدمت میں مشغول رہے۔
اصلاحی امام فراہی کے آخری عمر کے شاگرد تھے۔ اسی طرح جاوید احمد غامدی (1953ء)، امین احسن اصلاحی کے بڑھاپے کی روحانی اولاد ہیں۔ ان کے ابتدائی سال بھی جماعت اسلامی کے نذر ہوگئے مگر اس کے بعد وہ میدان علم کے لیے یکسو ہوگئے اور آج کے دن تک یکسو ہیں۔