انتظار حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
انتظار حسین

انتظارحسین انتظار حسین 7 دسمبر، 1923ء کو میرٹھ ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ انتظار حسین ناول نگار، افسانہ نگار اور تنقید نگار ہیں، ایک داستان اور دو کتب آپ بیتی طرز کی لکھ چکے ہیں۔ آپ نے حکومت فرانس نے ستمبر 2014ء میں آفیسر آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز عطا کیا ہے۔

سوانح[ترمیم]

میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ پہلا افسانوی مجموعہ ’’گلی کوچے ‘‘ 1953ء میں شائع ہوا۔ روزنامہ مشرق میں طویل عرصے تک چھپنے والے کالم ’’لاہور نامہ‘‘ کو بہت شہرت ملی۔ اس کے علاوہ ریڈیو میں بھی کالم نگاری کرتے رہے۔ افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔

فن[ترمیم]

انتظار حسین اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلوب ، بدلتے لہجوں اور Craftingکے باعث آج بھی پیش منظر کے افسانہ نگاروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ ان کی اہمیت یوں بھی ہے کہ انہوں نے داستانوی فضا ، اس کی کردار نگاری اور اسلوب کا اپنے عصری تقاضوں کے تحت برتائو کرنا چاہا ہے۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر حیرت کاایک ریلا سا آتا ہے جس نے آج کے سنجیدہ قاری کے پاؤں اکھاڑ رکھے ہیں۔ ان کی خود ساختہ صورت حال حقیقت سے بہت دور ہے۔ اس طرح کی صورت حال Fantasyکے حوالے سے یورپ میں سامنے آئی۔

ماضی پرستی[ترمیم]

ان کی تحریروں کی فضا ماضی کے داستانوں کی بازگشت ہے ۔ ان کے یہاں پچھتاوےNostalgiaکلاسیک سے محبت ،ماضی پرستی ، ماضی پر نوحہ خوانی اور روایت میں پناہ کی تلاش بہت نمایاں ہے۔ پرانی Values کے بکھرنے اور نئی ویلیوز کے سطحی اور جذباتی ہونے کا دکھ اور اظہار ، بہت جگہ پر انداز اور لہجہ بہت Bitter ہوجاتا ہے۔ اور بہت انتشار سے بھر جاتا ہے۔ ایسی انداز یہ واردات اس کی ساری تحریروں کے باطن میں موجود ہے اور واضح نظر آتی ہے

علامت[ترمیم]

وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کے نت نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے افسانہ نگار ہیں لیکن اپنی تمام تر ماضی پرپرستی اور مستقبل سے فرار اور انکار کے باوجود ان کی تحریروں میں ایک عجیب طرح کا سوز اورحسن ہے۔ اس میں ویسی ہی کشش ہے جو چاندنی راتوں میں پرانی عمارتوں میں محسوس ہوتی ہے۔

اساطیر[ترمیم]

ویسے بھی انتظار حسین کا فن عوامی نہیں۔ انہوں نے اساطیری رجحان کو بھی اپنی تحریروں کا حصہ بنایا ۔ ان کے افسانے کا اسرار معلوم کرنے کے لیے وسیع مطالعہ ہونا بھی لازمی ہے۔ ہجرت کے حوالے سے ایک خاص طرح کی Tensionانتظار حسین کے ہاں جاری و ساری ہے۔ اس صورت حال سے وہ خود کو لاجیکل طور پر الگ نہیں کر سکے۔ انہیں زندگی کی ظاہری بناوٹ سے کوئی دلچسپی نہیں البتہ باطن میں جو Phase چل رہی ہے اس کا خیال رکھتے ہیں۔ یہی باطن کی غوطہ زنی اور اسلوبیاتی تنوع انتظار حسین کی پہچان ہے۔ لیکن وہ اسے فکری اور نظری پسماندگی کا نام بھی دیتے ہیں۔ ایسے میں وہ فرد کی انفرادی سطح پر اخلاقی جدوجہد کو بے معنی قرار دیتے ہیں ۔ یہی موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح وہ مقام ہے جہاں پر انتظار حسین افسانے کے پیش منظر میں داخل ہوتے نظر آتے ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • آگے سمندر ہے
  • بستی
  • چاند گہن
  • دن ۔ (ناولٹ)

افسانے[ترمیم]

  • آخری آدمی
  • خالی پنجرہ
  • خیمے سے دور
  • شہر افسوس
  • کچھوے
  • کنکرے
  • گلی کوچے

آپ بیتی[ترمیم]

دیگر[ترمیم]

  • جل گرجے (داستان)
  • نظرئیے سے آگے (تنقید)[1]

اعزازات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]