انتون چیخوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Anton Pavlovich Chekhov

انتون چیخوف

پیدائش: 1860ء

انتقال: 1904ء

روس کا افسانہ نویس اور ڈرامہ نگار ۔ 1884ء میں انیس برس کی عمر میں چیخوف کے قلمی نام سے سے مختصر افسانے لکھنے شروع کیے۔ پہلے مجموعے کی کامیابی کے باعث ڈاکٹری ترک کرکے افسانے اور ڈرامے لکھنے شروع کیے۔ سائنسی تربیت نے روسی ادب کو بہت فائدہ پہنچایا اور حقیقت نگاری کا ایک نیا اسلوب روسی ادب کو ملا۔ شروع ہی سے اس کا ذہنی رجحان روسی زندگی کے روزمرہ کے معاملات کی طرف تھا۔ انسانی فطرت کا سفلہ ، کمینہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس نے شدید طنز کی۔ اس کی تحریروں میں تاجر پیشہ ، طلبہ ، پادری ، اساتذہ ، حجام ، مجسٹریٹ ، اعصابی مریض ، پاگل ، اعلی افسر ، سرکاری افسر ، غرض سب طبقوں کی تنگ نظری اور سادہ لوحی یوں ریکارڈ ہوگئی ہے کہ جیسے کیمرے نے زندگی کی تصویر کھینچ لی ہو۔ چیخوف کو جدید افسانہ نگاری کا امام سمجھا جاتا ہے۔ بعض نقادوں کے نزدیک وہ دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے [1]۔

وہ اپنی پوری ادبی زندگی کے دوران ڈاکٹری کرتا رہا اس کا کہنا تھا کہ 'ڈاکٹری میری قانونی بیوی ہے اور ادب میری رکھیل ہے'"[2]۔ اس نے لکھنا صرف پیسے کمانے کے لیے شروع کیا تھا مگر جیسے جیسے اُس کی فنکارنہ طلب بڑھتی گئی اُس نے لکھنے میں جدت شروع کی جس سے بعد میں بہت سے مصنفین متاثر ہوئے [3]۔ وہ کبھی اپنے کام کے مشکل ہونے پر پشیمان نہیں ہوا بلکہ اُس کا کہنا تھا کہ فنکار کا کام سوال کرنا ہے نہ کا جواب دینا [4]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Russian literature; Anton Chekhov". Encyclopædia Britannica. http://www.britannica.com/eb/article-29160/Russian-literature. Retrieved 14 June 2008.
  2. ^ Letter to Alexei Suvorin, 11 September 1888. Letters of Anton Chekhov.
  3. ^ "Chekhov is said to be the father of the modern short story". Malcolm, 87; "He brought something new into literature." James Joyce, in Arthur Power, Conversations with James Joyce, Usborne Publishing Ltd, 1974, ISBN 978-0-86000-006-8, 57; "Tchehov's breach with the classical tradition is the most significant event in modern literature", John Middleton Murry, in Athenaeum, 8 April 1922, cited in Bartlett's introduction to About Love, XX.
  4. ^ "You are right in demanding that an artist should take an intelligent attitude to his work, but you confuse two things: solving a problem and stating a problem correctly. It is only the second that is obligatory for the artist." Letter to Suvorin, 27 October 1888. Letters of Anton Chekhov.

بیرونی روابط[ترمیم]