اندر کمار گجرال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Gujralinder.jpg

اندر کمار گجرال 4 دسمبر 1919 کو پاکستان کے شہر جہلم میں پیدا ہوئے۔ آپ بھارت کے 12 وزیراعظم تھے۔ آپ نے برطانوی انڈیا کی آزادی کے لیے تحریک میں حصہ لیا اور اس سلسلے میں جیل بھی گئے۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن کے طور پر سیاست میں حصہ لیا لیکن بعد میں کانگریس جماعت میں شامل ہوئے۔
بھارت کے سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال کا انتقال ہو گیا ہے ان کی عمر 92 برس تھی۔ ان کو 1997 میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر اس وقت فائز کیا گیا جب کانگریس نے یونائٹڈ فرنٹ کی مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی اور وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گاؤڈا کی حکومت گر گئی۔

’گجرال کے نظریے‘[ترمیم]

ان کے وزیر اعظم کے گیارہ ماہ میں سامنے آنے والے ’گجرال کے نظریے‘ کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اسی نظریے پر عملدرآمد بطور وزیر خارجہ بھی کیا۔ وہ 1989 سے 1990 اور پھر 1996 سے 1998 تک وزیر خارجہ کے منصب پر تعینات رہے۔
اس نظریے کے تحت انہوں نے بھارت کے اخراجات پر پڑوسی ملکوں کو مراعات دیں تاکہ ان سے تعلقات بہتر بنائے جا سکیں۔
تاہم گجرال کا یہ نظریہ پاکستان پر لاگو نہیں ہوتا تھا اور انہوں نے پاکستان کو کوئی مراعات نہیں دیں۔
پنجاب سے تعلق رکھنے کے باعث وہ اپنی جپھیوں یعنی بغل گیر ہونے کے حوالے سے بڑے مشہور تھے۔ لیکن اسی وجہ سے وہ ایک بار اس وقت مشکل میں پڑ گئے جب عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد گجرال کی صدام حسین کے ساتھ بغل گیر ہوتے ہوئے تصویر آئی۔
اندر کمار گجرال مشکل سے مشکل صورتحال سے بخوبی نمٹنے کے لیے مشہور تھے۔ لیکن دیگر وزرائے اعظم کی طرح وہ بھی بھارت کے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے تھے۔
اسی لیے جب برطانوی وزیر خارجہ رابن کُک نے مسئلہ کشمیر پر مفاہمت کرانے کی پیشکش کی تو گجرال نے نے برطانیہ کو ’تھرڈ ریٹ پاور‘ قرار دیا۔انہوں نے قاہرہ میں مصری دانشوروں کے ساتھ نجی بات چیت میں کہا تھا ’برطانیہ ایک تھرّ ریٹ پاور ہے۔ اس نے جب ہندوستان تقسیم کیا تو کشمیر بنایا اور اب یہ ہمیں اس کا حل بتانا چاہتا ہے۔‘
سنہ 1980 میں انہوں نے کانگریس چھوڑ کر جنتا دل میں شمولیت اختیار کی۔

گجرال کی مفاہمتی صلاحیتوں کے باعث ان کی مخالفت نہیں ہوئی۔ اور گجرال نے اس عہدے کو بخوبی نبھایا۔