اورخان پاموک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اورخان پاموک

ترک ناول نگار، (اصل نام: فرید اورخان پاموک ہے، اورہان پاموک غلط ہے جو اردو اخبارات وغیرہ میں استعمال ہورہا ہے اس غلط فہمی کی بنیادی وجہ ان کا ترک زبان میں نام "Orhan" ہے، کیونکہ ترک زبان میں H "خ" کا متبادل ہے اس لیے یہ اورہان نہیں بلکہ اورخان کہلائے گا) جنہوں نے 2006ء میں ادب کا نوبل انعام حاصل کیا۔

وہ اپنے افسانوں اور ناولوں میں جدید ناول اور مشرِق کی صوفیانہ روایات کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ مشرِق و مغرب کے درمیان پل تعمیر کرنے والے اس ترک ادیب کی کتابوں کے دُنیا کی 35 زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں اور یہ کتابیں سو سے زیادہ ممالک میں شائع ہو چکی ہیں۔

اورخان پاموک کی مشہور تصانیف میں The White Castle, Snow اور My Name is Red شامل ہیں۔ 1990ء سے اُن کی 6 تصانیف جرمن زبان میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔

اُن کی تازہ ترین کتاب”استنبول۔ ایک شہر کی یادیں“ہے۔ استنبول ہی پاموک کا آبائی شہر ہے، جہاں وہ 7 جون 1952ء کو پیدا ہوئے۔

پاموک نے کئی سال نیویارک میں بھی گذارے، جہاں اُنہوں نے تعمیرات اور صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ ناول لکھنے کا سلسلہ اُنہوں نے بیس سال کی عمر میں شروع کیا۔

54 سالہ پاموک نے ادب کا نوبل انعام 10 دسمبر 2006ء کو وصول کیا۔ پاموک کو جرمن بک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے امن انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔

ادب کے شعبے میں نوبل اعزاز جیتنے پر انہیں تقریباً ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر کا انعام ملا۔

حالانکہ وہ نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ترک شخصیت ہیں لیکن اس اعزاز کو حاصل کرنے کے باوجود ترک باشندے ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے جس کی وجہ ان کی متنازعہ شخصیت ہے۔

پاموک نے اپنے ناولوں میں متنازعہ مسائل سے نمٹنے کی وجہ سے مغربی دنیا میں مقبولیت حاصل کی۔ ترکی کے حکام نے پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کے ہاتھوں لاکھوں آرمینیائی باشندوں کے مبینہ قتل عام کا ذکر کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

پاموک نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ان کے ملک میں 30 ہزار کرد اور 10 لاکھ آرمینیائی باشندوں کا قتل عام ہوا تھا لیکن ان کے علاوہ اس بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔

ترکی کے قانون کے مطابق کسی کے لیے بھی ترکی کی ریاست اور قومی اسمبلی کی توہین کرنا غیر قانونی ہے۔ پاموک کے خلاف اسی قانون کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔ لیکن جنوری 2006ء میں شدید بین الاقوامی تنقید کے پیش نظر ان کے خلاف یہ الزامات ترک کر دیے گئے۔

ناقدین نے پاموک کو نوبل انعام دینے کے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا۔ اورخان اسلامی دنیا کے پہلے ادیب ہیں ‌جنہوں نے ایران کی جانب سے سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کی مذمت کی تھی ۔

وہ تھامس مین، مارسل پروسٹ، لیو ٹالسٹائی اور فیودور دوستوفسکی سے متاثر ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]