اول میر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
استاد اول میر
Awalmir
اصناف غزل
کلاسیکی موسیقی
پیشے گلوکار,
ادوات ہارمونیم, ستار
سالہائے فعالیت 1949ء — نامعلوم

استاد اول میر (پیدائش: 1931ء بمقام پشاور (متحدہ ہندوستان) - وفات: 24 اپریل 1982ء بمقام کابل، افغانستان) پشتو گلوکار، موسیقار اور دھن ساز تھے۔ اس کے علاوہ وہ پشتو زبان میں شاعری کے لیے بھی مشہور تھے۔ استاد اول میر کو “استاد“ کا خطاب پاکستان اور افغانستان کے محکمہ کلچر و اطلاعات نے مشترکہ طور پر عطا کیا۔[حوالہ درکار]
استاد اول میر کی والدہ بچپن میں ہی انتقال کر گئی تھیں اور انھوں نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔
استاد اول میر نے پشاور میں نامور پشتو گلوکار اور موسیقار استاد جعفر سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور استاد جعفر کی شاگردی کے دوران ہی کم سنی کی عمر میں ان کے ساتھ ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں محافل موسیقی میں اپنے فن کا جادو جگاتے رہے۔ استاد جعفر کے علاوہ بھی استاد اول میر نے دوسرے کئی نامور گلوکاروں سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور ان کے زیادہ تر اساتذہ ریڈیو سے منسلک تھے۔ ان کا ریڈیو سٹیشن پشاور سے نشر ہونے والا پہلا نغمہ، “زړه دے مات شي“ تھا جو اس وقت میں کافی مقبول ہوا۔
استاد اول میر اٹھارہ سال کی عمر میں افغانستان کے قومی دن کی تقاریب میں شرکت کے لیے کابل روانہ ہوئے اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی وہیں بسر کر دی۔
افغانستان میں ریڈیو سٹیشن پر وہاں کے مشہور شاعر ملنگ جان کی مدد سے پہلی بار گلوکاری کا جادو جگایا۔ استاد اول میر کے دستیاب نغموں میں اب تک 250 سے زائد نغمے انتہائی بہترین گردانے گئے ہیں اور یہ تمام نغمے، استاد اول میر نے نہ صرف خود تخلیق کیے بلکہ ان کی دھن بھی ترتیب دی اور گلوکاری کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ افغان اور پاکستان محکمہ جات برائے کلچر کے مطابق یہ نغمے بہترین پشتو موسیقی کا نمونہ گردانے گئے ہیں۔ ملنگ جان، جو کہ افغانستان کے نامور شاعر تھے، استاد اول میر سے قریبی دوستی رکھتے تھے اور استاد اول میر نے ان کی کئی نظموں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ استاد اول میر کے اپنے گائے ہوئے نغموں اور بے شمار دوسری دھنوں کی تخلیق کی بنیاد پر افغانستان اور پاکستان کے محکمہ جات نے انھیں استاد کا خطاب عطا کیا۔
کہا جاتا ہے کہ استاد اول میر کی زندگی کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی کے عالم میں گزرے۔ وہ کابل کی سڑکوں پر بھیک مانگتے رہے اور بالاخر 1982ء میں کابل میں ہی گمنامی کی حالت میں وفات پا گئے۔ استاد اول میر کی آخری آرامگاہ افغانستان کے شہر کابل میں واقع ہے۔