اوٹاوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شہر اوٹاوا
City of Ottawa
Ville d'Ottawa

پرچم
عرفیت: Bytown, Capital City, The NC
شعار: Advance Ottawa/Ottawa en avant
بڑھو اوٹاوا
کینیڈا کے صوبہ انٹاریو میں اوٹاوا کا وقوع
متناسقات: 45°25′15″N 75°41′24″W / 45.42083°N 75.69°W / 45.42083; -75.69
ملک Flag of Canada.svg کینیڈا
صوبہ Flag of Ontario.svg انٹاریو
قائم شدہ 1850 بطور قصبہ بائیٹاون
مضموم 1855 as "City of Ottawa"
انضمام January 1, 2001
حکومت
 - ناظم شہر لیری او برائن
 - شہر مجلس اوٹاوا شہر مجلس
رقبہ[1][2]
 - شہر 2,778.64 کلومیٹر2 (1,072.9 میل2)
 - بلدیاتی رقبہ 5,318.36 کلومیٹر2 (2,053.4 میل2)
بلندی 70 میٹر (230 فٹ)
آبادی (2006)[1][2]
 - شہر 812,129 (چوتھا مقام)
 کثافتِ آبادی 305.4/کلومیٹر2 (791/میل2)
 شہری 860,928
 بلدیہ 1,168,788
National Capital Region 1,451,415

[1]

[2]
 - بلدیہ کثافت 219.8/کلومیٹر2 (569.3/میل2)
منطقۂ وقت Eastern (EST) (یو ٹی سی-5)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) EDT (یو ٹی سی-4)
امدِ ڈاک رمز K0A, K1A-K4C
رموز رقبہ 613, 343 (May 2010[3])
ویب سائٹ http://www.ottawa.ca

اوٹاوا (تلفظ: اوٹّا-وا) کینیڈا کا دارلحکومت اور میونسپلٹی ہے جو اونٹاریو کے صوبے میں ہے۔ اوٹاوا دریا کے جنوبی کنارے پر واقع یہ شہر جنوبی اونٹاریو کے مشرقی حصے میں ہے۔ یہ دریا کیوبیک اور اونٹاریو کے درمیان سرحد کا کام دیتا ہے۔ 2006 کی مردم شماری میں یہاں کی کل آبادی 812000 افراد تھی۔ یہ کینیڈا کی چوتھی اور اونٹاریو کی دوسری بڑی میونسپلٹی ہے۔ اوٹاوا کئی پلوں کی مدد سے کیوبیک سے ملا ہوا ہے۔

اوٹاوا کا انتظام 24 اراکین کی سٹی کونسل سنبھالتی ہے جن میں سے 23 کونسلر شہر کے وارڈوں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ میئر کو بحیثیت مجموعی چنا جاتا ہے۔ یک تہی حکومت ہونے کی وجہ سے میونسپلٹی کے ذمے تمام تر خدمات ہیں جن میں آگ بجھانے، ایمبولینس، پولیس، پارک، سڑکیں، پیدل گذرگاہیں، پبلک ٹرانزٹ، پینے کا پانی، طوفانی پانی اور گندے پانی کی نکاسی اور ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانا شامل ہیں۔

کینیڈا میں دارلحکومت الگ سے کوئی ضلع نہیں بلکہ اوٹاوا وفاق کے زیر انتظام نیشنل کیپیٹل ریجن میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقے میں اوٹاوا، گاٹینو اور ان کے مضافات آتے ہیں۔ اس علاقے کی کل آبادی 1451000 افراد ہے۔ نیشنل کیپیٹل کمیشن شاہی ادارہ ہے جو اس علاقے میں وفاقی حکومت کے مفادات کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

دیگر ملکوں کے دارلحکومتوں کی مانند کینیڈا میں بھی اوٹاوا لفظ حکومت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اوٹاوا کا علاقہ اوڈاوا قبیلے کا مسکن رہا ہے۔ اوڈوا لوگ الگونکن قبیلے کے افراد ہیں۔

اس قبیلے کے افراد نے ہمیشہ سے حکومت کے سامنے اراضی کا دعویٰ کیئے رکھا ہے۔ ملکیت کا یہ دعویٰ اونٹاریو مٰں موجود اوٹاوا دریا کے ذخیرے اور اس کے قدرتی ذرائع سے متعلق ہے۔

پہلا یورپی فلیمون رائٹ تھا جو 1800 میں دریا کے کیوبیک کی جانب والے کنارے پر آباد ہوا۔ اس نے محسوس کیا کہ لکڑی کو منتقل کرنے کے لئے دریائی راستہ بہترین رہے گا۔ جلد ہی یہ علاقہ اس تجارت کا مرکز بن گیا۔ پوری وادی انتہائی طویل اور سیدھے صنوبر سے بھری ہوئی تھی جسے ساری ہی یورپی اقوام پسند کرتی ہیں۔

1812 کی جنگ کے بعد فوجی رجمنٹ والوں کے خاندانوں کے علاوہ حکومت نے امیگریشن کی سکیم شروع کی جس سے آئرش کیتھولک اور آئرش پروٹسٹنٹ اوٹاوا کے علاقے میں آنے لگے اور آئیندہ چند دہائیوں تک ان کی مسلسل آمد رہی۔ فرانسیسی آبادی کے علاوہ ان دونوں گروہوں نے ریڈیاؤ نہر کی کھدائی اور ٹمبر کی تجارت کو عروج تک پہنچایا جس کی وجہ سے اوٹاوا نقشے پر نمودار ہوا۔

1832 میں کرنل جان بائی کی تعمیر کردہ نہر کی تکمیل سے یہاں آبادی بڑھنے لگی۔ اس نہر کا مقصد کنگسٹن اور مانٹریال کے درمیان رابطہ محفوظ رابطہ بنانا تھا تاکہ سینٹ لارنس کے دریا کو نہ استعمال کیا جائے۔ کنگسٹن جھیل اونٹاریو کے کنارے پر واقع ہے۔ شمالی سرے سے نہر کی تعمیر شروع ہوئی جب کرنل یہاں فوجی بیرکیں بنائیں۔ یہ جگہ بعد میں پارلیمنٹ بلڈنگ بنی۔ اس جگہ کو بائی ٹاؤن کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں رائٹ کے بہت سارے بیٹے اور دیگر افراد یہاں بسنے والوں میں سے اولین تھے۔

نہر کا مغربی حصہ بالائی شہر کہلاتا تھا جہاں پارلیمان کی عمارت ہے۔ مشرقی حصے کو زیریں شہر کہا جاتا تھا۔ ان دنوں زیریں شہر بھیڑ بھاڑ والا اور غلیظ عمارتوں والا کہلاتا تھا۔ یہاں وبائی بیماریاں عام تھیں مثلاً 1832 میں ہیضہ اور 1847 میں ٹائفس کی وبا۔

اوٹاوا نہ صرف کینیڈا بلکہ شمالی امریکہ میں لمبر ملنگ اور سکوئر کٹ ٹمبر کی صنعت کا مرکز بن گیا۔ پھر یہ شہر مغرب کی جانب اوٹاوا دریا کو بڑھنے لگا۔

بائی ٹاؤن کو 1855 میں شہر کو اوٹاوا کا نام دیا گیا جب اسے شہر کا درجہ عطا ہوا۔

اوٹاوا بطور دارلحکومت[ترمیم]

31 دسمبر 1857 میں ملکہ وکٹوریا سے جب کینیڈا کے صوبے کا دارلحکومت چننے کی درخواست کی گئی تو انہوں نے اوٹاوا کو چنا۔ اس بارے بہت سی کہاوتیں مشہور ہیں جیسا کہ ملکہ نے ہیٹ کی سوئی کو نقشے پر درمیان میں گاڑ دیا یا پھر ملکہ کو اس علاقے کے پانیوں کا رنگ بہت پسند تھا۔ یہ سب باتیں غیر مصدقہ ہیں۔ تاہم ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اوٹاوا کا چناؤ درحقیقت کینیڈین لوگوں کے لئے کتنا باعث حیرت تھا۔ اوٹاوا کی شہر ٹمبر کے حوالے سے تھی جبکہ کیوبیک سٹی اور مانٹریال مشرق جبکہ کنگسٹن اور ٹورنٹو مغرب میں کافی دور تھے۔

تاہم ملکہ کے مشیروں نے اوٹاوا کو اس لئے چننے کا مشورہ دیا کہ ان دنوں مشرقی اور مغربی کینیڈا کی سرحدوں کے آس پاس یہ واحد شہر تھا۔ آج یہ شہر فرانسیسی اور برطانوی بولنے والے صوبوں کے درمیان ہے۔ دوسرا 1812 کی جنگ نے ثابت کیا تھا کہ کینیڈا کے دیگر بڑے شہر امریکہ کے کتنے قریب اور کتنے غیر محفوظ تھے۔ اوٹاوا ان دنوں سرحد سے بہت دور اور گھنے جنگلات میں تھا۔ تیسرا یہ کہ یہاں حکومت کی ملکیت زمین کا بہت بڑا حصہ تھا جو اوٹاوا کے دریا کے کنارے تھا۔ اوٹاوا کا دور دراز علاقے میں ہونا اسے محفوظ بناتا تھا اور اوٹاوا دریا سے مشرق جبکہ ریڈیا دریا سے مغرب کو نقل و حرکت انتہائی آسان تھی۔ دو مزید وجوہات میں سے ایک یہ کہ اوٹاوا ٹورنٹو اور کیوبیک سٹی کے عین وسط میں تھا دوسرا یہ کہ یہاں بہت کم آبادی تھی جس سے لوگوں کے مشتعل ہونے پر سرکاری عمارات کی بربادی کا خطرہ بہت کم تھا۔ پچھلے دارلحکومتوں میں مشتعل عوام کی جانب سے سرکاری دفاتر وغیرہ کی تباہی عام بات تھی۔ اوٹاوا دریا اور ریڈیا نہر کی مدد سے اوٹاوا کو کنگسٹن اور مانٹریال سے پانی مل سکتا تھا اور اس کے لئے امریکہ-کینیڈا کی سرحد کے پاس جانے کی ضرورت نہیں تھی۔

پارلیمان کی عمارت کا مرکزی حصہ 3 فروری 1916 کو آگ لگنے سے تباہ ہو گیا اور دفاتر کو نو تعمیر شدہ وکٹوریا میموریل میوزیم میں منتقل کر دیا گیا۔ نئی عمارت 1922 میں مکمل ہوئی اور گوتھک طرز تعمیر کا شاہکار پیس ٹاور بنایا گیا جو اب شہر کی مرکزی علامت ہے۔

5 ستمبر 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے چند ہفتوں بعد ہی اوٹاوا میں وہ واقعہ ہوا جسے بہت سے لوگ سرد جنگ کی باقاعدہ ابتدا کہتے ہیں۔ اگور گوزنکوف نامی کلرک جو خفیہ کوڈ جانتا تھا، اپنے سفارت خانے سے 100 سے زیادہ اہم دستاویزات کے ہمراہ فرار ہو گیا۔ ابتدا میں کینیڈا کی شاہی گھڑ سوار فوج نے ان دستاویزات کو وصول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ روسی اب بھی برطانیہ اور کینیڈا کا ساتھی تھا۔ اخبارات بھی اس کہانی میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ رات ہمسائے کے گھر چھپے رہنے اور اپنے گھر کی تلاشی کی آوازیں سنتے رہنے کے بعد اگلے دن گوزنکوف نے پولیس کو ان دستاویزات کا مطالعہ کرنے پر تیار کر لیا۔ ان دستاویزات میں مغربی ممالک میں موجود روسی جاسوسی کا بے پناہ نیٹ ورک بتایا گیا تھا اور یہ بھی راز افشا ہوا کہ روس امریکہ کی طرح ایٹم بم بنانے میں مصروف ہے۔

2001 میں اوٹاوا کے پرانے شہر کو مضافات سے ملا کر ایک بڑی میونسپلٹی بنا دیا گیا۔

زیریں اوٹاوا، میکنزی کنگ پُل کی سمت سے خطِ فلکی۔
رڈیو نہر گرمیوں میں آبی گزرگاہ ہوتا ہے اور سردیوں میں پھسلی اکھاڑہ۔



جغرافیہ اور موسم[ترمیم]

اوٹاوا دریائے اوٹاوا کے جنوبی کنارے پر واقع ہے اور یہاں سے ریڈیو دریا اور ریڈیو نہر کا آغاز ہوتا ہے۔ شہر کا سب سے پرانا حصہ زیریں شہر کہلاتا ہے اور یہ نہر اور دریا کے درمیان کا علاقہ ہے۔ نہر کے پار مغرب میں سینٹر ٹاؤن واقع ہے جو شہر کا معاشی اور تجارتی مرکز ہے۔ سینٹر ٹاؤن اور اوٹاوا دریا کے درمیان پارلیمنٹ کی پہاڑی موجود ہے جہاں دارلحکومت کی کئی اہم عمارات موجود ہیں۔ 29 جون 2007 میں ریڈیو نہر کو جو 202 کلومیٹر طویل ہے، کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ مان لیا گیا۔

شہر کے ارد گرد بہت بڑی سبز پٹی موجود ہے جو جنگلات، فارموں اور دلدلوں پر مشتمل ہے۔ نیشنل کیپٹل کمیشن اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

اوٹاوا بذات خود یک سطی شہر ہے یعنی اس پر کوئی کاؤنٹی یا علاقائی میونسپلٹی حکومت موجود نہیں۔

موسم[ترمیم]

اوٹاوا کا موسم مرطوب نوعیت کا ہے جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 4 جولائی 1913 کو 37.8 ڈگری جبکہ 29 نومبر 1933 کو کم از کم -38.9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کم از کم درجہ حرارت کے اعتبار سے اوٹاوا دنیا بھر میں چوتھا دارلحکومت ہے۔

سردیوں کے دوران برف غالب رہتی ہے۔ اوٹاوا میں سالانہ 93 انچ جتنی برف گرتی ہے۔ سب سے زیادہ برف یہاں 3-4 مارچ 1947 کو پڑی جو کل 73 انچ تھی۔ جنوری کا اوسط درجہ حرارت -10.8 جبکہ بہت مرتبہ دن کو درجہ حرارت مثبت جبکہ رات کو منفی تیس سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ برفانی موسم کافی متغیر ہوتا ہے۔ عام طور پر سردیوں میں دسمبر کے وسط سے لے کر اپریل کے اوائل تک برف زمین پر موجود رہتی ہے تاہم حالیہ برسوں میں کئی بار کرسمس کے بعد بھی برف زمین پر نہیں جمی تھی۔ 2007-08 کی سردیوں کی برفباری تقریباً چالیس سالہ پرانے ریکارڈ کے آس پاس ہی تھی۔ تیز ہوا سے سردی کی شدت اور تندی بڑھ جاتی ہے اور اس تیز ہوا کی وجہ سےسالانہ 51 دن منفی بیس سے نیچے، 14 دن منفی تیس سے نیچے اور کم از کم 1 دن منفی چالیس سے نیچے چلا جاتا ہے۔ تیز ہوا کی وجہ سے گرنے والے درجہ حرارت کا ریکارڈ 8 جنوری 1968 کا ہے جب درجہ حرارت -47.8 تک گر گیا تھا۔

یخ بستہ بارش بھی عام ہوتی ہے۔ ایک بار ایسے ہی بڑے طوفان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بجلی کا خلل واقع ہوا تھا اور مقامی طور پر معیشت کو بہت نقصان ہوا تھا۔ ایسا ہی 1998 کے برفانی طوفان میں ہوا۔

اوٹاوا میں گرمیاں نسبتاً گرم اور نم جبکہ طوالت مناسب ہوتی ہے۔ جولائی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اوسطاً 26 ڈگری رہتا ہے اور شمال سے آنے والی ٹھنڈی اور خنک ہوائیں موسم کو بہتر بنا دیتی ہیں اور ان کی وجہ سے ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جاتا ہے۔ دن میں درجہ حرارت 30 ڈگری یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ 2005 میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔ گرمیوں میں ہوا میں نمی کا زیادہ تناسب بالخصوص دریاؤں کے کنارے زیادہ حبس پیدا کرتا ہے۔ اوٹاوا میں سالانہ 41 دن درجہ حرارت 30 ڈگری سے زیادہ، 12 دن 35 ڈگری سے زیادہ اور 2 دن 40 ڈگری سے زیادہ رہتا ہے۔ زیادہ نمی سے پیدا ہونے والے درجہ حرارت کا ریکارڈ یکم اگست 2006 میں ہے جو 48 ڈگری تھا۔

بہار اور خزاں کے موسم متغیر اور ناقابل اعتبار ہوتے ہیں۔ مارچ سے لے کر اکتوبر تک دن کا درجہ حرارت 30 ڈگری سے زیادہ ہو سکتا ہے جبکہ اکتبور سے لے کر مئی تک کسی بھی وقت برفباری ہو سکتی ہے۔ سالانہ بارش 37 انچ ہوتی ہے۔ ایک دن میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ 9 ستمبر 2004 کا ہے جب ساڑھے پانچ انچ بارش ہوئی۔ یہ بارش ہری کین فرانسز کی وجہ سے تھی۔ یہاں سالانہ 2060 گھنٹے سورج چمکتا ہے۔

گرمیوں میں تباہ کن قدرتی عوامل جیسا کہ گرد باد یعنی ٹارنیڈو، بڑے سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، شدید ژالہ باری اور ہرکین کے اثرات بہت کم ہوتے ہیں تاہم یہ تمام واقعات یہاں پیش آتے رہتے ہیں۔

24 فروری 2006 میں 4.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ یکم جنوری 2000 کو 5.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اوسطاً ہر تین سال بعد زلزلہ آ سکتا ہے۔

ٹرانسپورٹیشن[ترمیم]

انٹرسٹی سروسز[ترمیم]

اوٹاوا میں انٹر سٹی مسافر بردار ٹرین سروس وی آئی اے ریل چلاتی ہے۔ بہت ساری ہوائی کمپنیاں بھی یہاں سروس چلاتی ہیں۔

ہائی وے، گلیاں اور سڑکیں[ترمیم]

کینیڈا کے دارلخلافہ میں فری وے یعنی موٹر ویز کا بھی جال بچھا ہوا ہے۔ ہائی وے 417 ٹرانس کینیڈا ہائی وے کا حصہ ہے۔ شہر میں بہت ساری خوبصورت جگہیں ہیں جن میں اوٹاوا دریا کا پارک وے وغیرہ اہم ہیں۔

پبلک ٹرانزٹ[ترمیم]

پبلک ٹرانزٹ کے نظام کو شہر کا ایک محکمہ سنبھالتا ہے۔ اس نظام میں باقاعدہ روٹوں پر چلنے والی بسیں، تیز رفتار ٹرانزٹ بسیں، ہلکی ریل ٹرانزٹ اور ڈور ٹو ڈور بسیں شامل ہیں۔

آبی گذرگاہیں[ترمیم]

اوٹاوا سے تین بڑے دریا گذرتے ہیں جو اوٹاوا، گاٹینا اور ریڈیا دریا ہیں۔ پہلے دو دریا ماضی میں درختوں اور لمبر کی نقل و حرکت کے لئے جبکہ تیسرا دریا سینٹ لارنس کے دریا اور عظیم جھیلوں کو اوٹاوا دریا سے اپنے نہری نظام کے ذریعے ملانے کی وجہ سے مشہور ہے۔

بنیادی صنعتیں[ترمیم]

اوٹاوا کے بڑے آجرین میں وفاقی حکومت اور ہائی ٹیک صنعتیں شامل ہیں۔ اوٹاوا کو شمالی سیلیکان ویلی بھی کہا جاتا ہے۔

حکومت[ترمیم]

کینیڈا کا دارلحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کی مقامی سیاست بھی رنگا رنگ ہے۔ روایتی طور پر زیادہ تر رہائشی لبرل پارٹی کے حامی ہیں تاہم شہر کے چند ہی حصوں پر لبرل پارٹی کا گہرا اثر ہے۔

1870 میں جب نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری کو البرٹا اور ساسکچیوان نکالنے کے بعد جب آئینی درجہ دیا گیا تو اوٹاوا اس کا قانون ساز مرکز بنا۔ 1905 تا 1951 تقریباً سارے ہی قانون ساز ادارے کے اراکین اوٹاوا میں ہی کام کرتے تھے۔

آبادی[ترمیم]

2006 میں شہر کی آبادی 812129 افراد تھی۔ 2001 میں خواتین کی تعداد شہر کی کل آبادی کا 51.23 فیصد تھی۔ 14 سال سے کم عمر افراد کی تعداد 19.30 فیصد تھی۔ ریٹائر افراد یعنی 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کل آبادی کا 10.81 فیصد ہیں۔ اوسط عمر 36.6 سال ہے۔

کینیڈا سے باہر پیدا ہونے والے افراد کا تناسب 22.28 فیصد ہے جن میں سے اکثر چین، لبنان، شمال مشرقی افریقہ، ایران اور بلقان سے آئے ہیں۔ مقامی افراد کل آبادی کا ڈیڑھ فیصد ہیں۔ قابل ذکر اقلیتوں میں سیاہ فام 4.9 فیصد، چینی 3.8 فیصد، جنوبی ایشیائی 3.3 فیصد اور عرب 3 فیصد ہیں۔ شہر کی زیادہ تر آبادی فرانسیسی اور انگریزی دونوں کے بولنے والے ہیں۔ دیگر بڑی زبانوں میں عربی، چینی، اطالوی، ہسپانوی، جرمن، فارسی اور دیگر بہت ساری زبانیں شامل ہیں۔

2001 کی مردم شماری میں عیسیائیت تقریباً 80 فیصد افراد کا مذہب ہے جن میں رومن کیتھولک، پروٹسٹنٹ، آرتھوڈکس اور بہت کم تعداد میں یہووا کے شاہد وغیرہ شامل ہیں۔ دیگر مذاہب میں اسلام سب سے بڑا ہے جبکہ یہودیت اور بدھ مت بھی اہم اقلیتی مذاہب ہیں۔ لادین افراد بھی ایک بڑی اقلیت ہیں

تعلیم[ترمیم]

کینیڈا بھر میں اوٹاوا فی کس حساب سے سب سے زیادہ انجینئر، سائنسدانوں اور پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والوں کاشہر ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]

  • بیجنگ، چین
  • بیونس آئرس، ارجنٹائن
  • کٹانیا، سسلیم، اٹلی
  • کمپوباسو، مولیسے، اٹلی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 "Population and dwelling counts, for Canada and census subdivisions (municipalities), 2006 and 2001 censuses - 100% data". 2006 Canadian Census. http://www12.statcan.ca/english/census06/data/popdwell/Table.cfm?T=301&S=3&O=D۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-07-20. 
  2. ^ 2.0 2.1 "Community Highlights for Ottawa (CMA)". 2001 Canadian Census. http://www12.statcan.ca/english/profil01/CP01/Details/Page.cfm?Lang=E&Geo1=CSD&Code1=3506008&Geo2=PR&Code2=35&Data=Count&SearchText=Ottawa&SearchType=Begins&SearchPR=01&B1=All۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-01-26. 
  3. ^ http://www.crtc.gc.ca/eng/archive/2008/dt2008-89.htm