اوکتائ خان
وکیپیڈیا سے
| وسط ایشیا کے مغل حکمران | |
| چنگیز خان | |
| چنگیز خان | |
| جوجی خان تولی خان اوکتائ خان چغتائ خان ہلاکو خان |
|
| قراچار نوئیاں | |
| امیر تیمور | |
| امیر تیمور | |
| امیر جلال الدین میراں شاہ امیر زادہ عمر شیخ شاہ رخ تیموری پیر محمد بن جہانگیر بن امیر تیمور خلیل سلطان الغ بیگ مرزا ابو سعید بن سلطان محمد بن میران شاہ بن امیر تیمور |
|
اوکتائ خان (Mongolian: Өгэдэй, Ögedei; also Ogotai or Oktay; c. 1186 – 1241) چنگیز خان کا مقرر کردہ جانشین تھا۔ انگریزی میں انہیں Ögedei Khan نام سے پہچانا جاتا ہے۔
فہرست |
[ترمیم] تاریخ
اوکتائ خان نے 9 سال تک حکومت کی۔ مسلمانوں سے باقی بھائیوںکی نسبت بہتر سلوک کیا۔ مسجدوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دیدی۔ اجڑے ہوۓ شہروں کو بسایا۔ اوکتائ خان نے اپنے عہد حکومت میں عدل قائم کیا۔ عام رعایا کی پرورش کی۔ مسلمانوں کے ساتھ باہمی شادیوں کو رواج دیا۔ فوج کی نگہداشت اور تنظیم کی۔
[ترمیم] اولاد
اوکتائ خان کی موت کے بعد مختلف قبائل میں جنگ چھڑ گئ۔ چغتائ خان کے بیٹوں نے بھی سر کشی کی، مگر اوکتائ خان کی بیوی ترکینہ خاتون چار سال تک حکومت پر قابض رہی۔ آخر امیروں نے اسے اوکتائ خان کے پاس بھیج کر اس کے بیٹے کیک کو خاقان بنالیا۔ کیک نے چغتائ خان کے سرکش بیٹوں کو قتل کروا دیا۔ تو بچ کر چین بھاگ گۓ۔ بہت سے سردار بھی جہنم رسید ہو گے۔
[ترمیم] اسلام سے تعلق
کیک کے دربار میں چینی کافروں کا بہت اثر تھا۔ وہ مسلمانوں کو دکھ پہنچانے کیلۓ ہر ممکن کوشش کرنے تھے اور عمل کروانے رہے۔ اور بہت حد تک انکی کامیابی رہی۔ کیک نے کل ڈیڑھ سال حکومت کی۔ اس کو ایک رات پیٹ میں درد ہوا، اور مسلمانوں کو اس کے مظالم سے نجات ملی۔
[ترمیم] حوالہ جات
قاضی محمد اقبال چغتائ : وسط ایشیا کے مغل حکمران۔ چغتائ ادبی ادارہ، لاہور۔ 1983ء۔ صفحہ 31-32۔

