اہل سنت
| مقالہ بہ سلسلۂ مضامین |
| عقائد و اعمال |
| اہم شخصیات |
|
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم |
| کتب و قوانین |
| مسلم مکتبہ ہائے فکر |
| معاشرتی و سیاسی پہلو |
|
اسلامیات · فلسفہ |
| مزید دیکھیئے |
|
|
اہلسنت و الجماعت (أهل السنة والجماعة) مسلمانوں میں پیدا ہو جانے والے دو بڑے تفرقوں میں سے ایک ہے تفرقہ ہے اور اس کو عام الفاظ میں سنی بھی کہا جاتا ہے[1]۔ مسلمانوں کی اکثریت اسی تفرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اہل سنت وہ لوگ ہیں جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تمام صحابہ کرام کو احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب صحابی بالخصوص خلفائے راشدین برحق ہیں۔ اور ان کا زمانہ ملت اسلامیہ کا بہترین اور درخشاں دور ہے۔ ان کے نزدیک خلافت پر ہر مومن فائز ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو۔ ان کے نزدیک خلیفہ جمہور کی رائے سے منتخب ہونا چاہیے۔ وہ خدا کی طرف سے مامور نہیں ہوتا، وہ خلافت کے موروثی نظریے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ابوبکر صدیق صحابہ میں فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور پھر خلافت کی ترتیب سے حضرت عمر فاروق حضرت عثمان اور حضرت علی ۔ خاندان اہل بیت کو بھی سنی بڑی احترام و عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سنی عقیدہ کے مطابق سوائے پیغمبروں کے کوئی انسان معصوم نہیں۔ یہ اسلامی فرقہ مذہب میں اعتدال اور میانہ روی پر زور دیتا ہے۔ سنی کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جیسے؛ شافعی ، مالکی ، حنفی اور حنبلی۔
فہرست |
وجۂ تسمیہ
جیسا کہ ابتدائیہ میں مذکور ہوا کہ اہل السنت و الجماعت ہر ان تمام افراد کو کہا جاتا ہے کہ جو محمد کی سنت پر عمل کرتے ہوں اور صحابہ اکرام کا احترام کرتے ہوں۔ اس نام کی وجۂ تسمیہ ان کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ اہل سنت کہنے کی وجہ تو یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو سنت پر چلنے والا مانتے ہیں اور جماعت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو کہ حق (سچائی) پر جمع ہوۓ اور تفرقات میں نہیں پڑے۔
سنی تفرقے کی ابتداء
آج 2009ء کی ابتداء پر مسلمانوں میں تفرقہ بازی کی ابتداء ہوۓ قریب قریب 1400 سال ہونے کو ہیں[2]۔ 632ء میں محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے شروع ہونے والی مسلمانوں کی تفرقہ بازی کی اس داستان کو اگر پیچیدہ تاریخی و معاشرتی وجوہات و واقعات کی طوالت سے صرف نظر کرتے ہوۓ مختصر بیان کرنے کی کوشش کی جاۓ تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان أهل السنة والجماعة یعنی سنی اور الشيعة الامامية الاثنا العشرية یعنی شیعہ تفرقے کی تشکیل کا آغاز نفسیاتی طور پر، محمد کی وفات کے بعد آپ
کے جانشین اور امت کے لیۓ خلیفہ کا تعین کرنے کے وقت سے ہوچکا تھا۔ اس انتخاب پر جن لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ خود محمد
نے کسی جانشین کی جانب اشارہ نہیں کیا اس لیۓ جو بھی متقی اور کامل مومن ہو وہ خلیفہ بن سکتا ہے، محمد
کے ایک ساتھی اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ابو بکر
کے حق میں فیصلہ ہوا اور 632ء تا 634ء کی مدت کے لیۓ وہ خلیفہ رہے، اسی عمل پیرا ہونے والوں کی نسبت سے اس گروہ یا تفرقے کو اہل السنۃ یا سنی کہا گیا۔
اس وقت کچھ لوگوں کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابو طالب کی خلافت کا اعلان کیا تھا اور امامت خدا کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔ پھر عمر کا انتخاب بطور خلیفۂ دوم (634ء تا 644ء) کر لیا گیا اور علی
کی حمایت کرنے والے افراد کی نفسیات میں وہ حمایت اور شدت اختیار کر گئی ، اگر تفصیل سے تاریخ کا مطالعہ کیا جاۓ تو یہ وہ عرصہ تھا کہ گو ابھی شیعہ و سنی تفرقے بازی کھل کر تو سامنے نہیں آئی تھی لیکن تیسرے خلیفہ عثمان
کے انتخاب (644ء تا 656ء) پر بہرحال ایک جماعت اپنی وضع قطع اختیار کر چکی تھی جس کا خیال تھا کہ علی
کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس جماعت سے ہی اس تفرقے نے جنم لیا جسے شيعة علی اور مختصراً شیعہ کہا جاتا ہے۔
خلافت راشدہ کا اختتام
کوئی ساتویں صدی کے میان سے امت محمدی میں ایک پرتشدد اور افراتفری کا دور شروع ہوا جس کی شدت و تمازت عثمان
کی شہادت پر اپنے عروج پر پہنچی؛ اب خلافت راشدہ کا اختتام قریب قریب تھا کہ جب علی
خلیفہ کے منصب پر آۓ (656ء تا 661ء)۔ لوگ فتنۂ مقتلِ عثمان
پر نالاں تھے اور علی
پر شدید دباؤ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیۓ ڈال رہے تھے جس میں ناکامی کا ایک خمیازہ امت کو 656ء کے اواخر میں جنگ جمل کی صورت میں دیکھا نصیب ہوا؛ پھر عائشہ
کے حامیوں کی شکت بعد دمشق کے حاکم امیر معاویہ نے علی
کی بیت سے انکار اور عثمان
کے قصاص کا مطالبہ کر دیا، فیصلے کے لیۓ میدان جنگ چنا گیا اور 657ء میں جنگ صفین کا واقعہ ہوا جس میں علی
کو فتح نہیں ہوئی۔ معاویہ کی حاکمیت مصر ، حجاز اور یمن کے علاقوں پر قائم رہی۔ 661ء میں عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار سے حملے میں علی
شہید ہوۓ۔ یہاں سے ، علی
کے حامیوں اور ابتدائی سنی تاریخدانوں کے مطابق ، خلافت راشدہ کے آخری خلیفۂ پنجم حسن
کا عہد شروع ہوا۔
حوالہ جات
- ^ ایک روۓ خط اردو لغت میں لفظ سنی اور بطور اس کے مترادف ، اہلسنت و الجماعت کا اندراج۔
- ^ Islam's Sunni-Shiite split. Dan Murphy