اہل تشیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

اہل سنت · اہل تشیع · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


اہل تشیع یا شیعہ (عربی: شيعة) اہل سنت کے بعد مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا فرقہ ہے۔ اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علیRAZI.PNG کی امامت کا قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہDUROOD3.PNG کا جانشین مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع پہلے تین خلفاء کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہDUROOD3.PNG نے دعوت ذوالعشیرہ اور خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضرت علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "جو میری مدد کرے گا وہ میرا وزیر میرا وصی اور خلیفہ ہوگا"۔[1][2][3] تینوں دفعہ امام علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور کہا کہ اگرچہ میں چھوٹا ہوں اور میری ٹانگیں کمزور ہیں مگر میں آپ کی مدد کروں گا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ "اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے وزیر اور وصی ہو"۔[4][5][6] اس کے علاوہ حضور DUROOD3.PNG نے حجۃ الوداع کے بعد غدیر خم کے علاقے میں ایک خطبہ میں فرمایا کہ "جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں"۔[7] [8]

شیعہ کا لفظی مفہوم

عربی زبان میں شیعہ کا لفظ دو معنی رکھتا ہے۔ پہلا کسی بات پر متفق ہونا اور دوسرا کسی شخص کا ساتھ دینا یا اس کی پیروی کرنا۔ قرآن میں کئی جگوں پر یہ لفظ اس طرح سے آیا ہے جیسے سورہ قصص کی آیت 15 میں حضرت موسی کے پیروان کو شیعہ موسی کہا گیا ہے[9] اور دو اور جگہوں پر ابراہیم کو شیعہ نوح کہا گیا ہے۔[10] اسلام کی تاریخ میں شیعہ کا لفظ کسی شخص کے پیروان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت علیRAZI.PNG اور حضرت امیر معاویہRAZI.PNG کے اختلافات کے زمانے میں ان کے حامیوں کو بالترتیب شیعان علی ابن ابو طالب اور شیعان معاویہ بن ابو سفیان کہا جاتا تھا[حوالہ درکار]۔ صرف لفظ شیعہ اگر بغیر تخصیص کے استعمال کیا جائے تو مراد شیعانِ علی ابن ابو طالب ہوتی ہے، وہ گروہ جو اس اختلاف میں حضرت علی ابن ابی طالبRAZI.PNG کا حامی تھا اور جو ان کی امامت کا عقیدہ رکھتا ہے۔

اہل تشیع کا تاریخی پہلو

شیعہ عقائد کے مطابق شیعیت کا آغاز پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور حیات میں اس وقت ہوا جب پہلی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیہ [اولئک هم خیر البریه] کے تفسیر میں علی سے خطاب کرکے کہا "تو اور ترے شیعان قیامت کے دن سرخرو ہونگے اور خدا بھی تو اور تیرے شیعوں سے راضی ہوگا۔[حوالہ درکار] اس وقت صحابہ میں سے چار لوگوں کو حضرت علیRAZI.PNG کا شیعہ کہا جاتا تھا: سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر[حوالہ درکار]

اہلسنت سے اختلاف

اہل تشیع کے اہل سنت سے اختلافات ہیں جن میں سے چند قابل ذکر ہیں۔


ضیا الرحمان فاروقی سرپرست اعلی سپاہ صحابہ کی ایک اہم کتاب تاریخی دستاویز [11] میں ان اختلاف کی مکمل تفصیل سپاہ صحابہ کے نقطہ نظر سے مل سکتی ہے۔ اسی موضوع پر مرکز مطالعات اسلامی پاکستان (پاکستان کی ایک شیعہ تنطیم) کا نقطہ نظر پر مشتمل ایک کتاب اس کتاب کے جواب کے طور پر لکھی گئی تھی جس میں صحاح ستہ سے اقتباسات پیش کیے گئے تھے جو یہ ہے: تحقیقی دستاویز جلد اول [12] اور تحقیقی دستاویز جلد دوم [13]۔ واضح رہے کہ یہ دوسری کتاب بھی تصنیف نہیں بلکہ اس میں صحاح ستہ کے حوالے پیش کیے گئے ہیں۔

ذیلی فرقے

اثنا عشری

اثنا عشریہ (یعنی بارہ امام) ، اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑہ گروہ ماننا جاتا ہے۔ قریبا 80 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران، آذربائجان، لبنان، عراق، اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ھیں۔ پاکستان میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اثنا عشریہ کی اصطلاح بارہ آئمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد علی علیہ السلام سے شروع ہوتا۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین امام علی علیہ السلام ہیں اور کل بارہ امام ہیں جن کا تذکرہ احدیث میں آتا ہے۔ کم و بیش تمام مسلمان ان آئمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان آئمہ پر اعتقاد کے معاملہ خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ ان بارہ آئمہ کے نام یہ ہیں:

اثنا عشریہ اہل تشیع اور دوسرے مسلمانوں میں ان کے وجود کے دور اور ظہور کے طریقوں کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اسماعیلی

چھٹے امام جعفر صادق کی وفات پر اہل تشیع کے گروہ ہو گئے۔ جس گروہ نے ان کے بیٹے اسماعیل کو ، جو کہ والد کی حیات میں ہی وفات پا گئے تھے ، اگلا امام مانا وہ اسماعیلی کہلائے۔ اس گروہ کے عقیدے کے مطابق اسماعیل بن جعفر ان کے آخری امام ہیں۔

جس گروہ نے حضرت موسی کاظم علیہ السلام کو اگلا امام مانا وہ اثنا عشری کہلائے کیونکہ یہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں۔

زیدیہ

زیدیہ شیعہ یا زیدی شیعہ ، اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت امام سجاد یا زین العابدین (پیدائش 702ء) کی امامت تک اثنا عشریہ اہل تشیع سے اتفاق پایا جاتا ہےیہ فرقہ امام زین العابدین کے بعد امام جعفر صادق کی بجائے ان کے بھائی امام زید بن زین العابدین کی امامت کے قائل ہیں۔ یمن میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ھیں۔ وہ آئمہ جن کو زیدی معصوم سمجھتے ہیں:

  • حضرت امام علی علیہ السلام
  • حضرت امام حسن علیہ السلام
  • حضرت امام حسین علیہ السلام

ان کے بعد زیدی شیعوں میں کوئی بھی ایسا فاطمی سید خواہ وہ امام حسن کے نسل سے ہوں یا امام حسین کے نسل سے امامت کا دعوی کر سکتا ہے۔زیدی شیعوں کے نزدیک پنجتن پاک کے علاوہ کوئی امام معصوم نہیں،کیونکہ ان حضرات کی عصمت قرآن سے ثابت ہے۔ زیدیوں میں امامت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یہ فرقہ اثنا عشری کی طرح امامت،توحید،نبوت اور معاد کے عقائد رکھتے ہیں تاہم ان کے آئمہ امام زین العابدین کے بعد اثنا عشری شیعوں سے مختلف ہیں۔لیکن یہ فرقہ اثنا عشری کے اماموں کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کو "امام علم" مانتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ زیدی کتابوں میں امام باقر،امام جعفر صادق اور امام عسکری وغیرہ سے بھی روایات مروی ہیں۔

کیسانیہ فرقہ

”کیسانیہ“ ایک ایسے فرقہ کا نام ہے جو پہلی صدی ہجری کے پچاس سال بعد شیعوں کے درمیان پیدا ہوا اور تقریباً ایک صدی تک چلتا رہا پھر بالکل ختم ہو گیا۔ لیکن اس کے بہت سے عقئد و نظریات کو باقی فرقوں نے اپنا لیا۔

یہ گروہ جناب ”محمد حنفیہ “(حضرت علی ؑ کے بیٹے) کی امامت کا عقیدہ رکھتا تھا اور انہیں امیر المومنین ،امام حسن اور امام حسین کے بعد چوتھا امام گمان کرتا تھا۔ ”محمد حنفیہ “حضرت امیر المومنین کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت کی ان پر خاص توجہ ہوا کرتی تھی ان کی شہرت ”حنفیہ“اس جہت سے ہے کہ ان کی ماں کا تعلق ”خولہ“ ”بنی حنیفہ“ کے قبیلہ سے تھا امیر المومنین نے انہیں آزاد کیا تھا پھر اپنے ساتھ عقد نکاح پڑھا۔

اہل تشیع کے منابع

آبادیات

مشرق وسطی اور جنوبی ایشیاء میں شیعہ آبادی
ملک جملہ آبادی شیعہ آبادی شیعہ آبادی کا فیصد حوالہ جات
ایران 68,700,000 61,800,000 89.96
پاکستان 205,800,800 10,20,00 02
عراق 26,000,000 17,400,000 66.92
ترکی 71,517,100 15,000,000 20.97 [14],[15]
بھارت 1,009,000,000 11,000,000 1.09
آذربائجان 9,000,000 7,650,000 85.00
افغانستان 31,000,000 5,900,000 19.03
سعودی عرب 27,000,000 4,000,000 14.81
لبنان 3,900,000 1,700,000 43.59
کویت 2,400,000 730,000 30.42
بحرین 700,000 520,000 74.29
شام 20,178,485 3,228,557 16.0 [16]
متحدہ عرب امارات 2,600,000 160,000 6.15
قطر 890,000 140,000 15.73
اومان 3,100,000 31,000 1.00
Source: Based on data from numerous scholarly references and from governments and NGOs in the Middle East and the West.



افریقہ میں شیعہ آبادی
ملک جملہ آبادی شیعہ آبادی شیعہ آبادی کا فیصد حوالہ جات
مصر 78,785,000 کمتر از 785,000
Source: [.]


حوالہ جات

  1. ^ طبرى، محمد بن جرير، تاريخ الامم و الملوك، بيروت، دارالقاموس الحديث، (بى تا) ج 2، ص 217/
  2. ^ ابن اثير الكامل فى التاريخ، بيروت، دارصادر، 1399ه'.ق، ج 2، ص 63/
  3. ^ ابن ابى الحديد، شرح نهج البلاغه، تحقيق: محمد ابوالفضل ابراهيم، چاپ اول، قاهره، داراحيأ الكتب العربيه، 1378 ه.ق، ج 13،ص 211/
  4. ^ طبرى، محمد بن جرير، تاريخ الامم و الملوك، بيروت، دارالقاموس الحديث، (بى تا) ج 2، ص 217/
  5. ^ ابن اثير الكامل فى التاريخ، بيروت، دارصادر، 1399ه'.ق، ج 2، ص 63/
  6. ^ ابن ابى الحديد، شرح نهج البلاغه، تحقيق: محمد ابوالفضل ابراهيم، چاپ اول، قاهره، داراحيأ الكتب العربيه، 1378 ه.ق، ج 13،ص 211/
  7. ^ ترمذی، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
  8. ^ احمد بن حنبل، فضائل الصحابہ 2 : 569، رقم : 959
  9. ^ القران الکریم
  10. ^ http://www.searchtruth.com/chapter_display.php?chapter=37&translator=17& mac=&show_arabic=1
  11. ^ [ تاریخی دستاویزhttp://www.ahlehaq.com/shia.html]
  12. ^ تحقیقی دستاویز۔ مرکز مطالعات اسلامی پاکستان (ایک شیعہ ادارہ) کی طرف سے جلد اول
  13. ^ تحقیقی دستاویز۔ مرکز مطالعات اسلامی پاکستان (ایک شیعہ ادارہ) کی طرف سے جلد دوم
  14. ^ http://www.unhcr.org/refworld/topic,463af2212,49709c292,49749c9950,0.html
  15. ^ Shankland, David (2003). The Alevis in Turkey: The Emergence of a Secular Islamic Tradition. Routledge (UK). ISBN 0-7007-1606-8. http://books.google.com/books?vid=ISBN0700716068&id=lFFRzTqLp6AC&pg=PP1&lpg=PP1&dq=Religion+in+Turkey&sig=qrG576JrBxJ4LIBqD-41ALytcAI#PPP1,M1. 
  16. ^ https://www.cia.gov/library/publications/the-world-factbook/geos/sy.html

*