ایاصوفیہ

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
ایاصوفیہ کا بیرونی منظر

ایاصوفیا (Church of Holy Wisdom) ،(Hagia Sofia) یا موجودہ ایاصوفیا عجائب گھر) ایا صوفیا کے معنی حکمت خداوندی۔ یہ عظیم عمارت عیسائیوں نے چرچ کے طور پر بنائی تھی۔ (یہ ایک سابق مشرقی آرتھوڈوکس گرجا ہے)۔ سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں استانبول کو فتح کیا تو سلطان نے اس کے اندر جمعہ کی نماز پڑھی اور حکم دیا کہ اس بدل کر مسجد کی صورت دے دی جائے۔اس وقت سے یہ عمارت مسجد کے طور پر استعمال ہونے لگی۔ اس کے بعد مصطفی کمال اتاترک کی حکومت آئی۔وہ سیکولر آدمی تھے۔چنانچہ انہوں نے 1934 میں ایک نیا حکم نافذ کیا۔اس کےتحت ایا صوفیا کو دوبارہ میوزیم(عجائب گھر) قرار دے دیاگیا۔ فروری 1935 میں میوزیم کے طور پر اس کے دروازے کھولے گئے۔ انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا کے بیان کے مطابق استانبول میں 25 قدیم گرجے ہیں جو مسجد میں تبدیل کردئے گئے ہیں۔ ایا صوفیا کی عمارت چونکہ بہت بڑی اور تاریخی تھی،اس لئے اس کی زیادہ شہرت ہوئی۔اتاترک نے اگرچہ ترکی میں اقتدار پانے کے بعد بے شمار حماقتیں کیں۔مگر ایا صوفیا کے بارہ میں اس کا حکم (میرے(یعنی وحید الدین خان صاحب) کے نزدیک درست تھا۔دوسروں کے عبادت خانہ کو مسجد میں تبدیل کرنا صرف اس وقت درست ہے جب کہ اس کو خرید لیاجائے یا ان سے اس کی اجازت لی جائے۔اس کے بعد دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی عمارت کو کسی پبلک مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ جیسا کہ اتاترک نے کیا۔(مولانا وحید الدین خان ،ڈائری جلد اول ،(1983-1984) ص:375-376)

ایاصوفیہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہے اور بلاشک و شبہ دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

لاطینی زبان میں اسے Sancta Sophia اور ترک زبان میں Ayasofya کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں کبھی کبھار اسے سینٹ صوفیہ بھی کہا جاتا ہے۔

[ترمیم] تاریخ

ایاصوفیہ کا ایک اندرونی منظر

4 صدی عیسوی کے دوران یہاں تعمیر ہونے والے گرجے کے کوئی آثار اب موجود نہیں۔ پہلے گرجے کی تباہی کے بعد قسطنطین اول کے بیٹے قسطنطیس ثانی نے اسے تعمیر کیا تاہم 532ء میں یہ گرجا بھی فسادات و ہنگاموں کی نذر ہوگیا۔ اسے جسٹینین اول نے دوبارہ تعمیر کرایا اور 27 دسمبر 537ء کو یہ مکمل ہوا۔

یہ گرجا اشبیلیہ کے گرجے کی تعمیر تک ایک ہزار سے زیادہ سال تک دنیا کا سب سے بڑا گرجا رہا۔

ایاصوفیہ متعدد بار زلزلوں کا شکار رہا جس میں 558ء میں اس کا گنبد گرگیا اور 563ء میں اس کی جگہ دوبارہ لگایا جانے والا گنبد بھی تباہ ہوگیا۔ 989ء کے زلزلے میں بھی اسے نقصان پہنچا۔

1453ء میں قسطنطنیہ کی عثمانی سلطنت میں شمولیت کے بعد ایاصوفیہ کو ایک مسجد بنادیا گیا اور اس کی یہ حیثیت 1935ء تک برقرار رہی جب کمال اتاترک نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کردیا۔

گنبد کی تزئین و آرائش

ایاصوفیہ بلاشبہ بازنطینی طرز تعمیر کا ایک شاہکار تھا جس سے عثمانی طرز تعمیر نے جنم لیا۔ عثمانیوں کی قائم کردہ دیگر مساجد شہزادہ مسجد، سلیمان مسجد اور رستم پاشا مسجد ایاصوفیہ کے طرز تعمیر سے متاثر ہیں۔

عثمانی دور میں مسجد میں کئی تعمیراتی کام کئے گئے جن میں سب سے معروف 16 ویں صدی کے مشہور ماہر تعمیرات معمار سنان پاشا کی تعمیر ہے جس میں نئے میناروں کی تنصیب بھی شامل تھے جو آج تک قائم ہیں۔ 19 ویں صدی میں مسجد میں منبر تعمیر اور وسط میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور چاروں خلفائے راشدین کے ناموں کی تختیاں نصب کی گئیں۔

اس کے خوبصورت گنبد کا قطر 31 میٹر (102 فٹ) ہے اور یہ 56 میٹر بلند ہے۔