ایس ڈی برمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایس ڈی برمن

پیدائش:یکم اکتوبر1906

انتقال: 31 اکتوبر 1975ء

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مشہور موسیقار۔موسیقی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ایک گھرانے میں جنم لینے والے برمن دا بنگال کے ایک چھوٹے سےگاؤں میں پیدا ہوئے ۔برمن دا کے والد نودیپ چندر دیو برمن بذات خود ستار نواز تھے اور دھروپد گلوکار بھی۔ انہوں نے ہی برمن دا کو ابتدائی تعلیم دی تھی۔ پھر استاد بادل خان نے برمن دا کے فن کو نکھارا۔

موسیقی سے لگاؤ[ترمیم]

موسیقی برمن دا کے رگ و پے میں سمائی تھی اور انہوں نے اسے ہی اپنا کریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔کلکتہ ریڈیو پرانہوں نے بنگالی اور لوک گیت گانا شروع کیے لیکن یہ تو ان کی منزل نہیں تھی۔ وہ موسیقی کی دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ اس وقت بمبئی ایسے فنکاروں کی جنت کہلاتا تھا اس لئے وہ 1944 میں بمبئی چلے آئے۔

پہلی فلم[ترمیم]

اپنی پہلی فلم ’یہودی کی لڑکی‘ میں انہوں نے پہلا گیت گایا لیکن وہ گیت پسند نہیں کیا گیا اس لئے اسے فلم سے نکال کر ان کی جگہ پہاڑی سانیال سے وہ گیت گوایا گیا۔ لیکن برمن دا مایوس نہیں ہوئے پھر انہیں ایک بنگالی فلم ملی اور اس کے بعد راستے کھلتے چلے گئے۔

موسیقار[ترمیم]

یہاں پہلے انہوں نے چھوٹی فلموں میں میوزک دیا لیکن انہیں تب فلم ' دو بھائی ' ملی جس میں انہوں نے گیتا دت کی آواز میں ایک گیت ریکارڈ کیا 'میرا سندر سپنا ٹوٹ گیا'۔ اس گیت نے بہت شہرت حاصل کی اور دنیا نے برمن دا کی صلاحیت کو پہچانا۔

برمن دا کی موسیقی کی وجہ سے کئی فلمیں کامیاب ہوئیں اور کئٰ فنکار بلندیوں پر پہنچے۔ ان میں کشور کمار کا نام سر فہرست ہے اس کے بعد مجروح سلطان پوری کے نغمے جنہیں برمن دا کے سر اور تال ملتے ہی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ٹیم نے کافی فلموں میں اپنے دور کے سپر ہٹ نغمے دئے۔

کامیابیاں[ترمیم]

پھر ایک کے بعد ایک انہیں فلمیں ملتی گئیں۔ شمشماد بیگم ، گیتا دت ، منا ڈے ، محمد رفیع ، لتا منگیشکر ، آشا بھوسلے، کشور کمار کے ساتھ انہوں نے کئی یادگار گیت بنائے۔ کاغذ کے پھول کا وہ گیت ' وقت نے کیا کیا حسین ستم' یا پھر پیاسا کا 'جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہے' ایسے نغمے ہیں جنہیں شاید دنیا کبھی بھلا نہیں پائے۔ آج بھی پرانے نغموں کا انتخاب کرتے وقت لوگ ان گیتوں کو نہیں بھولتے۔

ناراضگی[ترمیم]

1950 میں ایک دور ایسا بھی آیا جب برمن دا بالی وڈ کی دنیا کی سیاست سے ناراض ہو کر کلکتہ جانے لگے لیکن کچھ ہمدردوں نے انہیں جانے نہیں دیا جس کا نتیجہ تھا کہ اس کے بعد کئی ہٹ فلمیں بنیں اور ان کے نغمے ایسے تھے جن کے بغیر موسیقی کی تاریخ ادھوری رہے گی ۔

ان میں فلم ٹیکسی ڈرائیور ، پیئینگ گیسٹ ، نو دو گیارہ ، کالا پانی ، منیم جی ، بمبئی کا بابو ، بازی ، امر پریم ، بندنی ، دیوداس ، پیاسا ، کاغذ کے پھول شامل ہیں۔

دیو آنند[ترمیم]

دیو آنند کے ساتھ ان کی جوڑی کافی کامیاب تھی۔ دیو آنند اپنی ہوم پروڈکشن نوکیتن میں فلمیں بناتے تھے اور برمن دا ہی ان کی فلموں میں موسیقی دیتے تھے۔بمبئی کا بابو ، تین دیویاں ، تیرے گھر کے سامنے ، گائیڈ ، جیول تھیف۔

حساس شخصیت[ترمیم]

فنکاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زود رنج اور بہت حساس ہوتے ہیں۔ برمن دا میں یہ 'خوبیاں' بدرجہ اتم تھیں۔ بمبئی چھوڑ کر جانے کا خیال دل سے نکالا تو ایک روز لتا منگیشکر سے ناراضگی ہوئی۔ بس کیا تھا ان سے گانا گوانے کے بجائے آشا بھوسلے کو موقع دیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ آشا جی کی آواز سجانے سنوارنے اور نکھارنے میں برمن دا اور او پی نیر کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ لیکن پھر فلم چھوٹے نواب میں ان کے درمیان صلح ہو گئی اور دونوں نے ایک ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔


تراشیدہ ہیرے[ترمیم]

برمن دا کی موسیقی کی وجہ سے کئی فلمیں کامیاب ہوئیں اور کئٰ فنکار بلندیوں پر پہنچے۔ ان میں کشور کمار کا نام سر فہرست ہے اس کے بعد مجروح سلطانپوری کے نغمے جنہیں برمن دا کے سر اور تال ملتے ہی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس ٹیم نے کافی فلموں میں اپنے دور کے سپر ہٹ نغمے دئے۔

1970 کی دہائی میں فلم چپکے چپکے ، ملی ، شرمیلی ، ابھیمان کے نغمے بھی برمن دا نے ہی دیئے۔ اس دوران ان کے ہونہار بیٹے راہول دیو برمن نے بھی ان کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ فلم آرادھنا میں دونوں نے مل کر کام کیا تھا۔

آواز[ترمیم]

برمن دا کو قدرت نے ایک اور حسین تحفہ دیا تھا اور وہ تھی ان کی دل میں اتر جانے والی آواز۔ انہوں نے کئی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور جو بھی گیت گائے وہ یاد گار گیت بنے۔

بندنی کا وہ گیت ' سن میرے بندھو رے ، سن میرے متوا‘ اور آرادھنا کا گیت 'سپھل ہو گی تیری آرادھنا ' ۔ برمن دا کی آواز میں جھرنے کے بہاؤ کا تیز شور اور پہاڑوں سی اٹھان تھی۔ آواز دل کو چھو جاتی تھی۔ برمن دا کی گائیکی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے بنگالی لوک گیتوں کے انداز کو اپنایا تھا اور اس کی سادگی کی وجہ سے گیت مقبول ہوئے۔