ایشیاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دنیا کے نقشے میں ایشیا کو نمایاں کیا گیا ہے
ایشیا کا جغرافیائی نقشہ

ایشیاء دنیا کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔ یہ زمین کے کل رقبے کا 8.6 فیصد، کل بری علاقے کا 29.4 فیصد اور کل آبادی کے60 فیصد حصے کا حامل ہے۔

ایشیاء روایتی طور پر یوریشیا کا حصہ ہے جس کا مغربی حصہ یورپ ہے۔ ایشیاء نہر سوئز کے مشرق، کوہ یورال کے مشرق اور کوہ قفقاز، بحیرہ قزوین اور بحیرہ اسود کے جنوب میں واقع ہے۔

قرون وسطیٰ سے قبل یورپی ایشیاء کو براعظم نہیں سمجھتے تھے تاہم قرون وسطیٰ میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے وقت تین براعظموں کا نظریہ ختم ہوگیا اور ایشیاء کو بطور براعظم تسلیم کر لیا گیا۔ افریقہ اور ایشیا کے درمیان سوئز اور بحیرہ قلزم کو سرحد قرار دیا گیا جبکہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سرحد درہ دانیال، بحیرہ مرمرہ، باسفورس، بحیرہ احمر، کوہ قفقاز، بحیرہ قزوین، دریائے یورال اور کوہ یورال سے بحیرہ کارہ تک پہنچتی ہے۔

عام طور پر ماہر ارضیات و طبعی جغرافیہ دان ایشیاء اور یورپ کو الگ براعظم تصور نہیں کرتےاور ایک ہی عظیم قطعہ زمین کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

جغرافیہ میں دو مکتبہ فکر ہیں ایک تاریخی حوالہ جات کے تحت یورپ اور ایشیا کو الگ براعظم قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا یورپ کے لئے براعظم اور ایشیاء کے لئے خطے کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ تنازعہ ایشیا بحرالکاہل خطے پر بھی کھڑا ہوتا ہے جہاں موجود جزائر میں سے چند براعظم آسٹریلیا کا حصہ مانے جاتے ہیں جبکہ چند ایشیا میں تسلیم کئے جاتے ہیں اس لئے ایشیاء کی حدود کا درست تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جغرافیائی خصوصیات[ترمیم]

ایشیا دنیا کا سب سے بڑا بر اعظم ہے۔ جہاں دنیا کا سب سے اونچا، سب سے نیچا اور سب سے سرد ترین مقام پایا جاتا ہے (ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی، مغرب کی جانب بحیرہ مردار سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام اور شمالی سائبیریا کے مقامات)۔ ایشیا میں کسی بھی براعظم سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں جن میں سے ایک اعشاریہ دو ارب آبادی چین اور 94 کروڑ بھارت میں آباد ہے۔

براعظم کا شمالی حصہ قدیم پہاڑوں اور سطح ہائے مرتفع پر مشتمل ہے جبکہ وسطی علاقہ کوہ ہمالیہ اور سطح مرتفع تبت نے گھیرا ہوا ہے۔ ہمالیہ دنیا کے دیگر پہاڑی سلسلوں کی نسبت زیادہ قدیم نہیں اور اب بھی یہ اونچائی کی جانب رواں ہے۔ یہ سلسلہ تب تشکیل پایا جب برصغیر ایشیا سے ٹکرایا۔

جنوب مشرقی ایشیا میں ہزاروں جزائر ہیں جہاں آتش فشانوں کا پھٹنا اور زلزلے آنے روز کا معمول ہیں۔ ان جزائر میں کئی جزائر آتش فشانوں پر واقع ہیں۔ ان زلزلوں میں سب سے زیادہ خوفناک دسمبر 2005ء میں بحر ہند میں آنے والا زیر آب زلزلہ تھا جس سے پیدا ہونے والی لہروں "سونامی" نے بحر ہند کے گرد بسنے والے ممالک کے لاکھوں نفوس نگل لیے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں منطقہ حارہ کے جنگلات بھی بڑی تعداد میں واقع ہیں خصوصاً تھائی لینڈ، بورنیو کے جزائر، سلاویسی، جاوا اور سماٹرا کے جنگلات مشہور ہیں۔

ایشیا میں دنیا کے کئی مشہور صحرا بھی واقع ہیں جن میں صحرائے عرب (ربع الخالیصحرائے شام، دشت کویر، دشت لوط، تھر، تھل، کراکم، ٹکلا مکان، گوبی دنیا کے عظیم صحراؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

ایشیا میں دنیا کے کئی بڑی دریا بھی واقع ہیں جن میں دریائے زرد، یانگزے، سندھ، گنگا، جمنا، برہم پترا، اراوتی، میکانگ، فرات، دجلہ، جیحوں، سیحوں، ارتش، اوب، لینا دنیا کے عظیم دریاؤں میں سے ہیں۔

جھیلوں میں جھیل قزوین جسے اس کے عظیم حجم کے باعث بحیرہ قزوین بھی کہا جاتا ہے، دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ علاوہ ازیں جھیل ارال (بحیرہ ارالجھیل بالکش، جھیل بیکال، جھیل وان، جھیل ارمیہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں۔

جزیرہ سماٹرا، بورنیو اور نیو گنی دنیا کے بڑے جزائر میں شمار ہوتے ہیں جبکہ دنیا کے بڑے جزیرہ نما اناطولیہ اور عرب بھی یہیں واقع ہیں۔

سیاسی خصوصیات[ترمیم]

ایشیا مختلف تہذیبوں کا مسکن ہے، یہاں کی زمین، لوگوں اور روایتوں میں بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے یہاں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغزستان کی نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ جنوب مغرب کے بیشتر ممالک کے عوام مسلمان ہیں لیکن قومیت اور مسالک کی بنیادوں پر تقسیم ہیں۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جبکہ چین دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی و عسکری قوت ہے۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

براعظم کی بیشتر آبادی عظیم دریاؤں کے کناروں پر آباد ہے جس کی وجہ یہاں کی بیشتر آبادی کا ذریعۂ معاش زراعت ہونا ہے۔ گنگا، سندھ، برہم پتر، زرد، یانگزے اور دیگر دریاؤں کے ارد گرد کے علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں۔ دوسری جانب معدنی دولت کے حصول کے لیے لوگ ایسے علاقوں میں بھی رہائش پذیر ہیں جہاں آبادی بہت کم ہے مثلاً تیل کی تلاش کے لیے عرب کے صحرا اور سائبیریا کے سرد میدان۔

براعظم ایشیا کے صحرا اور پہاڑی علاقے تقریباً غیر آباد ہیں خصوصاً روس میں کثافت آبادی بہت کم ہے۔ جاپان اور بھارت دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہیں۔ چین دنیا میں سب سے آبادی والا ملک ہے اور دنیا بھر کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد چین میں رہتا ہے جبکہ بھارت میں بھی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ جلد چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

جہاں یہاں کی تہذیبوں کی تنوع میں پایا جاتا ہے وہیں عوام کے معیار زندگی میں بھی بہت زیادہ تفریق پائی جاتی ہے۔ ایک طرف جاپان اور مشرقی وسطیٰ کی خلیجی ریاستوں کے عوام طرز زندگی کے اعلیٰ معیار اپنائے ہوئے ہیں وہیں دنیا کے چند غریب ترین ممالک بھی ایشیا میں ہی پائے جاتے ہیں جن میں شمالی کوریا، بنگلہ دیش، افغانستان اور لاؤس قابل ذکر ہیں۔ ایشیا کی غریب ممالک کی معیشت کو خانہ جنگیوں، قحط، سیلاب، قدرتی آفات اور زراعت کے لیے جدید طریقۂ کار اختیار نہ کرنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

معاشی خصوصیات[ترمیم]

اقتصادیاتِ ایشیا
2003ء کے دوران
آبادی: 3,958,768,100
(2006ء اندازاً)
جی ڈی پی (پی پی پی): 18.077 ٹریلین امریکی ڈالرز
جی ڈی پی (کرنسی): 8.782 ٹریلین ڈالرز
جی ڈی پی فی کس (پی پی پی): 4,518 ڈالرز
جی ڈی پی فی کس (کرنسی) 2,143 ڈالرز
لکھ پتی Millionaires 2.0 ملین (0.05%)
بیشتر اعداد و شمار اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام 2002ء سے حاصل کیے گئے ہیں، چند اعداد و شمار میں معلومات کے کمی کے باعث مختلف ممالک کو خارج کر دیا گیا ہے

ایشیا کی بیشتر آبادی کا ذریعۂ معاش زراعت ہے اور چند ممالک میں تو صنعتیں بہت ہی کم ہیں۔ مشرقی چین اور روس میں بھاری صنعتیں قائم ہیں لیکن سب سے صنعتی پیداوار کے لحاظ سے جاپان سرفہرست ہے۔ جاپان برقی و جدید ٹیکنالوجی کی صنعت میں عالمی قائد سمجھا جاتا ہے جبکہ تائیوان، جنوبی کوریا اور سنگاپور بھی برقی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں تائیوان اور ملائیشیا کی معیشتوں نے بڑی ترقی کی ہے اور انہیں "ایشین ٹائیگر" کہا جاتا ہے۔

ایشیا کی زمین کا بیشتر حصہ بانجھ مٹی یا سخت یا خشک موسم کے باعث ناقابل کاشت ہے جیسے سطح مرتفع تبت، سائبیریا اور جزیرہ نما عرب کا بیشتر حصہ کاشت کے قابل نہیں۔ براعظم کی سب سے زیادہ زرخیز زمینیں چین، ہندوستان اور پاکستان میں دریاؤں کے ساتھ ساتھ واقع ہیں جہاں چاول کاشت کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نقد فصلیں بھی کاشت کی جاتی ہیں جیسے جنوب مغربی ایشیا میں کھجوریں، جنوب مشرقی ایشیا میں ربڑ، بھارت، چین اور سری لنکا میں چائے اور جنوب مشرقی ایشیا کے جزائر میں ناریل۔ کھجوریں جزیرہ نما عرب اور ملحقہ علاقوں کی اہم نقد فصل ہے جہاں یہ زمانۂ قدیم سے کاشت ہوتی ہے۔

ایشیاء کےخطے[ترمیم]

Location-Asia-UNsubregions.png

شمالی ایشیاء

وسط ایشیاء

جنوب مغربی ایشیاء

جنوبی ایشیاء

مشرقی ایشیاء

جنوب مشرقی ایشیاء


ملک کا نام بمعہ پرچم رقبہ (مربع کلومیٹر) آبادی بمطابق یکم جولائی 2002ء آبادی کثافت فی مربع کلومیٹر دارالحکومت
وسط ایشیا:
Flag of Kazakhstan.svg قازقستان 2,346,927 13,472,593 5.7 استانا
Flag of Kyrgyzstan.svg کرغزستان 198,500 4,822,166 24.3 بشکک
Flag of Tajikistan.svg تاجکستان 143,100 6,719,567 47.0 دوشنبے
Flag of Turkmenistan.svg ترکمانستان 488,100 4,688,963 9.6 اشک آباد
Flag of Uzbekistan.svg ازبکستان 447,400 25,563,441 57.1 تاشقند
مشرقی ایشیاء:
Flag of the People's Republic of China.svg عوامی جمہوریہ چین 9,584,492 1,384,303,705 134.0 بیجنگ
Flag of Hong Kong.svg ہانگ کانگ 1,092 7,303,334 6,688.0 چین کے زير انتظام
Flag of Japan.svg جاپان 377,835 126,974,628 336.1 ٹوکیو
Flag of Macau.svg مکاؤ 25 461,833 18,473.3 چین کے زير انتظام
Flag of Mongolia.svg منگولیا 1,565,000 2,694,432 1.7 یولان باتار
Flag of North Korea.svg شمالی کوریا 120,540 22,224,195 184.4 پیانگ یانگ
Flag of South Korea.svg جنوبی کوریا 98,480 48,324,000 490.7 سیول
Flag of the Republic of China.svg تائیوان 35,980 22,548,009 626.7 تائی پے
جنوب مشرقی ایشیاء:
Flag of Brunei.svg برونائی 5,770 350,898 60.8 بندری سری بیگوان
Flag of Cambodia.svg کمبوڈیا 181,040 12,775,324 70.6 نوم پنہہ
Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا 1,419,588 227,026,560 159.9 جکارتہ
Flag of Laos.svg لاؤس 236,800 5,777,180 24.4 وینتیان
Flag of Malaysia.svg ملائشیا 329,750 22,662,365 68.7 کوالالمپور
Flag of Myanmar.svg میانمار یا برما 678,500 42,238,224 62.3 نیپیداو
Flag of the Philippines.svg فلپائن 300,000 84,525,639 281.8 منیلا
Flag of Singapore.svg سنگاپور 693 4,452,732 6,425.3 سنگاپور
Flag of Thailand.svg تھائی لینڈ 514,000 62,354,402 121.3 بنکاک
Flag of Vietnam.svg ویت نام 329,560 81,098,416 246.1 ہنوئی
جنوبی ایشیاء:
Flag of Afghanistan.svg افغانستان 647,500 27,755,775 42.9 کابل
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش 144,000 133,376,684 926.2 ڈھاکہ
Flag of Bhutan.svg بھوٹان 47,000 2,094,176 44.6 تھمپو
Flag of India.svg بھارت 3,287,590 1,045,845,226 318.2 نئی دہلی
Flag of Maldives.svg مالدیپ 300 320,165 1,067.2 مالے
Flag of Nepal.svg نیپال 140,800 25,873,917 183.8 کھٹمنڈو
Flag of Pakistan.svg پاکستان 803,940 147,663,429 183.7 اسلام آباد
Flag of Sri Lanka.svg سری لنکا 65,610 19,576,783 298.4 کولمبو
مغربی ایشیاء:
Flag of Bahrain.svg بحرین 665 656,397 987.1 منامہ
Flag of Palestine.svg غزہ 363 1,203,591 3,315.7 غزہ
Flag of Iran.svg ایران 1,648,000 68,467,413 42 تہران
Flag of Iraq.svg عراق 437,072 24,001,816 54.9 بغداد
Flag of Israel.svg اسرائیل 20,770 6,029,529 290.3 یروشلم
Flag of Jordan.svg اردن 92,300 5,307,470 57.5 عمان
Flag of Kuwait.svg کویت 17,820 2,111,561 118.5 کویت شہر
Flag of Lebanon.svg لبنان 10,400 3,677,780 353.6 بیروت
Flag of Oman.svg اومان 212,460 2,713,462 12.8 مسقط
Flag of Qatar.svg قطر 11,437 793,341 69.4 دوحہ
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب 1,960,582 23,513,330 12.0 ریاض
Flag of Syria.svg شام 185,180 17,155,814 92.6 دمشق
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات 82,880 2,445,989 29.5 ابو ظہبی
Flag of Palestine.svg مغربی کنارہ 5,860 2,303,660 393.1
Flag of Yemen.svg یمن 527,970 18,701,257 35.4 صنعاء
کل 43,810,582 3,902,404,193 86.8

مزید دیکھیے[ترمیم]

ایشیاء کے پرچم