ایشیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایشیز ٹرافی

ایشیز ایک ٹیسٹ کرکٹ مقابلہ ہے جو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہر دو سال بعد کھیلا جاتا ہے۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے پرانی سیریز ہے جس کا آغاز 1882ء میں ہوا۔ یہ سیریز ہر دو سال بعد انگلینڈ اور آسٹریلیا میں منعقد ہوتی ہے۔

اگر کوئی سیریز برابر ہوجائے تو دفاعی چیمپیئن ٹیم اعزاز برقرار رکھنے میں کامیاب قرار دی جاتی ہے۔ آخری ایشز سیریز 2005ء میں انگلینڈ میں کھیلی گئی جس میں میزبان ٹیم نے 16 سال بعد ایک کے مقابلے میں دو میچز جیت کر ایک مرتبہ پھر ایشیز کا اعزاز حاصل کیا۔ 2006ء کی ایشز سیریز میں آسٹریلیا نے اپنی سرزمین پر انگلستان کو 0-5 سے شکست دی۔ 1921ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے تمام مقابلے جیت کر ایشیز ٹرافی حاصل کی ہو۔ اگلی ایشیز 2009ء میں انگلینڈ میں منعقد ہوگی۔

تاریخ[ترمیم]

"دی اسپورٹنگ ٹائمز" اخبار میں شائع ہونے والی خبر

ایشیز دراصل پانچ انچ کی ایک گلدان نما ٹرافی ہے جس میں کرکٹ کی گیند یا وکٹوں پر رکھی جانے والی ’بیلز‘ کی راکھ ہے۔ اس کی تاریخ کافی دلچسپ ہے اور اس پر کافی تنازعہ بھی ہے۔

یوں تو کرکٹ کی تاریخ میں پہلا ٹیسٹ 1877ء میں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا تھا لیکن ایشز سیریز کا آغاز 83۔1882 کی تین میچوں کی سیریز سے آسٹریلیا میں شروع ہوا۔

انگلینڈ نے یہ ٹرافی آسٹریلیا سے ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ جیت کر حاصل کر لی تھی۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب آسٹریلیا نے اپنے 1882 کے دورے میں اوول کے میدان میں انگلینڈ کو سات وکٹ سے شکست دی تو لندن کے اخبار "دی سپورٹنگ ٹائمز" نے انگلینڈ کی ہار کی تعزیت میں انگلینڈ کرکٹ کی موت کی خبر چھاپتے ہوئے لکھا کہ اس ہار کے جنازے کی راکھ کو اب آسٹریلیا لے جایا جائے گا۔

اور جب انگلینڈ نے83-1882 میں سڈنی میں 69 رن سے تیسرا ٹیسٹ جیتا تو ملبورن کی چند عورتوں نے انگلینڈ کے کپتان آئیوو بلائی کو ایک گلدان میں راکھ رکھ کر پیش کی۔ انگلینڈ کے کپتان نے بعد میں ان میں سے ایک آسٹریلوی خاتون سے شادی بھی کر لی۔

کچھ عرصے بعد آئیوو بلائی لارڈ ڈارنلی بن گئے۔ 1998 میں ان کی 82 سالہ بہو نے یہ انکشاف کیا کہ اس گلدان میں ان کی ساس یعنی آئیوو بلائی کی بیوی کے چہرے کے نقاب کی راکھ ہے نہ کہ گیند یا بیلز کی۔

1927 میں آئیوو بلائی کے انتقال کے بعد ایشز ٹرافی انگلینڈ کے کپتان کی آسٹریلین بیوی نے ایم سی سی کو دے دی جو آج تک لارڈز میں ایم سی سی کے میوزیم میں موجود ہے۔

یاد رہے کہ ایشز جیتنے والے کو اصلی ٹرافی نہیں دی جاتی بلکہ اس کے نقل دی جاتی ہے۔ اصلی ٹرافی محض پانچ انچ کی ہے اور سیریز جیتنے والی ٹیم کو بڑی ٹرافی کے ہمراہ اصل ٹرافی کے سائز کی ایک نقلی ٹرافی بھی دی جاتی ہے


اعداد و شمار[ترمیم]

اب تک آسٹریلیا اور انگلینڈ 62 ایشیز سیریز میں آمنے سامنے آچکے ہیں جس میں سے آسٹریلیا نے 30 اور انگلینڈ نے 27 میں کامیابی حاصل کی۔ بقیہ 5 سیریز برابر ہوگئیں۔

عام طور پر ایشز سیریز 5 ٹیسٹ میچز پر مشتمل ہوتی ہے لیکن 1938ء اور 1975ء میں 4 اور 1970ء، 1974ء، 1978ء، 1981ء، 1985ء، 1989ء، 1993ء اور 1997ء کی سیریز میں 6، 6 میچز کھیلے گئے۔

ایشیز میں اب تک 293 میچز کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے آسٹریلیا نے 115 اور انگلینڈ نے 92 ٹیسٹ میچز جیتے جبکہ 86 بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔


میدان[ترمیم]

ایشز کے میچز انگلینڈ اور آسٹریلیا میں کھیلے جاتے ہیں اب تک جن میدانوں نے ایشیز ٹیسٹ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا ہے ان میں آسٹریلیا کے گابا (برسبین)، ایڈیلیڈ اوول (ایڈیلیڈ)، واکا (پرتھ)، ملبورن کرکٹ گراؤنڈ (ملبورن) اور سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (سڈنی) شامل ہیں۔ 1928ء میں ایک ٹیسٹ میچ برسبین کےایگزیبیشن گراؤنڈ پر بھی کھیلا جاچکا ہے۔

انگلینڈ میں ایشیز میچز کی میزبانی کا اعزاز دی اوول (لندن)، اولڈ ٹریفرڈ (مانچسٹر)، لارڈز (لندن)، ٹرینٹ برج (ناٹنگھم)، ہیڈنگلے (لیڈز) اور ایجبسٹن (برمنگھم) حاصل کرچکے ہیں۔ 1902ء میں ایک ٹیسٹ میچ بریمیل لین، شیفیلڈ میں کھیلا گیا۔ 2009ء کی ایشیز ٹیسٹ سیریز میں ایک میچ کارڈف، ویلز کے صوفیہ گارڈنز میں کھیلا جائے گا۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔