ایلن تورنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایلن تورنگ
Alan Turing
OBE، FRS
Alan Turing photo.jpg
ایلن تورنگ 1951میں، وفات سے تین سال پہلے[1]
پیدائش Alan Mathison Turing
23 جون 1912 (1912-06-23)
مائیڈہ ویل، لندن، انگلستان
وفات 7 جون 1954 (عمر 41 سال)
Wilmslow، Cheshire، انگلستان
سکونت Wilmslow, Cheshire، انگلستان
قومیت برطانوی
میدان Mathematics, cryptanalysis, computer science, Biology
ادارے University of Manchester
Government Code and Cypher School
National Physical Laboratory
University of Cambridge
مادر علمی Sherborne School
کنگز
Princeton University
مقالہ Systems of Logic based on Ordinals (1938)
علمائی مشیر Alonzo Church[2]
علمائی طلباء Robin Gandy[2]
وجہِ معروفیت برائے Cryptanalysis of the Enigma، Turing machine، Turing test
اہم انعامات

ایلن تورنگ (انگریزی: Alan Turing) ایک انگریز سائنسدان اور ریاضی دان تھے، جنہوں نے عالمی جنگ دوم کے دوران جرمن فوج کے پیغاموں کا رمز توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ کمپیوٹر سائنس کی نشوونما میں بہت اثر انداز تھے، اور مفروضاتی کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔

عالمی جنگ دوم کے دوران انہوں نے بلیچلی پارک (Bletchley Park) میں کام کیا، جو برطانیہ کا رمز شکنی (codebreaking) کا مرکز تھا۔ یہاں انہوں نے جرمن رمز بند (encoded)پیغاموں کی ترجمانی کرنے کے لیے کچھ تکنیک ایجاد کیے۔ ترسیل کے عمل میں پکڑے ہوئے سندیسوں کا اصل روپ دریافت کرنے میں اُن کا کلیدی کردار نے اتحادی افواج کو کئی اہم محاذ آرائیوں میں نازیوں کو ہرانے کے قابل بنایا۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ بلیچلی پارک میں ہونے والے کام کے سبب، یورپ میں جنگ دو چار سال کی مدت سے چھوٹائی گئی۔

ٹورنگ ہم جنسیت کے الزام پر قصور وار ٹھہرائے گئے 1952 میں، جس وقت برطانیہ میں ایسے فعل غیر قانونی ہی تھے۔ قید ہونے کی جگہ، ٹورنگ نے ایسٹروجن کے ٹیکے (کیمیاوی آختہ کاری) بطور لازمی علاج قبول کیے۔1954 میں، ان کی بیالیسویں سالگرہ سے سولہ دن پہلے، ٹورنگ سائنائڈ کھانے سے مر گئے۔ تفتیش سے دریافت ہوا کہ اس کی موت خود کُشی تھی، مگر اس کی والدہ اور کچھ دیگر لوگ اصرار کرتے ہیں کہ سہو تھی، یعنی کہ اس نے غیر ارادی طور پر سائنائڈ پی لی۔ 2009 میں، ایک انٹرنیٹ کمپین کے نتیجے میں، برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن نے اُس کے ساتھ سلوک کے لیے برطانوی حکومت کی جانب سےعوامی معذرت پیش کی۔ ملکہ الیزابتھ دوم نے اُس کو 2013 میں بعد از موت معافی بخشی۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Isaacson، W. "دا پرائس آف جینئس". ٹائم میگزین، 1–8 دسمبر 2014، ص. 72.
  2. ^ 2.0 2.1 ایلن تورنگ at the Mathematics Genealogy Project
  3. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام frs کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا