ایمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ایمان شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے۔

فہرست

لفظی معنی [ترمیم]

ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے مشتق ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔

ایمان کا لفظ بطور فعل لازم استعمال ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے ’’امن پانا‘‘، اور جب یہ فعل متعدی کے طور پر آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے ’’امن دینا‘‘۔

1. ابن منظور، لسان العرب، 13 : 23

2. زبيدی، تاج العروس من جواهر القاموس، 18 : 23، 24

کسی پر ایمان لانے سے مراد اس کی تصدیق کرنا اور اس پر یقین رکھنا ہے۔ گویا لفظ ایمان اپنے اصل معنی اور مفہوم کے اعتبار سے امن، امانت اور بھروسے پر دلالت کرتا ہے۔

اصطلاحی معنی [ترمیم]

شریعت اسلامی کی اصطلاح میں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اللہ کے پاس سے آئے ہوئے احکام کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے۔

حقیقت ایمان [ترمیم]

ایمان قلب و باطن کی یقینی حالت کا نام ہے جس میں قلب و باطن دنیا کی محبت سے خالی اور اللہ کی محبت سے معمور ہوں۔ اس کی وضاحت درج ذیل حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے:

’’حضرت حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ’’اے حارث! (سناؤ) تم نے صبح کیسے کی؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے ایمان کی حقیقت پاتے ہوئے صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث! غور کر کے بتاؤ تم کیا کہہ رہے ہو؟ بے شک ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے اپنے نفس کو دنیا کی محبت سے جدا کر لیا ہے اور راتوں کو جاگ کر عبادت کرتا ہوں اور دن کو (روزے کے سبب) پیاسا رہتا ہوں گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور مجھے ایسے لگتا ہے جیسے جنتی ایک دوسرے کی زیارت کرتے جا رہے ہیں اور دوزخیوں کو (اس حالت میں) دیکھتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث تم عارف ہو گئے، پس اس (کیفیت و حال) کو تھامے رکھو اور یہ (جملہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔‘‘ (ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 170، رقم : 30325)

ایمانیات کےبنیادی ذرائع و احکام اوران کے دلائل [ترمیم]

ایمانیات و عقائد کے اصول و ذرائع قرآن وسنت ہیں، اس باب میں قیاس اور اندازوں کی گنجائش نہیں ہوتی، کسی بھی بات کو ایمانیات و عقائد کا حصہ بنانے کےلئے ضروری ہے کہ وہ بات اللہ اور اس کے رسول سے منقول ہو، اور قرآن و سنت میں مذکور ہو، اس طرح سے کہ قرآن و سنت نے اس کو ماننے کا مطالبہ کیا ہے، یا قرآن و سنت نے اس کو ماننے کی نسبت اللہ کی جانب کی ہے، یا قرآن و سنت نے اس بات کے ماننے کی نسبت انبیا٫ و رسل اور ان کے پیرکاروں کی جانب کی ہے۔ وأسماء الله عز و جل تؤخذ توقيفا ولا يجوز أخذها قياسا۔ (اصول الدین:۱/۱۰۸)

وَكَيْفَ تُعْلَمُ أُصُولُ دِينِ الْإِسْلَامِ مِنْ غَيْرِ كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ؟ وَكَيْفَ يُفَسَّرُ كِتَابُ اللَّهِ بِغَيْرِ مَا فَسَّرَهُ بِهِ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُ رَسُولِهِ، الَّذِينَ نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلُغَتِهِمْ ؟ وَقَدْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ». وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ». وَسُئِلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَفَاكِهَةً وَأَبًّا} (1). مَا الْأَبُّ ؟ فَقَالَ: أَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي، وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي، إِذَا قُلْتُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَا أَعْلَمُ ؟ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ لإبن أبی العز:۱/۱۱۴)

  • قطعی دلائل:

دلائل ؛قطعی اور یقینی اور غیر قطعی اور غیر یقینی دونوں طرح کے ہوتے ہیں، اصطلاح دین میں قرآن کی آیاتِ محکمات اور سنتِ متواترہ محکمہ اور اجماع کو قطعی دلیل کہتے ہیں، ان میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی، ان سے ثابت امور کو ماننا دین میں ضروری اور لازمی ہے، عقائد، فرائض اور محرمات کا ثبوت اسی درجہ کے دلائل سے ہوتا ہے۔ الأدلة الشرعية منها ما هو قطعي، ومنها ما هو ظني:فالدليل القطعي: ما كان قطعي السند والثبوت، وقطعي الدلالة أيضًا.وحكم هذا النوع من الأدلة وجوب اعتقاد موجبه علمًا وعملاً، وأنه لا يسوغ فيه الاختلاف. (معالم اصول الفقه عند اهل السنة و الجماعة:۱/۸۱)

أما ما كان نص كتاب بين، أو سنة مجتمع عليها، فالعذر فيها مقطوع، ولا يسع الشك في واحد منها، ومن امتنع من قبوله اسُتتيب. ( الرسالة للامام الشافعى:ص۴۶)

وَقَدْ دَخَلَ فِيمَا ذَكَرْنَاهُ مِنْ الْإِيمَانِ بِاَللَّهِ : الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ اللَّهُ بِهِ فِي كِتَابِهِ وَتَوَاتَرَ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجْمَعَ عَلَيْهِ سَلَفُ الْأُمَّةِ. (العقیدة الواسطیة للامام ابن تيمية)

إجماع الصحابة حجة بلا خلاف (إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول.: محمد بن علي بن محمد الشوكاني ۱/۲۱۷)

اسی میں روایت کی ایک قسم ’’ مشہور ‘‘ جو فنی اعتبار سے تو خبر واحد ہوتی ہے، لیکن تواتر کے درجہ سے کم اور حقیقی خبر واحد سے بلند تر ہوتی ہے اس سے ثابت امور بھی عقائد ضروریہ میں شامل ہوسکتے ہیں جن کا منکر کافر شمار ہوگا۔ الثالث ما يكفر به على الأصح وهو المشهور المنصوص عليه الذي لم يبلغ رتبة الضرورة. (الاشباه و النظائر۱/۴۸۸)

قطعی عقائد: قطعی دلائل میں جو امور مذکور ہوتے ہیں وہ قطعی عقائد ہوتے ہیں، جن کا انکار انسان کو کافر بنادیتا ہے، مثلاً : اللہ کو ایک ماننا، اس کی ذات ،صفات و حقوق میں کسی کو شریک نہ کرنا، رسولوں کو ماننا، محمد ﷺ کی رسالت کو ماننا، آپ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا، آخرت کو ماننا، جنت و جہنم کو ماننا وغیرہ جیسے جو بھی عقائد قطعی دلائل میں مذکور ہیں سب قطعی عقائد ہیں، ان سب کو ماننا ضروری ہے،عقائد میں اکثر مسائل اسی درجہ کے ہیں۔ قطعی عقائد میں سے کسی ایک عقیدہ کا انکار انسان کو کافر بنادیتا ہے۔ثبوت و دلالت کے اعتبار سے قطعی دلائل میں تاویل بھی کفر مانی جاتی ہے۔ ما ثبت بدليل قطعي الثبوت وقطعي الدلالة حيث لا شبهة فيه ويكفر جاحده ويعذب تاركه. (قواعد الفقه۱/۴۱۰)

يجب تكفير من يغير الظاهر بغير برهان قاطع. و قال ايضا: كل ما لم يحتمل التأويل في نفسه وتواتر نقله ولم يتصور ان يقوم على خلافه برهان فمخالفته تكذيب محض. (إعلام الموقعین۴/۲۴۷)

إن الإيمان تصديق بأمور مخصوصة عُلِم كونُها من الدين ضرورة. (فیض الباری:ج۱ ص ۶۰)

  • غیر قطعی دلائل:

بعض دلائل غیر قطعی ہوتے ہیں، جن سے علم ضروری حاصل نہیں ہوتا، اصطلاح دین میں مثلاً دلالت کے اعتبار سے وہ آیات جن میں تاویل کی گنجائش ہوتی ہے، یا ثبوت کے اعتبار سے خبر واحد یہ غیر قطعی دلائل ہیں، غیر قطعی دلائل میں بھی ایمانیات سے متعلق امور مذکور ہو تے ہیں۔ إن ما يقصد به الاعتقاد لا يكفي فيه الظن وفيه نظر لأنهم ذكروا في العقائد ما لا مطمع فيه للقطع فتدبر. (تیسیر التحریر۳/۴۲۳)

أن العقائد تثبت بالأدلة الظنية۔ (معالم اصول الفقه عند اهل السنة و الجماعة۱/۸۲)

غیر قطعی عقائدکا حکم: غیر قطعی دلائل میں ایمانیات سے متعلق جو امور ہیں ان کو ماننا بھی واجب ہے، یعنی خبر واحد میں اگر کوئی ایمان سے متعلق بات منقول ہو تو اس پر ایمان لانا بھی واجب ہے۔ لیکن اس کا منکر کافر نہیں ہوگا، کیونکہ وہ ایک ایسی بات کا انکار کررہا ہے جو نبی ﷺ سے قطعی طور پر ثابت نہیں ہے، اور اسی یعنی ثبوت میں عدم قطعیت کی وجہ سے اس کے انکار پر کفر کا انتہائی سخت حکم لگانے سے گریز کیا جاتا ہے، البتہ دلیل کے درجہ کے پیش نظر غیر قطعی دلیل جو صحت کے ساتھ منقول ہے اس کا منکر بھی فاسق و گمراہ ضرور ہوگا۔ وَمَا وَصَفَ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْأَحَادِيثِالصِّحَاحِ الَّتِي تَلَقَّاهَا أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِالْقَبُولِ وَجَبَ الْإِيمَانُ بِهَا كَذَلِكَ.(العقیدة الواسطیة للامام ابن تيمية) والواجب ما ثبت بدليل قطعي الدلالة وظني الدلالة وقطعي الثبوت۔ (قواعد الفقه۱/۴۱۰)

خبرِ واحد جس کو امت میں تلقی بالقبول حاصل ہو: وہ خبر واحد جس کو امت میں قبولیت عامہ کا درجہ حاصل رہا ہے وہ تواتر کے درجہ میں ہے، اور اس سے ثابت حکم/یا عقیدہ کا درجہ مطلق خبر واحد سے ثابت حکم / یا عقیدہ سے بڑھا ہوا ہے۔ ایسے مسائل میں قبر کا عذاب و نعمت، فرشتوں کا سوال کرنا، قیامت کی نشانیاں، کبائر کے مرتکبین کے لئے شفاعت، میزان، صراط، حوض کی ’’تفصیلات‘‘ شامل ہیں۔ تفصیلات کا لفظ ہم نے اس لئے ذکر کیا ہے کہ ان عقائد کی مطلق بنیاد قطعی دلائل سے ثابت ہے، جن کو ہم ان کی جگہوں پر ذکر کریں گے، البتہ ان کی بعض تفصیلات ان اخبار احاد میں آئی ہیں جن کو امت میں تلقی بالقبول کا درجہ حاصل رہا ہے، اور ایسی اخبار احاد سے ثابت امور کی حیثیت بھی بہت اونچی ہے۔ فقد احتجُّوا بخبر الواحد المتلقى بالقبول في مسائل الصفات والقدر ، وعذاب القبر ونعيمِه ، وسؤال الملكين ، وأشراط الساعة ، والشفاعة لأهل الكبائر ، والميزان ، والصراط ، والحوض ، وكثير من المُعجزات ، وما جاء في صفة القيامة والحشر والنشر ، والجزم بعدم خلود أهل الكبائر في النار۔ (مجمل اعتقاد ائمۃ السلف:۱/۱۴۶)