ایمن کلیان
| راگ موسیقی | |
| فہرست ٹھاٹھ | |
| کلیان ٹھاٹھ: ایمن کلیان - بھوپالی | |
| بھیرویں ٹھاٹھ: بھیرویں - گن کلی - للت | |
| ٹوڈی ٹھاٹھ: میاں کی ٹوڈی - ملتانی | |
| کھلچ ٹھاٹھ: راگیشری - تلنگ - تلک کا مود - جھنجھوٹی | |
| بھیرویں ٹھاٹھ: بھیرویں - مالکونس | |
| ماروا ٹھاٹھ: ماروا - پوریا | |
| آساوری ٹھاٹھ: آساوری - درباری | |
| بلاول ٹھاٹھ: کیدارا - پہاڑی - بہاگ | |
| پوربی ٹھاٹھ: پوریا دھناسری - بسنت | |
| کافی ٹھاٹھ: شدھ بہار - پیلو - بھیم پلاس | |
ایمن کلیان راگ کلیان ٹھاٹھ کا سب سے پہلا راگ ہے۔ ایمن کلیان ایک سمپورن راگ ہے جس میں مدھم تیور اور باقی تمام سر شدھ استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا وادی سر گندھار اور سموادی نکھاد ہے۔ ایمن کلیان کے گانے کا وقت شام ہے۔
فہرست |
روایات [ترمیم]
ایمن کلیان کے ساتھ مختلف روایات وابستہ ہیں۔ بعض روایات کے مطابق حضرت امیر خسرو نے ایرکنی راگ ایمن سے بلاول کو ملا کر یہ راگ بنایا تھا۔ کجھ لوگ اسے ایمن اور کلیان کا مرکب کہتے ہیں۔ بعض ایمن کو ایرانی راگ ہی نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک یہ یمن سے ہندوستان پہنجا بھا چنانچہ اسے سنسکرت میں ایمن کی بجاۓ یمن کلیان ہی کہا جاتا ہے۔
سروں کی روایات [ترمیم]
ایمن کلیان کے سروں کے متعلق بھی مختلف نظریات ہیں۔ بعض لوگ اسے تیور مدھم کے ساتھ صرف ایمن کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ ان کر نڑدیک ایمن کلیان علیحدہ راگ ہے جس میں شدھ مدھم بھی استعمال ہوتی ہے۔ بعض شدھ مدھم کے استعمال کے ساتھ اسے صرف ایمن اور تیور مدھم کے ساتھ ایمن کلیان کا نام دیتے ہیں۔ ایک نژریہ یہ بھی ہے کہ تیور مدھم کی وجہ سے یہ راگ ایمن کلیان ہے اور اگر اس میں شدھ مدھم شامل ہو جاۓ تو ایمنی بلاول بن جاتا ہے۔
آروہی اوروہی [ترمیم]
آروہی: سا رے گا ما پا دھا نی سا
اوروہی: سا نی دھا پا ما گا رے سا
فلم میں استعمال [ترمیم]
احمد فراز کی مشہور زمانہ غزل رنجش ہی سہی کو ماسٹر نثار بزمی نے ایمن کے سروں میں پرویا ہے، جو سننے والے کو راگ ایمن پہچاننے میں مدد دیتی ہے:
رنجس ہی سہی، دل ہے دکھانے کے لیے آ،
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کیلیے آ،
حوالہ جات [ترمیم]
کنور خالد محمود، عنایت الہی ٹک، سرسنگیت۔ الجدید، لاہور؛ المنار مارکیٹ، چوک انارکلی۔ 1969ء صفہ 129۔