ایم ایچ عاطف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور بین الاقوامی ہاکی کی مقتدر شخصیت اصل نام منظور حسین عاطف .1928 میں پیدا ہوئے۔

کیرئیر[ترمیم]

بریگیڈیئر عاطف کو کھلاڑی اور ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت بین الاقوامی ہاکی میں ہمیشہ اہم مقام حاصل رہا۔ انہوں نے چار اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ 1960ء میں روم اولمپکس جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ سن 1962 کے ایشین گیمز فائنل میں ان کے پنالٹی کارنر پر کیے گئے گول نے پاکستان کو گولڈ میڈل سے ہمکنار کیا تھا۔ وہ اپنے دور کے بہترین لیفٹ فل بیک تھے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد[ترمیم]

بریگیڈیئر عاطف1968 اور 1984اولمپکس کے علاوہ 1982 ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے منیجر بھی تھے۔بریگیڈئر عاطف نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کی حیثیت سے سب سے طویل عرصہ یعنی گیارہ سال خدمات انجام دیں۔ وہ ایشین ہاکی فیڈریشن کے سولہ سال سیکریٹری اور نو سال نائب صدر رہے۔ایئر مارشل نور خان کے دور میں بریگیڈئر عاطف پاکستانی ہاکی کی طاقتور ترین شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کے دور میں پاکستانی ہاکی عروج پر رہی۔


اعزازات[ترمیم]

انہیں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے رولز بورڈ کے پہلے غیر یورپی چیئرمین ہونے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ بریگیڈئر عاطف کو آئی او سی نے اولمپک آرڈر آف میرٹ کے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔


الزامات[ترمیم]

تاہم ان پر کھلاڑیوں کو ان کی خواہشات کے برخلاف ریٹائر کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا جس کے بارے میں ان کا ہمیشہ یہی کہنا تھا کہ متبادل کھلاڑی ملنے کے بعد ہی منصوبہ بندی کے مطابق کھلاڑیوں کو ریٹائر کیا گیا۔ 2008 میں ان کا انتقال ہوا۔

سانچہ:تمغا حسن کارکردگی برائے کھیل