ایوبی سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایوبی خاندان
Ayyubid dynasty
ایوبیان
الأيوبيون
سلطنت

 

 

1171–13411

پرچم

صلاح الدین ایوبی کے تحت ایوبی سلطنت کا عروج 1188
دارالحکومت قاہرہ (1174–1250)
زبانیں عربی
کرد
مذہب اسلام
حکومت سلطنت (فرمانروائی کنفیڈریشن)
سلطان
 - 1174–1193 صلاح الدین ایوبی (اول)
 - 1331–1341 الفضل محمد (آخر)
تاریخ
 - قیام 1171
 - اختتام 13411
رقبہ
 - 1190 [1] 2,000,000 مربع کلومیٹر (772,204 مربع میل)
آبادی
 - بارہویں صدی تخمینہ 7,200,000 (تخمینہ) 
سکہ دینار
موجودہ ممالک Flag of Egypt.svg مصر
Flag of Iraq.svg عراق
Flag of Israel.svg اسرائیل
Flag of Jordan.svg اردن
Flag of Lebanon.svg لبنان
Flag of Libya.svg لیبیا
Flag of فلسطین فلسطین
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
Flag of Sudan.svg سوڈان
Flag of Syria.svg شام
Flag of Tunisia.svg تونس
Flag of Turkey.svg ترکی
Flag of Yemen.svg یمن
Warning: Value specified for "continent" does not comply


ایوبی سلطنت اپنے عروج کے زمانے میں

ایوبی سلطنت یا سلطنت آل ایوب کرد نسل کے مسلم خاندان کی حکومت تھی جس نے 12 ویں اور 13 ویں صدی میں مصر، شام، یمن، دیار باکر، مکہ، حجاز اور شمالی عراق پر حکومت کی۔

ایوبی سلطنت کے بانی صلاح الدین ایوبی تھے جن کے چچا شیر کوہ نے زنگی سلطان نور الدین زنگی کے سپہ سالار کی حیثیت سے 1169ء میں مصر فتح کیا تھا۔ اس سلطنت کا نام شیر کوہ کے بھائی اور صلاح الدین کے والد نجم الدین ایوب کے نام پر ایوبی سلطنت پڑا۔ صلاح الدین نے مصر میں فاطمی سلطنت کا خاتمہ کیا اور 1174ء میں نور الدین کے انتقال کے بعد دمشق پر قبضہ کرکے شام کو بھی اپنی قلمرو میں شامل کرلیا۔

صلاح الدین صلیبی جنگوں کے دوران 1187ء میں جنگ حطین میں صلیبیوں کو عظیم شکست، فتح بیت المقدس اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تیسری صلیبی جنگ میں فتح کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ صلاح الدین 1193ء میں انتقال کرگئے جس کے بعد سلطنت ان کے بیٹوں کے درمیان بٹ گئی اور بالآخر 1200ء میں صلاح الدین کے بھائی العادل پوری سلطنت کا قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 1218ء میں العادل اور 1238ء میں الکامل کے انتقال پر پھر یہی صورتحال سامنے آئی۔ 1250ء میں آخری ایوبی سلطان توران شاہ قتل ہوگیا اور اس کے مملوک غلام جرنیل ایبک نے بحری مملوک سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مصر ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد ایوبیوں نے اگلے 80 سال تک شام میں مزاحمت جاری رکھی اور بالآخر 1334ء میں شام بھی مکمل طور پر مملوکوں میں شامل ہوگیا۔

مصر کے ایوبی سلاطین[ترمیم]

  • صلاح الدین 1171ء تا 1193ء
  • العزیز 1193ء تا 1198ء
  • المنصور 1198ء تا 1200ء
  • العادل 1200ء تا 1218ء
  • الکامل 1218ء تا 1238ء
  • العادل ثانی 1238ء تا 1240ء
  • الصالح ایوب 1240ء تا 1249ء
  • توران شاہ 1249ء تا 1250ء
  • الاشرف ثانی 1250ء تا 1254ء (اصل اقتدار مملوک سلطان ایبک کے پاس تھا)

دمشق کے ایوبی سلاطین[ترمیم]

  • صلاح الدین 1174ء تا 1193ء
  • الافضل 1193ء تا 1196ء
  • العادل 1196ء تا 1218ء
  • المعظم 1218ء تا 1227ء
  • الناصر داؤد 1227ء تا 1229ء
  • الاشرف 1229ء تا 1237ء
  • الصالح اسماعیل 1237ء
  • الکامل 1237ء تا 1238ء
  • العادل ثانی 1238ء تا 1239ء
  • الصالح ایوب 1239ء
  • الصالح اسماعیل 1239ء تا 1245ء (دوسری مرتبہ)
  • الصالح ایوب 1245ء تا 1249ء (دوسری مرتبہ)
  • توران شاہ 1249ء تا 1250ء
  • الناصر یوسف 1250ء تا 1260ء

حلب کے ایوبی امیر[ترمیم]

  • العادل اول 1183ء تا 1186ء
  • الظاہر 1186ء تا 1216ء
  • العزیز 1216ء تا 1236ء
  • الناصر یوسف 1236ء تا 1260ء

حماہ کے ایوبی امیر[ترمیم]

  • المظفر اول 1178ء تا 1191ء
  • المنصور اول 1191ء تا 1221ء
  • الناصر 1221ء تا 1229ء
  • المظفر ثانی 1229ء تا 1244ء
  • المنصور ثانی 1244ء تا 1284ء
  • المظفر ثالث 1284ء تا 1299ء
  • الموید 1310ء تا 1332ء
  • الافضل 1332ء تا 1334ء

حمص کے ایوبی امیر[ترمیم]

  • القاہر 1178ء تا 1186ء
  • المجاہد1186ء تا 1240ء
  • المنصور1240ء تا 1246ء
  • الاشرف1248ء تا 1263ء

یمن کے ایوبی امیر[ترمیم]

  • المعظم توران شاہ 1173ء تا 1181ء
  • العزیز تغتگین 1181ء تا 1197ء
  • معز الدین اسماعیل 1197ء تا 1202ء
  • الناصر ایوب 1202ء تا 1214ء
  • المظفر سلیمان 1214ء تا 1215ء
  • المسعود یوسف 1215ء تا 1229ء

جزیرہ کے ایوبی حکمران[ترمیم]

(نامکمل فہرست)

  • الاشرف 1218ء تا 1237ء

متعلقہ مضامین[ترمیم]

صلاح الدین ایوبی

صلیبی جنگیں

مملوک

بیرونی روابط[ترمیم]

ایوبی سلطنت

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Turchin, Peter; Adams, Jonathan M.; Hall, Thomas D (December 2006). "East-West Orientation of Historical Empires". Journal of world-systems research 12 (2): 219–229. http://jwsr.ucr.edu/archive/vol12/number2/pdf/jwsr-v12n2-tah.pdf. Retrieved 9 January 2012.