ایوب علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاء علیہ سلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ھود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعيب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سليمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

پیغمبر۔ قرآن میں متعدد جگہ آپ کا ذکر ہے۔ سورۃ النساء آیہ 163 اور سورۃ انعام آیہ 85 میں ‌دوسرے انبیاء کرام کے ناموں کے ساتھ صرف آپ کا نام ہے، حالات نہیں۔ سورۃ انبیا (آیہ 83 تا 84) اور سورۃ ص (آیہ 41 تا 44) میں‌آپ کا مختصر حال بیان کیا گیا ہے۔ قرآن سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہت خوشحال اور مالدار تھے۔ خدا نے آپ کی آزمائش کی۔ آپ کی تمام جائیداد تباہ ہوگئی، آل اولاد، نوکر چاکر سب مرگئے اور آپ خود ایک موذی مرض میں مبتلا ہوگئے۔ آہ و زاری کی تو اللہ نے فرمایا (زمین پر پیر مار) پیر مارنے سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس میں آپ نہائے تو تندرست ہوگئے خدا نے آپ کا مال و اسباب آپ کو واپس بخش دیا اور بال بچے ، نوکر چاکر بھی دوبارہ زندہ کر دیے۔ قرآن نے آپ کو صبر کرنے والا، رجوع کرنے والا اور اچھا بندہ کہا ہے۔

مفسرین نے آپ کے تفصیلی حالات لکھے ہیں جو تھوڑے سے اضافے کے ساتھ تمام تر بائبل سے ماخوذ ہیں۔ بائبل میں پورا ایک صحفہ (سفر ایوب) کے نام سے ہے۔ جو قدیم شاعری کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کے مطابق آپ کا نا یوباب تھا اور آپ زراح بن رعوائل بن عیسوا دوم بن اسحاق کے بیٹے تھے۔ عیسوا دوم حضرت اسحاق سے ناراض ہو کر اپنے چچا حضرت اسماعیل کے پاس چلے گئے تھے، کیونکہ ان کے بھائی یعقوب نے اپنے باپ کو دھوکا دے کر ان سے نبوت حاصل کر لی تھی۔ بائبل نے آپ کا وطن بصری بتایا ہے جو فلسطین کے پاس ایک چھوٹا سا شہر ہے۔

مورخین کا بیان ہے کہ آپ نے حضرت اسماعیل کی لڑکی سے شادی کی۔ علاوہ ازیں دو اور نکاح کیے اور ان سے جو اولاد ہوئی اُسے لے کر کوہ شعر (کوہ سرات) کے دامن میں‌چلے گئے۔ یہ مقام شمال مغربی عرب میں واقعہ ہے۔ کچھ مدت بعد آپ کے قبیلے نے ایک طاقتور قوم کی شکل اختیار کر لی۔ جس پر آٹھ بادشاہوں نے حکومت کی۔ حضرت ایوب دوسرے بادشاہ تھے، بائبل میں ان آٹھوں بادشاہوں کے نام درج ہیں۔ بعض‌مورخین نے آپ کا زمانہ 1000 ق م اور بعض نے 1520 ق م بتایا ہے۔ بائبل کے مطابق آپ نے ایک سو چالیس سال کی عمر پائی۔

مزید دیکھیں[ترمیم]