اے حمید (مصنف)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اے حمید (مصنف)
پیدائش 1928ء
امرتسر
وفات 29 اپریل 2011
لاہور
قلمی نام اے حمید
پیشہ ناول نگاری
قومیت ہندوستانی
نژادیت پاکستانی
شہریت پاکستان
تعلیم ایف اے
صِنف افسانہ نگاری ، ناول نگاری
موضوعات تاریخ ، ناول ، معاشرہ
نمایاں کام مرزا غالب لاہور میں , منزل منزل

اردو کے مشہور ڈراما نگار ۔ افسانہ نگار اور ناول نگار اے حمید

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

عبدالحمید 25 اگست 1928ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ میٹرک امرتسر سے کیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے پاس کرکے ریڈیو پاکستان پراسسٹنٹ اسکرپٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان میں ملازمت کے بعد وائس آف امریکہ سے وابستہ ہوئے۔

آخری ایام[ترمیم]

سانس کی تکلیف کی بنا پر اسپتال میں داخل کیے گئے۔ علاج کے ساتھ ساتھ تکلیف بڑھتی چلی گئی۔ آخری چند دنوں میں گفتگو نہیں کرسکتے تھے، ایسا کرنے کی کوشش میں آنکھیں ڈبڈبا جاتی تھیں۔ مسلسل کئی روز مصنوعی تنفس کی مشین پر رہے پھر اس کے بعد معالجین نے گردن میں سوراخ کرکے سانس کا بندوبست کیا۔ اسی حالت میں 29 اپریل، 2011 کو رات دو بجے جسم میں اچانک پانی بھرنا شروع ہوگیا۔ معالجین نے ان کی اہلیہ ریحانہ کو بلایا جو اس وقت اوپر کی منزل پر ایک کمرے میں مقیم تھیں۔ اے حمید نے اسی حالت میں نصف شب کو جان، جان آفریں کے حوالے کی۔

فن[ترمیم]

اے حمید کا پہلا افسانہ ‘منزل منزل‘ ادب لطیف میں 1948 میں شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوں کا پہلا ہی مجموعہ ’’منزل منزل‘‘ بے حد مقبول ہوا۔ جو ان کی رومانوی افسانہ نگار کے طور پر پہچان بن گیا۔ افسانوں کے علاوہ ایک عرصہ سے اخبارات میں باقاعدہ کالم نویسی بھی کر رہے ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن کے لیے بہت سے پروگرام لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔افسانہ نویسی ان کی بے حد پسندیدہ اور مقبول صنف ادب ہے۔ ان کی تصانیف میں ’’اردو شعر کی داستان‘‘ ’’اردو نثر کی داستان‘‘ اور ’’مرزا غالب لاہور میں ‘‘ کے علاوہ متعدد ناول شامل ہیں۔

رومانیت[ترمیم]

عبدالحمید عصر حاضر کے ترجمان ، جذباتی اور رومانی، فطرت سے عشق کرنے والے افسانہ نگاری ہیں۔ ایک خاص فضا ، خاص ماحول اور خاص سیٹ آپ میں ان کے بہت سے افسانے لکھے گئے ہیں۔ فطری حسن و دلکشی سے دلچسپی نے ان کی تحریروں میں نغمہ و شعر کی سی رنگین و روانی بھر دی ۔ جو پڑھنے والے کو پریوں کی دنیا میں لے جاتی ہے اور کلیوں ، پھولوں ، تاروں ، تتلیوں ، چاند کی کرنوں اور چائے کی مسحور کن خوشبو اور لذیر اشتہا انگیز اشیائے خوردنی کا بہت روانی اور باریک بینی سے بیان۔ یہ سب کچھ ان کے فن کی جان ہے جس نے اسے انفرادیت بخشی ہے اور اسے ادبی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ بہت سے جگہوں پر ہو حد سے زیادہ ماضی پرست ہوجاتے ہیں۔ ماضی کے سنہرے دنوں میں کھو کر انہیں بہت یادکرتے ہیں ۔ ماضی کی یاد میں نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔

ماضی پرستی[ترمیم]

وہ اپنے قاری کو گریز اور فرار کی زندگی کی راہ پر لے جاتے ہیں جو حال سے چھپ کر ماضی میں پناہ لے لیتا ہے۔ وہ عملی زندگی کی سچی ، ننگی ، تلخ اور پتھریلی حقیقتوں سے منہ موڑ کر ماضی میں پناہ تلاش کرتے ہیں اور بار بار ماضی کے سپنوں میں ، خیالوں میں ، یادوں میں کھوئے رہتے ہیں۔

کردار[ترمیم]

ان کے سارے کردار ہشاش بشاش ہیں۔ خوش لباس ، خوش گفتار ، خوش خوراک ہوتے ہیں۔ وہ چھوٹے اور معمولی واقعہ سے کہانی بناتے ہیں۔ جزئیات اور کردار نگاری ٫میں درجہ کمال حاصل ہے

عبدالحمید کے افسانوں میں رومانی محبت اور جذباتی حدت آنسوؤں سے نم آلود ہے۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے ایک عجیب نوع کی رومانی فضا تعمیر کی اور پھر عمر بھر اسی فضا کے رومانی دھندلکوں میں رہنا پسند کیا۔

انداز بیان[ترمیم]

معاشرتی حقیقت اور سماجی آگہی ان کے افسانوں کا قیمتی عنصر ہے۔ لیکن رومانیت اس کی زہر ناکی پر غالب آ جاتی ہے۔ ان کا انداز بیان اتنا سحر انگیز اور دلنشین ہوتا ہے کہ عام سی جگہ اور انسان بھی بہت جادوئی اور ماورائی حسن کا شاہکار نظر آنے لگتا ہے۔ اور انسان اس کی بیان کردہ فضا کے سحر میں گرفتار ہوتا چلا جاتا ہے۔

انفرادیت[ترمیم]

عبدالحمید کے افسانے جذبہ محبت اور فطرت کی خوبصورتی کو باہم ایک کرکے ماورائی فضا ترتیب دیتے ہیں۔ یہ خود سپردگی کے نشے میں سرشار اپنی نوع میں بہت معتبر ہیں۔ اور اس کے افسانوں کی سحر انگیز فضاؤں میں ادھوری ناکام محبتوں کی مدھر سریں اور رومانی یادیں بڑی ہی الگ اور منفرد ہیں۔ جو صرف اے حمید کی انفرادیت ہے۔

تخلیقات[ترمیم]

  • منزل منزل
  • ڈربے
  • اردو شعر کی داستان
  • اردو نثر کی داستان
  • مرزا غالب لاہور میں
  • دیکھو شہر لاہور
  • یادوں کے گلاب
  • گلستان ادب کی سنہری یادیں
  • لاہور کی یادیں
  • امرتسر کی یادیں (اس کتاب کو ہر لحاظ سے ان کی خودنوشت کہا جاسکتا ہے)

روابط[ترمیم]

بیرونی روابط برائے مطالعہ[ترمیم]

  • عبدالحمید کی بیماری کے دوران اور ان کی وفات کے روز راشد اشرف کے تحریر کردہ دو عدد مضامین یہاں پڑھے جاسکتے ہیں:

http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10555504716/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10555484155/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10535375775/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10475351475/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10475368155/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10475574613/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10555481765/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10624960004/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10636691065/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10644295586/in/photostream/ http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/10644292136/in/photostream/