بابا فرید الدین گنج شکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر برّصغیر میں چشتیہ سلسلے کے عظیم صوفی بزرگ ہیں۔ آپ کا مزار پاک پتن، پاکستان میں ہے۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

عظیم صوفی بزرگ اورشاعر۔بابا فرید الدین گنج شکر کا اصل نام مسعو د اور لقب فرید الدین تھا۔ آپ بغیر کسی شک و شبہ کے پنجابی ادب کے پہلے اور پنجابی شاعری کی بُنیاد مانے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی شمع جلائی اور صرف ایک اللہ کی دُنیا کو پہچان کروائی۔ بابا فرید584/ 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ سیرالعارفین (تصنیف 1311 ھ مطبوعہ رضوی دہلی) کے مصنف حامد بن فضل اللہ جمالی کہتے ہیں کہ بابا فرید کے والد شیخ شعیب سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے جو شہاب الدین غوری کے زمانے میں ملتان کے قصبہ کھوتووال میں آ کر آباد ہوئے۔بعض روایات کے مطابق ان کے دادا ہجرت کر کے لاہور آئے اور اس کے بعد کچھ وقت قصور میں گزار کر کھوتوال چلے گئے۔ کچھ روایات کے مُطابق آپ کا سلسلہ خلیفہ دوم حضرت عُمر کے ساتھ جا ملتا ہے اور عزیز الدین اور نجیب الدین آپ کے دو بھائی تھے۔ (پنجابی، رنگ پنجاب دے، قمر حُسنین فریدی)۔ حضرت بابا فریدالدین

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

بابا فرید ملتان میں منہاج الدین کی مسجد میں زیر تعلیم تھے جہاں ان کی ملاقات جناب بختیار کاکی اوشی سے ہوئی اور وہ ان کی ارادت میں چلے گئے۔اپنے مرشد کے حکم پر بین الاقوامی اور سماجی تعلیم کے لیے قندھار اور دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی پہنچ گئے۔

چشتیہ سربراہ[ترمیم]

مرشد کی وفات پر ان کو چشتیہ سنگت کا سربراہ بنایا گیا۔ وہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیار کاکی کے بعد اس کے تیسرے سربراہ تھے۔ اور حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرشد تھے۔

موجودہ دور میں چشتی سلسلہ کے مشہور پیرو کار حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف ضلع کوٹ مٹھن ، راولپنڈی کے پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور دیوان سید محمد آف پاکپتن مشہور ہیں۔

دلی سے پاکپتن[ترمیم]

ویسے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو دلی کی شان و شوکت ہرگز پسند نہ تھی جس کی وجہ سے وہ پہلے ہانسی اور پھر اجودھن یا پاک پتن میں ڈیرہ نشیں ہو گئے۔ لیکن کچھ روایات کے مطابق دلی اور اس کے گرد و نواح کی چشتیہ اشرافیہ ملتان کے ایک قصباتی نوجوان کو سربراہ ماننے کو تیار نہ تھی اور ان کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے وہ پاکپتن تشریف لے آئے۔شاید دونوں باتیں ہی درست ہوں کہ ان کے خلاف سازشیں بھی ہو رہی ہوں اور ان کو اپنے دیس کی عوامی زندگی بھی پسند ہو۔ وہ کہتے ہیں:

فریدا برے دا بھلا کر غصہ من نہ ہنڈاء
دیہی روگ نہ لگیے، پلے سب کجھ پاء

(فریدا، برے کا بھلا کر تاکہ تمہارا دل غصے کے تصرف میں نہ چلا جائے، غصے کی نظر نہ ہو جائے۔ اگر تم جسم کو روگ نہیں لگانا چاہتے ہو تو سب غصے والی چیزیں سمیٹ لو)۔

پاکپتن اس زمانے میں تجارتی شاہراہ پر ایک اہم مقام تھا۔ دریائے ستلج کو یہیں سے پار کیا جاتا تھا۔ یہ بات حادثاتی نہیں ہے کہ پنجابی کے دوسرے کلاسیکی دانشوروں نے تجارتی مقامات پر زندگی گزاری جہاں ان کو دنیا کے بارے میں اطلاعات ملتی رہتی تھیں۔بہت سی تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ بہت سے عالم دور دراز سے گرائمر اور زبان دانی کے مسائل حل کرانے کے لیے بابا فرید کے پاس پاکپتن آتے تھے۔

قوالی[ترمیم]

حضرت فرید الدین کے ہاں قوالی گانے اور سننے کا رواج تھا لیکن آپ کے شاگرد حضرت نظام الدین اولیاء دہلی کے ہاں اس چیز کی ممانعت تھی اور اسے اچھا نہ سمجھا جاتا تھا

شادی[ترمیم]

حامد بن فـضل جمالی کا کہنا ہے کہ بابا فرید نے پاکپتن میں ہی شادی کی حالانکہ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق وہ دلی میں بادشاہ ناصرالدین محمود کے دربار میں گئے جہاں بادشاہ نے اپنی بیٹی ہزابارہ کی شادی ان سے کر دی۔ لیکن بعد میں ہونے والے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے عوامی رنگ میں رہتے ہوئے اپنے طبقے میں ہی شادی کی تھی۔

سازشیں[ترمیم]

پاکپتن کی عوامی زندگی بھی کوئی آسان نہ تھی کیونکہ وہاں بھی مذہب کا ٹھیکیدار ’قاضی‘ موجود تھا جو ہر طرح سے ان کو تکالیف پہنچانے پر تیار رہتا تھا۔ اس کے اکسانے پر لوگ آپ کی اولاد کو آزار پہنچاتے تھے لیکن بابا فرید کچھ زیادہ توجہ نہ دیتے تھے۔قاضی کو اس پر بھی چین نہ آیا اور اس نے ملتان کے علماء کو اطلاع دی اور سوال کیا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک شخص جو اہلِ علم ہے خود کو درویش کہلوائے، ہمیشہ مسجد میں رہے اور وہاں گانا سنے اور رقص کرے۔جب ان علماء نے بھی کچھ نہ کیا تو قاضی نے کسی کو دے دلا کر تیار کیا کہ وہ بابا فرید کو دوران عبادت ختم کر دے لیکن اس کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔

عام لوگوں سے محبت[ترمیم]

اس مشکلات کے باوجود بابا فرید نے زندگی کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر عوام کے دکھوں کے حوالے سے دیکھا۔ میں جانیا دکھ مجھی کو دکھ سبھائے جگ اچے چڑھ کے ویکھیا گھر گھر ایہو اگ (میں سمجھا تھا کہ دکھ صرف مجھے ہی ہے لیکن دکھ تو سارے جہان کو ہے۔ اوپر چڑھ کر دیکھا تو پتا چلا کہ گھرگھر یہی آگ سلگ رہی ہے۔)

بابا فرید کی عوام کے ساتھ ذاتی اور نظریاتی دونوں ہی اعتبار سے محبت اور پیار تھا۔ وہ کہتے ہیں فریدا خالق خلق میں، خلق وسے رب مانہہ مندا کس نوں آکھیے، جاں تس بن کوئی نانہہ (فریدا خدا مخلوق میں اور مخلوق خدا میں جاگزین ہے۔ کس کو برا کہیں جب تمہارے بغیر کوئی نہیں ہے)۔ فریدا خاک نہ نندئیے خاکو جیڈ نہ کوئے جیوندیاں پیراں تھلے، مویاں اپر ہوئے (فریدا خاک کی ناقدری نہ کرو کیونکہ زندگی میں پاؤں اس پر کھڑے ہوتے ہیں اور مرنے پر یہ اوپر سے ڈھانپتی ہے)۔

وفات[ترمیم]

بابا فرید 93 سال کی عمر پا کر 1266 میں رخصت ہوئے۔ انہوں نے خود ہی کہا تھا: کندھی اپر رکھڑا کچرک بنھے دھیر کچے بانڈھے رکھیے کچر تائیں نیر (دیوار پر اگا درخت کب تک حوصلہ مند رہےگا۔ کچے برتن میں کب تک پانی سنبھالا جا سکتا ہے)۔ حضور بابا صاحب نے سخت بے چینی اور تکلیف میں گزارا۔ مگر تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کیں اور تمام وظائف بھی پورے کئے پھر عشاء کی نماز جماعت سے پڈھ کر آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی ۔کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو آپ نے مولانا بدر الدین اسحاق سے پوچھا کے میں نے عشاء کی نماز پڈح لی  یے۔مولانا بدر الدین اسحاق نے جواب دیا حضور عشاء کی نماز  وتر کے ساتھ ادا کر چکے ہیں ۔اس کے باد آپ پھر بے ہوش ہوگے جب ہوش آیا تو فرمایا میں  دوسری مرتبہ نماز ادا کرو گا خدا جانے پھر یہ موقع ملے یا نہ  ملے۔معلانا دبر الدین کہتے ہیں کہ اس رات آپ نے تین مرتبہ  نماز عشاء ادا کی۔ پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔وضو کیا دو گانہ ادا فرمایا پھر سجدے میں چلے گئے اور سجدے میں ہی آہستہ آواز سے یاحیی یا قیوم پڈھتے آپ واصل حق الحبیب ہوگئے ۔

اقوال زریں بابا فرید[ترمیم]

  • انسانوں میں رذیل ترین وہ ہےجوکھانےپینےاورپہننےمیں مشغول رہے۔
  • جوسچائی جھوٹ کےمشابہہ ہواسےاختیارمت کرو۔
  • نفس کواپنےمرتبہ کےلئےخوارنہ کرو۔
  • اگرتم بزرگوں کامرتبہ چاہتےہوتوبادشاہوں کی اولادسےدوررہو۔
  • جب کوئی مومن بیمارہوتواسےمعلوم ہوناچاہیےکہ یہ بیماری اس کےلئےرحمت ہے۔جوگناہوں سےاس کوپاک کرتی ہے۔
  • دوریش فاقےسےمرجاتےہیں مگرلذت نفس کےلئےقرض نہیں لیتے۔
  • جس دل میں اللہ کاذکرجاری رہتاہےوہ دل زندہ ہےاورشیطانی خواہشات اس پرغلبہ نہیں پاسکتیں۔
  • وہ شےبیچنےکی کوشش نہ کروجسےلوگ خریدنےکی خواہش نہ کریں۔
  • اچھائی کرنےکےلئےہمیشہ کسی بہانےکی تلاش میں رہو۔
  • دوسروں سےاچھائی کرتےہوئےسوچوکہ تم اپنی ذات سےاچھائی کررہےہو۔
  • ہرکسی کی روٹی نہ کھابلکہ ہرشخص کواپنی روٹی کھلا۔
  • وہ لوگ جودوسروں کےسہارےجینےکاارادہ رکھتےہیں،وہ تساہل پرست،کم ظرف اورمایوس ہوتےہیں۔
  • اطمینان قلب چاہتےہوتوحسدسےدوررہو۔[1]