بابا لال داس بیراگی
وحدت ادیان کے پرچار اور کفر و اسلام کے فرق کو مٹانے کے لیے وجود میں آنے والی بھگتی تحریک کا آخری دورِ شاہ جہانی میں علم بردار تھا۔ اس نے اپنی فکر کو پھیلانے کے لیے باقاعدہ حلقہ بنا رکھا تھا جو بابا لالی کہلاتے تھے۔
بابا لال کا نام معاصر کتابوں میں کئی طرح سے لکھا ہوا ملتا ہے جس سے التباس ہوتا ہے کہ یہ ایک نام نہیں ہے لیکن درحقیقت اس سے مراد ایک ہی شخصیت ہے جسے مختلف طریقے سے لکھ دیا گیا ہے۔
بابا لال مندیہ، باوا لال بیراگی، بابا لال دیال، بابا لال سوامی
[ترمیم] بابا لال اور دارا شکوہ
دارا شکوہ کا اس کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا۔ وہ چندر بھان برہمن کے ہمراہ لاہور میں لال بابا سے نومبر اور دسمبر 1653ء میں دو ماہ تک ملاقاتیں کرتا رہا۔ اس میں چندر بھان برہمن ترجمان کی حیثیت سے موجود تھا۔ اس عرصہ میں بابا لال سے جو گفتگو ہوئی وہ کتابی صورت میں ہندی زبان میں محفوظ کر لی گئی جس کا ہندی نام Goshti Baba Lal Dyal ہے۔[1] بعد میں ان مکالمات کے ترجمان چندر بھان برہمن نے اس کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا جو مکالمہ بابا لا ل و دارا شکوہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مکالمہ کئی بار طبع ہو چکا ہے۔ لاہور سے اس کا اردو ترجمہ بھی چھپا تھا۔ ان مکالمات میں داراشکوہ نے جو سوالات کیے وہ واضح کرتے ہیں کہ دارا شکوہ کا ذہن کس طرح تیزی سے کفر حقیقی کے حقائق جاننے کی طرف مائل ہو رہا تھا اور اس کے بعد جب اس نے ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کا گہرا مطالعہ اور پھر ان پر تحقیق و ترجمہ کا کام شروع کیا تو اس وقت تک وہ بابا لال سوامی کے رنگ میں پوری طرح اپنے آپ کو رنگ چکا تھا۔[2]
معلوم ہوتا ہے کہ دارا شکوہ ملاقات کے انہی ایام میں ہی حسنات العارفین بھی مرتب کر رہا تھا اور ان ملاقاتوں کے بعد ہی یعنی جنوری 1655ء میں اسے مکمل کر لیا تھا۔ اس کتاب میں بابا لال کی وہ نصیحتین، جو اس نے دارا شکوہ کو کی تھیں، محفوظ ہیں۔ دارا شکوہ اس کتاب میں بابا لال کو کمل عرفا اور تمام ہندوئوں میں سب سے زیادہ عارف و متین شخص کے القاب سے یاد کرتا ہے۔ بابا لال کی ایک نصیحت جو اس نے دارا شکوہ کو کی اس سے اس کا وحدت ادیان کا نظریہ واضح ہو جاتا ہے:
| ” | ہر قوم میں عارف و کامل ہوتے ہیں، خدا ان کی برکت سے اس قوم کو نجات دیتا ہی۔ تم کسی قوم کے منکر نہ ہونا۔[3] | “ |
اس سے اگلے ہی سال 1065ھ / 1655ء میں جب وہ اپنی مشہور کتاب مجمع البحرین لکھنے بیٹھا تو اس پر بابا لال کے افکار پوری طرح مسلط ہو چکے تھے۔[4]
دارا شکوہ نے مجمع البحرین میں نبوت و ولایت کے بیان کے ماتحت بابا لال کو اپنا مرشد لکھا ہے۔[5]
بابا لال نے سرہند کے قریب دہیان پور میں ایک مندر کے ساتھ اپنے چیلوں کی تربیت کے لیے ایک تربیت گاہ بنالی تھی جہاں بہت سے طالب اس کے گرد جمع رہتے تھے۔ اسے سمادھی بابا لال کہتے ہیں جو دارا شکوہ کے حکم سے تعمیر کی گئی تھی۔ دارا شکوہ متعدد بار یہاں آکر بابا لال سے مستفید ہوتا رہا۔ سمادھی بابا لال کے سجادہ نشینوں کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔[6]
قیاس ہے کہ دارا شکوہ نے بابا لال کے لیے قصداً اس لیے سمادھی بنائی تاکہ مجددی تحریک جس کی بنیاد فکر احیائے اسلام ہے اور جس کا مرکز سرہند شریف ہے، کی نقل و حرکت سے ہر وقت باخبر رہ سکے۔[7]
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ دیوان چندر بھان برہمن، مرتبہ محمد عبد الحمید فاروقی۔ گجرات، احمد آباد، 1967ء, مقدمہ ص1
- ^ حسنات الحرمین ، اردو ترجمہ محمد اقبال مجددی ص87
- ^ حسنات العارفین، دارا شکوہ، طبع تہران 1352خ ص9
- ^ Movements, Rizvi, p 355
- ^ مجمع البحرین، دارا شکوہ، طبع محفوظ الحق، ص2
- ^ چار باغ پنجاب، گینش داس وڈیرہ، ص96
- ^ حسنات الحرمین ، اردو ترجمہ محمد اقبال مجددی ص89