باب:معاشیات و تجارت
وکیپیڈیا سے
| اس مقالے کے عنوان میں غیر اردو حروف تحجی استعمال ہوئے ہیں۔ ان حروف کی وجہ سے صارفین کو مقالہ تلاش کرنے اور دوسرے مقالات میں اس کا ربط دینے میں دشواری کا احتمال ہے۔
|
|
ترمیم
باب:معاشیات و تجارت
ترمیم
منتخب مقالہبین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ:IMF) ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور انکی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ، بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے اور انکی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لئے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے بہت سے یورپی ممالک کا توازن ادائیگی کا خسارہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے ممالک کی مدد کرنے کے لیے یہ ادارہ وجود میں آیا۔ یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدہ کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کے لئے دسمبر 1945 میں قائم ہوا۔ اس کا مرکزی دفتر امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہے۔ اس وقت دنیا کے 185 ممالک اسکے رکن ہیں۔ شمالی کوریا، کیوبا اور کچھ دوسرے چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے جس کی وجہ اس کے فیصلوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے جو ان ممالک کے بیرونی قرضہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اوپر کچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کے معاشی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑتی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ترمیم
منتخب تصویر
ترمیم
منتخب معیشتچین دنیا میں خام ملکی پیداوار کے حساب سے چوتھا ملک ہے اور بڑی تیزی سے مزید ترقی کر رہا ہے اور اب یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ اگر چین ایسے ہی ترقی کرتا رہا تو جلد ہی اسے دنیا کی ایک عظیم طاقت (Super Power) تسلیم کرنا پڑے گا۔ چھبیس کھرب امریکی ڈالر کی خام ملکی پیداوار اور دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین کی فی کس آمدنی بھی دو ھزار ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے اور مساوی قوتِ خرید فی کس آمدنی بھی سات ھزار ڈالر سے زیادہ ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چین ایک اشتراکی (Socialist) ملک ہے مگر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کی %70 خام ملکی پیداوار نجی شعبہ میں ہوتی ہے۔ چین دنیا کا واحد ملک ہے جسے وقتاً فوقتاً اپنی ترقی پر روک لگانا پڑتی ہے تاکہ غیر ضروری ترقی سے اس کا معاشرتی ڈھانچہ تباہ نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی اپنے ملک میں مسلسل اصلاحات کر رہے ہیں تاکہ وہ دنیا میں اپنا معاشی مقام بنا سکیں اور سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ بھی کر سکیں۔ چین کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ معاشی اشاریوں (Indicators) کے مطابق اس کی خام ملکی پیداوار کی تقسیم آبادی میں سب سے زیادہ مناسب ہے یعنی امیر اور غریب کے درمیان فرق نسبتاً کم ہے۔ 2006ء میں چین کی خام ملکی پیداوار 1978ء کی نسبت 10 گنا زیادہ تھی۔ چین کی طاقت کا اندازہ بہت سی چیزوں سے ہو سکتا ہے مثلاً اس میں 23000 سے زیادہ بند (ڈیم) ہیں۔ 2005ء میں اس کی برآمدات اس کی درآمدات سے 30 ارب امریکی ڈالر زیادہ تھیں۔ 2006ء میں چین میں 70 ارب امریکی ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ اسی سال چین دنیا میں سب سے بڑے زرِ مبادلہ کے ذخائر رکھنے والا ملک بن گیا۔ ترمیم
تجارتی خبریںخبروں میں
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| اشاریہ (امریکی) | جدید ترین | تبدیلی |
|---|---|---|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
| اشاریہ (امریکی) | جدید ترین | تبدیلی |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
کیا آپ کو معلوم ہے کہ۔۔۔۔۔
- امریکہ نے دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ بیرونی قرضے لے رکھے ہیں اور دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے۔ (مزید)
- دنیا کی تقریباً آدھی آبادی صرف پانچ ممالک چین، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں رہتی ہے۔ (مزید)
- پاکستان اور چین کے درمیان شاہراہ قراقرم دنیا کی بلند ترین بین الاقوامی شاہراہ ہے۔ (مزید)
- تربیلا بند (ڈیم) دنیا میں مٹی کی بھرائی کا سب سے بڑا بند ہے۔ (مزید)
- لکسمبرگ کی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ ہے جو 80,471 امریکی ڈالر سالانہ ہے۔ (مزید)
منتخب اقتباس
" یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ ہمارے بینکاری اور مالیاتی نظام کو نہیں سمجھتے کیونکہ اگر ایسا ہو تو میرے خیال میں کل صبح سے پہلے انقلاب آ جائے گا "
ذیلی زمرہ جات معاشیات و تجارت
معاشیات:- احصائی علوم ۔ اسلامی معاشیات ۔ انتظامی معاشیات ۔ بشری شماریات ۔ بین الاقوامی ادارے ۔ بین الاقوامی تجارت ۔ بین الاقوامی معاشیات ۔ بینکاری ۔ تاریخِ معاشیات ۔ تجارتی معاشیات ۔ تجزیاتی معاشیات ۔ ثقافتی معاشیات ۔ جزیاتی معاشیات ۔ ریاضیاتی معاشیات ۔ زرعی معاشیات ۔ زری معاشیات ۔ صنعتی تنظیم ۔ عمومی معاشیات ۔ فلاحی معاشیات ۔ کلیاتی معاشیات ۔ قیاسی معاشیات ۔ لغت (معاشیات و تجارت و مالیات و نظامت) ۔ ماحولیاتی معاشیات ۔ مالیاتی معاشیات ۔ مصنع لطیف برائے معاشرتی علوم ۔ معاشی ترقی ۔ معاشی منصوبہ بندی ۔ معاشی نظام ۔ معاشی نظریات ۔ معاشی نمو ۔ معاشیات اور قانون ۔ معاشیاتِ آبادی ۔ معاشیات پاکستان ۔ معاشیاتِ پیداوار ۔ معاشیاتِ تعلیم ۔ معاشیاتِ جنس ۔ معاشیاتِ خاندان ۔ معاشیاتِ سیاست ۔ معاشیاتِ صحت ۔ معاشیاتِ طرزیات ۔ معاشیاتِ عوام ۔ فہرستیں (معاشیات) ۔ معاشیات کی کتابیں ۔ معاشیات کے جریدے ۔ معاشیاتِ محنت ۔ معاشیات مناطق ۔ معاشیاتِ وسائل ۔ میزانیات ۔
تجارت ، مالیات و نظامت:- احصائی علوم ۔ بازاریابی ۔ بیمہ ۔ بین الاقوامی ادارے ۔ بین الاقوامی تجارت ۔ بین الاقوامی مالیات ۔ بینکاری ۔ پیشے ۔ تحقیقِ عملیات ۔ تصنیع و پیداوار ۔ تنظیمِ طرزیاتِ معلومات ۔ حسابداری ۔ حسابداریِ لاگت ۔ خارجی مبادلہ ۔ روزگار ۔ رویۂ صارف ۔ صنعت ۔ فہرستیں (تجارت) ۔ فہرستیں (مالیات) ۔ فہرستیں (نظامت) ۔ کارآفرینی ۔ کاروباری اخلاقیات ۔ کاروباری انتظام ۔ کاروباری جرائم ۔ کاروباری قوانین ۔ کاروباری نظریات ۔ لغت (معاشیات و تجارت و مالیات و نظامت) ۔ مالیات ۔ مصنع لطیف برائے معاشرتی علوم ۔ نظامت ۔
ماہرینِ معاشیات:- ماہرین معاشیات بلحاظ ملک ۔ ماہرین معاشیات بلحاظ نظریات ۔ نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات ۔
معاشیات و تجارت کے عنوانات
- معاشیات و تجارت کے چیدہ چیدہ اور اھم ترین عنوانات یہاں لکھیۓ۔
جو آپ کر سکتے ہیں
| منصوبوں میں حصہ: | مختصر مضامین میں اضافہ: | |||
|
باب معاشیات و تجارت اپنی تشکیل کے ابتدائی دور میں ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اس کے مختلف موضوعات پر لکھنے کے لیے ہماری مدد فرمائیں۔ اس سلسلے میں آپ سے نئے مضامین کی بھی درخواست ہے اور پرانے مضامین کو بھی بہتر بنانے میں حصہ لینے کی گذارش بھی ہے۔ |
||||