باب:معاشیات و تجارت

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش


ترمیم  

باب:معاشیات و تجارت

معاشیات یا اقتصادیات (Economics) معاشرتی علوم (Social Sciences) کی اہم ایک شاخ ہے جس میں قلیل مادی وسائل و پیداوار کی تقسیم اور انکی طلب و رسد کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں رائج اصطلاح اقتصادیات اردو میں معاشیات کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ معاشیات کی ایک جامع تعریف جو کہ روبنز (Lionel Robbins) نے دی تھی کچھ یوں ہے کہ 'معاشیات ایک ایسا علم ہے جس میں ہم انسانی رویہ کا مطالعہ کرتے ہیں جب اسے لامحدود خواہشات اور ان کے مقابلے میں محدود ذرائع کا سامنا کرنا پڑے۔ جبکہ ان محدود ذرائع کے متنوع استعمال ہوں'۔ معاشیات آج ایک جدید معاشرتی علم بن چکا ہے جس میں نہ صرف انسانی معاشی رویہ بلکہ مجموعی طور پر معاشرہ اور ممالک کے معاشی رویہ اور انسانی زندگی اور اس کی معاشی ترقی سے متعلق تمام امور کا احاطہ کیا جاتا ہے اور اس میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور انسانی فلاح جیسے مضامین بھی شامل ہیں جن کا احاطہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا۔ معاشیات سے بہت سے نئے مضامین جنم لے چکے ہیں جنہوں نے اب اپنی علیحدہ حیثیت اختیار کر لی ہے جیسے مالیات، تجارت اور نظامت ۔ معاشیات کی بہت سی شاخیں ہیں مگر مجموعی طور پر انہیں جزیاتی معاشیات (Microeconomics) اور کلیاتی معاشیات (Macroeconomics) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
راہنمائی

۔ مضامین لکھنے کے لیے


۔ انگریزی کے اردو متبادل

معاشیات کے بارے میں مزید دیکھیں
ترمیم  

منتخب مقالہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ:IMF) ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور انکی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ، بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے اور انکی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لئے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے بہت سے یورپی ممالک کا توازن ادائیگی کا خسارہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے ممالک کی مدد کرنے کے لیے یہ ادارہ وجود میں آیا۔ یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدہ کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کے لئے دسمبر 1945 میں قائم ہوا۔ اس کا مرکزی دفتر امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہے۔ اس وقت دنیا کے 185 ممالک اسکے رکن ہیں۔ شمالی کوریا، کیوبا اور کچھ دوسرے چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے جس کی وجہ اس کے فیصلوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے جو ان ممالک کے بیرونی قرضہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اوپر کچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کے معاشی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑتی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

ترمیم  

منتخب تصویر

تربیلا بند کی مصنوعی سیارے سے لی گئی تصویر
دریائے سندھ پر بمقام تربیلا، ایک کثیر المقاصد بند ، جو منگلا بند ، پاکستان سے دوگنا ، اسوان ڈیم مصر سے تین گنا اور دنیا میں مٹی کی بھرائی کا سب سے بڑا بند ہے۔ بند کی لمبائی 9 ہزار فٹ ، زیادہ سے زیادہ اونچائی 485 فٹ اور گنجائش 186000000 ایکڑ فٹ ہے۔ اس میں لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہو سکتی ہے۔
ترمیم  

منتخب معیشت

چین دنیا میں خام ملکی پیداوار کے حساب سے چوتھا ملک ہے اور بڑی تیزی سے مزید ترقی کر رہا ہے اور اب یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ اگر چین ایسے ہی ترقی کرتا رہا تو جلد ہی اسے دنیا کی ایک عظیم طاقت (Super Power) تسلیم کرنا پڑے گا۔ چھبیس کھرب امریکی ڈالر کی خام ملکی پیداوار اور دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین کی فی کس آمدنی بھی دو ھزار ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے اور مساوی قوتِ خرید فی کس آمدنی بھی سات ھزار ڈالر سے زیادہ ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چین ایک اشتراکی (Socialist) ملک ہے مگر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کی %70 خام ملکی پیداوار نجی شعبہ میں ہوتی ہے۔ چین دنیا کا واحد ملک ہے جسے وقتاً فوقتاً اپنی ترقی پر روک لگانا پڑتی ہے تاکہ غیر ضروری ترقی سے اس کا معاشرتی ڈھانچہ تباہ نہ ہو جائے۔

چین میں پانی سے بجلی بنانے والے دنیا کے سب سے بڑے بند کا ایک حصہ

اس کے ساتھ ساتھ چینی اپنے ملک میں مسلسل اصلاحات کر رہے ہیں تاکہ وہ دنیا میں اپنا معاشی مقام بنا سکیں اور سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ بھی کر سکیں۔ چین کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ معاشی اشاریوں (Indicators) کے مطابق اس کی خام ملکی پیداوار کی تقسیم آبادی میں سب سے زیادہ مناسب ہے یعنی امیر اور غریب کے درمیان فرق نسبتاً کم ہے۔ 2006ء میں چین کی خام ملکی پیداوار 1978ء کی نسبت 10 گنا زیادہ تھی۔ چین کی طاقت کا اندازہ بہت سی چیزوں سے ہو سکتا ہے مثلاً اس میں 23000 سے زیادہ بند (ڈیم) ہیں۔ 2005ء میں اس کی برآمدات اس کی درآمدات سے 30 ارب امریکی ڈالر زیادہ تھیں۔ 2006ء میں چین میں 70 ارب امریکی ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ اسی سال چین دنیا میں سب سے بڑے زرِ مبادلہ کے ذخائر رکھنے والا ملک بن گیا۔
تیزی سے ترقی کی وجہ سے 1981ء سے 2001ء کے دوران غربت کی لکیر سے نیچے لوگوں کی تعداد %53 سے کم ہو کر صرف %8 رہ گئی ہے۔ 1990 کی دہائی میں فی کس آمدنی میں %175 اضافہ دیکھنے میں آیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس قدر تیز ترقی کے باوجود افراطِ زر کو قابو میں رکھا گیا ہے جو 1995-1999 کے دوران بہت کم ہو گیا۔


ترمیم  

تجارتی خبریں

خبروں میںWikinews logo

  • 12 مئی 2008 شدید معاشی دباؤ کا شکار پاکستان کا تجارتی خسارہ دس ماہ میں بڑھ کر 16ارب80کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا اور ابھی مالی سال ختم ہونے میں ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔
  • 15 جنوری 2008 : امریکہ سعودی عرب کو بارہ کروڑ ڈالر مالیت کے گائڈڈ میزائیل اور دیگر اسلحہ فروخت کرے گا۔ یہ فیصلہ امریکہ صدر بش کے مشرقِ وسطیٰ کے دورے میں ہوا۔ دیگر عرب ممالک کو ایران کا ڈراوا دے کر اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جائے گا۔
  • 14 جنوری 2008 : صرف پچھلے چھ ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 8.24 ارب ڈالر رہا۔
  • 14 جنوری 2008 : سونے اور چاندی کی قیمتیں عالمی منڈی میں اپنے تاریخی طور پر زائد ترین قیمت پر پہنچ گئیں
  • 4 جنوری 2008 : امریکہ میں بے روزگاری کی سطح دو سالہ دور میں سب سے زیادہ ہو گئی۔
  • 2 جنوری 2008 : پاکستان میں موبائیل فون کے صارفین کی تعداد ساڑھے سات کروڑ سے بڑھ گئی۔
ترمیم  

بازار کا بھاؤ (اشاریہ)

یاہو! سے لیۓ گۓ معطیات؛
20:20 (مُتناسق عالمی وقت) 12 جنوری 2008ء

اشاریہ (امریکی) جدید ترین تبدیلی
DJIA (امریکہ)
12606.30
Red Arrow Down.svg 246.79
NYSE (امریکہ)
9347.47
Red Arrow Down.svg 143.29
NASDAQ (امریکہ)
2439.94
Red Arrow Down.svg 48.58
S&P 500 (امریکہ)
1401.02
Red Arrow Down.svg 19.31
AMEX (امریکہ)
2362.20
Red Arrow Down.svg 54.25
CAC 40 (فرانس)
-
-
iBovespa (برازیل)
61942.359
Red Arrow Down.svg 1573.12
اشاریہ (امریکی) جدید ترین تبدیلی
DAX (جرمنی)
7717.95
Green Arrow Up.svg 4.86
Hang Seng (ہانگ کانگ)
26867.01
Red Arrow Down.svg 363.85
BSE Sensex (بھارت)
20827.449
Green Arrow Up.svg 245.37
Nikkei 225 (جاپان)
14110.79
Red Arrow Down.svg 277.32
IPC (میکسیکو)
28723.820
Red Arrow Down.svg 345.74
FTSE (برطانیہ)
6202.00
Red Arrow Down.svg 20.70
KSE 100 (پاکستان)
13674.91
Red Arrow Down.svg 171.76
ترمیم  

کیا آپ کو معلوم ہے کہ۔۔۔۔۔

وثق - کیا آپ کو معلوم ہے

ترمیم  

منتخب اقتباس

" یہ بہت اچھا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ ہمارے بینکاری اور مالیاتی نظام کو نہیں سمجھتے کیونکہ اگر ایسا ہو تو میرے خیال میں کل صبح سے پہلے انقلاب آ جائے گا "


ترمیم  

ذیلی زمرہ جات معاشیات و تجارت

معاشیات:- احصائی علوم ۔ اسلامی معاشیات ۔ انتظامی معاشیات ۔ بشری شماریات ۔ بین الاقوامی ادارے ۔ بین الاقوامی تجارت ۔ بین الاقوامی معاشیات ۔ بینکاری ۔ تاریخِ معاشیات ۔ تجارتی معاشیات ۔ تجزیاتی معاشیات ۔ ثقافتی معاشیات ۔ جزیاتی معاشیات ۔ ریاضیاتی معاشیات ۔ زرعی معاشیات ۔ زری معاشیات ۔ صنعتی تنظیم ۔ عمومی معاشیات ۔ فلاحی معاشیات ۔ کلیاتی معاشیات ۔ قیاسی معاشیات ۔ لغت (معاشیات و تجارت و مالیات و نظامت) ۔ ماحولیاتی معاشیات ۔ مالیاتی معاشیات ۔ مصنع لطیف برائے معاشرتی علوم ۔ معاشی ترقی ۔ معاشی منصوبہ بندی ۔ معاشی نظام ۔ معاشی نظریات ۔ معاشی نمو ۔ معاشیات اور قانون ۔ معاشیاتِ آبادی ۔ معاشیات پاکستان ۔ معاشیاتِ پیداوار ۔ معاشیاتِ تعلیم ۔ معاشیاتِ جنس ۔ معاشیاتِ خاندان ۔ معاشیاتِ سیاست ۔ معاشیاتِ صحت ۔ معاشیاتِ طرزیات ۔ معاشیاتِ عوام ۔ فہرستیں (معاشیات) ۔ معاشیات کی کتابیں ۔ معاشیات کے جریدے ۔ معاشیاتِ محنت ۔ معاشیات مناطق ۔ معاشیاتِ وسائل ۔ میزانیات ۔

تجارت ، مالیات و نظامت:- احصائی علوم ۔ بازاریابی ۔ بیمہ ۔ بین الاقوامی ادارے ۔ بین الاقوامی تجارت ۔ بین الاقوامی مالیات ۔ بینکاری ۔ پیشے ۔ تحقیقِ عملیات ۔ تصنیع و پیداوار ۔ تنظیمِ طرزیاتِ معلومات ۔ حسابداری ۔ حسابداریِ لاگت ۔ خارجی مبادلہ ۔ روزگار ۔ رویۂ صارف ۔ صنعت ۔ فہرستیں (تجارت) ۔ فہرستیں (مالیات) ۔ فہرستیں (نظامت) ۔ کارآفرینی ۔ کاروباری اخلاقیات ۔ کاروباری انتظام ۔ کاروباری جرائم ۔ کاروباری قوانین ۔ کاروباری نظریات ۔ لغت (معاشیات و تجارت و مالیات و نظامت) ۔ مالیات ۔ مصنع لطیف برائے معاشرتی علوم ۔ نظامت ۔

ماہرینِ معاشیات:- ماہرین معاشیات بلحاظ ملک ۔ ماہرین معاشیات بلحاظ نظریات ۔ نوبل انعام یافتہ ماہرین معاشیات ۔

ترمیم  

معاشیات و تجارت کے عنوانات

  • معاشیات و تجارت کے چیدہ چیدہ اور اھم ترین عنوانات یہاں لکھیۓ۔
ترمیم  

جو آپ کر سکتے ہیں

منصوبوں میں حصہ: مختصر مضامین میں اضافہ:

باب معاشیات و تجارت اپنی تشکیل کے ابتدائی دور میں ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ اس کے مختلف موضوعات پر لکھنے کے لیے ہماری مدد فرمائیں۔ اس سلسلے میں آپ سے نئے مضامین کی بھی درخواست ہے اور پرانے مضامین کو بھی بہتر بنانے میں حصہ لینے کی گذارش بھی ہے۔

ترمیم  

متعلقہ ابواب

ابواب کیا ہیں؟ | فہرست ابواب | منتخب ابواب


دیگر زبانیں