بارہ رسل (حواری)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بارہ رُسُل سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بارہ رُسُل[ یونانی Apostolos تلفظ اپوسٹولوس] وہ اشخاص تھے جن کو اناجیل اور مسیحی روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ عیلہ السلام نے اپنے مِشن کے لئےمنتخب کیا تھا۔ لفظِ رسول کا مسیحی اور مسلمان استعمال میں فرق ہے۔ مسلمان 'نبی' اور 'رسول' دونوں الفاظ کا مترادف استعمال کرتے ہیں جبکے مسیحی استعمال میں رسول خالصاً مسیحی آبائے کلیسیا کہلاتے ہیں۔

انجیلِ مرقس کے مطابق عیسیٰ عیلہ السلام نے رسولوں کو دو دو کی جوڑیوں میں تمام گلیل کے قریوں اور قصبوں میں بھیجا تاکہ بیماروں کو شفا دیں اور بدروحوں کو باہر نکالیں۔

اس کے بعد رسولوں کو تمام عالم میں پھیل جانے اور انجیل کی خوشخبری کی منادی کرنے کا کام سونپا گیا۔ یہودی روایات کے برخلاف اب منادی یہود اور غیر قوموں دونوں میں کی جانے لگی۔ چنانچہ عہدنامہ جدید یا نئے عہدنامے کی حتمی تحریری شکل میں آنے سے پہلے تمام معلومہ دنیا میں منادی کی جا جکی تھی۔

اگرچہ تمام بارہ رسول گلیلی سابقہ یہودی تھے جو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ عیلہ السلام کو ماننے کے بعد عیسائی ہو گئے۔ لیکن دس ہی نام آرامی زبان کے ہیں جبکے دیگر یونانی زبان سے ھیں۔ سو ہو سکتا ہے کہ وہ ان شہری علاقوں سے ہوں جہاں پر یونانی اور رومی ثقافت کا اثر تھا۔ لیكن جو بات نہایت ہی اہم اور قابلِ ذكر ہے وہ یہ كہ عیسائی، عیسیٰ عیلہ السلام كے شاگردوں یا ساتھیوں كے لیے رسول كا لفظ استعمال كرتے ہیں جبكہ رسول ایك عربی لفظ ہے جو كہ صرف اور صرف اللّٰه تعالٰی كے برگُذیدہ پیغمبروں میں سے جنہیں رسالت كا درجہ دیا گیا ہے كے لیے ہی استعمال ہو سكتا ہے۔اور یہ بات بہت ہی حیران كُن ہے كے جو لفظ عربی زبان سے لیا گیا ہے عیسائی مذہب میں اُس كا ترجمہ عربی زبان سے بالكل ہٹ كے كیا گیا ہے۔اور عربی مزاج كے خلاف یا دوسرے لفظوں میں عربی زبان یا عربی ماحول میں بولا جانے والا لفظ رُسل (یعنی رسالت كے عہدے كا اہل) اُن لوگوں كے لیے بولا جاتا ہے جو كہ رسول كے ساتھی تھے اور اِس عہدہ كے بالكل بھی اہل نہیں تھے كیونكہ رسول، خدا كا پیغامبر ہوتا ہے اور خدا اُسے اپنی باتیں بزریہ فرشتہ یا وحی بتاتا ہے تاكہ وہ اُن باتوں كو لوگوں تك پہنچائے۔اور اگر دیكھا جائے تو یہ صفات تو دیگر انبیاٴ كی طرح اُس دور میں صرف اور صرف حضرت عیسیٰ عیلہ السلام میں موجود تھیں نہ كہ اُن شاگردوں میں جو كی خود اُن سے ہر اچّھی بات سیكھ رہے تھے،اُن سے علم كے موتی حاصل كر رہے تھے اور وہ تمام حكمت كی باتیں سیكھ رھے تھے جو وہ اُس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔لہٰذا ایسے لوگ جنہیں خود ایك استاد كی راہنُمائی كی ضرورت ہو وہ رسول كیسے ہو سكتے ہیں؟؟؟ اس كے علاوہ قابل زكر بات یہ بھی ہے كہ عیسیٰ عیلہ السلام كے جانے كے بعد ایك پولس نامی یہودی نے بھی اپنے رسول ہونے كا دعوٰی كر دِیا اور عیسائی مذہب كے ماننے والوں نے فورًا اور بغیر كسی ثبوت كے اُسے (عیسائی نظریہ كے مطابق) رسول بھی تسلیم كر لیا حا لنكہ جس رُویا كے بارہ میں بیان كر كے اُس نے اپنے رسول ہونے كا دعوٰی كیا تھا وہ بذاتِ خُود بائبل میں شامل بے شمار تضادات كی طرح تضاد كا شكار ہے۔جیسا كہ پولس دمشق كے راستے میں عیسیٰ عیلہ السلام كے آسمان پر ظاہر ہونے اور پولس كو اپنا جانشین بنانے كے واقعہ كا ذكر كرتا ہے اعمال ٢٢:٩ اور میرے ساتھیوں نےنور تو دیكھا لیكن جو مجھ سے بولتا تھا اسكی آواز نه سنی۔ اعمال ٩:٧ جو آدمی اس كے همراه تھےوه خاموش كھڑے ره گئےكیوں كے آواز تو سنتے تھے مگر كسی كو دیكھتے نه تھے۔ دیكھیے یہ دونوں باتیں كس قدر مُتضاد ہیں ایك میں پولس كے ہمراہ لوگوں نے نور جس سے مراد عیسیٰ عیلہ السلام ہیں كو تو دیكھا تھا مگر كسی بھی قسم كی كوئی آواز نہ سُنی جو پولس كو مخاطب كر كے اُسے اپنی جانشینی كی نوید سُنا رہی ہو جبكے دوسری جگہ درج ہے كہ پولس كے ہمراہی آواز تو سُنتے تھے مگر كسی كو یا نور كو نہیں دیكھا تھا۔بالكل اسی طرح پولس كا اپنے آپ كو عیسیٰ عیلہ السلام كا جانشین كہلانے كا دعوٰی واضح طور پر مشكوك ہو جاتا ہے۔ بہرحال پولس كے اِس دعوٰی كے بعد بائبل میں تحریف كا ایك لمبا سلسلہ شروع ہو گیا جو كہ وقت كے ساتھ ساتھ اب بھی جاری ہے اور بائبل میں شامل بے شمار غلطیاں اس بات كا منہ بولتا ثبوت ہیں اور پولس نے بحثیتِ جانشین دین میں نئی نئی باتیں كہنی شروع كردیں جو كہ بعد میں آنے والے عیسائیوں نے بغیر ثبوت كے ماننا شُروع كر دِیں۔نیز یہ كہ متذكّرہ بالا آیات عیسیٰ عیلہ السلام كے چلے جانے كے بعد كا واقع بیان كر رہی ہیں جس سے كے ظاہر ہوتا ہے كہ یہ آیات اللّٰه كی نبی حضرت عیسیٰ عیلہ السلام كے چلے جانے كے بعد بیان كی گئیں اور اُن كے بعد ہی انجیل میں درج كی گئیں اور تھوڑی سی بھی عقل اور شعور ركھنے والا انسان اِس بات كو بخوبی جانتا ہے كی نبی كی كتاب نبی كے دور میں ہی مكل ہو جاتی ہے اور اُس میں كسی اضافہ كی گنجائش نہیں رہتی كیونكہ نبی اپنا كام ادُھورا چھوڑ كر ہرگز نہیں جاتے۔ ویسے تو بائبل میں تضادات اور غلطیوں كی بے شمار مثالیں ہیں جن كی بدولت انجیل ایك جدید شكل میں دنیا كے سامنے آئی جسے بائبل كے نام سے جانا جاتا ہے،اُس میں شامل چند غلطیاں ملاحظہ ہوں۔جو كہ انسان كو یہ سوچنے پر مجبور كر دیتی كہ كیا خدا كبھی غلط بیانی كر سكتا ہے اور اگر نہیں تو كیا یہ اب بھی خدا كی طرف سے راہِ ہدایت ہے۔

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیِم۔

فَوَ یلُ لِّلَّذِیِنَ یَكتُبُونَ الكِتٰبَ بِاَیدِیھِم ثُمَّ یَقُولُونَ ھٰذَا مِن عِندِاللهِ لِیَشتَرُوا بِهٖ ثَمَناً قَلِیلًا

تو خرابی ھے ان كے لیے جو كتاب اپنے ھاتھ سے لكهیں پھر كه دیں كه یه خدا كی طرف سے هے تاكه اس كے عوض تھوڑا دام حاصل كر سكیں

فَوَیلٌ لَّھُم مِّمَّا كَتَبَت اَیدِیهِم وَ وَ یلٌ لَّھُم مِّمَّا یَكسِبُونَ۔ (البَقَرَه ٧٩)

تو خرابی هے ان كے لیے ان كے هاتھوں كے لكّهے سے اور خرابی هے ان كے لیے اُس كمائی سے۔

بائبل میں شامل غلطیوں اور تضاد كی چند مثالیں جو كه عیسٰی علیه السلام كے بعد انسانی هاتھ كی دخل اندازی اور بائبل میں تبدیلی كا منه بولتا ثبوت هیں۔

١ یوسف كا باپ كون تھا؟

         متی  ١:١٦   یوسف یعقوب كا بیٹا تھا۔
         لوقا  ٣:٢٣   یوسف عیلی كا بیٹا تھا۔

٢ سلیمان علیه السلام كے پاس گھوڑوں اور رتھوں كے لیے كتنے تھان تھے؟

         ١سلاطین     ٤:٢٦   چالیس ھزار تھان ۔
         ٢ تواریخ      ٩:٢٥   چار ھزار تھان ۔

٣ یهوداه كی موت كس طرح واقع ھوئی؟

         متی      ٢٧:٥         اس نے اپنے آپ كو پھانسی دے دی تھی۔
         اعمال   ١:١٨     وه سر كے بل گرا اور اسكا پیٹ پھٹ گیا اور اس كی سب آنتڑیاں نكل گئیں ۔

٤ احمق كو جواب دینا چاھیے یا نهیں؟

         امثال     ٢٦:٤     احمق كو اس كی حماقت كے مطابق جواب نه دے۔
         امثال    ٥ :٢٦     احمق كو اس كی حماقت كے مطابق جواب دے۔

٥ ساول كی بیٹی میكل كے كتنے بچّے تھے؟

         ٢ سمو ئیل  ٦:٢٣   ساول كی بیٹی میكل مرتے دم تك بے اولاد رهی۔
         ٢ سمو ئیل   ٢١:٨  ساول كی بیٹی میكل كے پانچ بیٹے تھے۔

٦ یهویاكین جب سلطنت كرنے لگا تو اس كی عمر كیا تھی اور اس نے كتنے دن تك سلطنت كی؟

         ٢سلاطین  ٢٤:٨  اور یهویاكین جب سلطنت كرنے لگا تو  اٹھاره برس كا تھا اور یوروشلم میں اس نے تین مهینے تك سلطنت كی۔
         ٢ تواریخ   ٣٦:٩  یهویاكین اٹھ برس كا تھا جب وه سلطنت كرنے لگا اور اس نے تین مھینے دس دن تك یوروشلم مٓیں سلطنت كی۔
٧    كیا دمشق كے راستے میں ساول كے ساتھیوں نے نور كو دیكھا تھا اور كوئی آواز سنی تھی۔
         اعمال  ٩:٧    جو آدمی اس كے همراه تھےوه خاموش كھڑے ره گٓئےكیوں كے آواز تو سنتے تھے مگر كسی كو دیكھتے نه تھے۔
         اعمال  ٢٢:٩  اور میرے ساتھیوں نےنور تو دیكھا لیكن جو مجھ سے بولتا تھا اسكی آواز نه سنی۔

٨ سلیمان علیه السلام كے خاص منصب داروں كی تعداد كتنی تھی؟

         ١ سلاطین  ٩:٢٣  پانچ سو پچاس۔
         ٢ تواریخ   ٨:١٠   دو سو پچاس۔

٩ بھاشا كب مرا تھا؟

         ١ سلاطین  ١٦:٦،٨      بھاشا ،آسا بادشاه كی حكومت كے چھبّیس ویں  سال مرا تھا۔
         ٢ تواریخ      ١٦:١      بھاشا ،آسا بادشاه كی حكومت كے چھتّیس ویں سال مرا تھا۔ 

١٠ اخزیاء نے كس عمر میں سلطنت كی؟

         ٢ سلاطین  ٨:٢٦    بائیس سال كی عمر مین۔
         ٢ تواریخ     ٢٢:٢   بیالیس سال كی عمر مین۔

١١ عیسٰی علیه السلام كو پینے كے لیے كیا دیا گیا تھا؟

         متی    ٢٧:٣٤   پت ملی ھوی مے پینے كو دی۔
         مرقس ١٥:٢٣   مر ملی هوی مے پینے كو دی تھی۔

١٢ داود علیه السلام كو اسرائیل كا شمار كرنے كا كس نے كَهَا تھا؟

        ٢ سموَیل  ٢٤:١  خدا نے۔
        ١ تواریخ  ٢١:١  شیطان نے۔

١٣ اسرائیلی شمشیر زن مردوں كی تعداد كتنی تھی؟

         ٢ سموئیل  ٢٤:٩   آٹھ لاكھ۔
         ١ تواریخ  ٢١:٥    گیاره لاكھ۔

١٤ یهوده شمشیر زن مردوں كی تعداد كتنی تھی؟

        ٢سموئیل    ٢٤:٩    پانچ لاكھ۔
        ١تواریخ     ٢١:٥    چار لاكھ ستر هزار۔

١٥ جاد نے داود علیه السلام كو خدا كی طرف سے كتنے سال كے قحط كی دھمكی دی تھی؟

        ٢ سموئیل  ٢٤:١٣   سات سال ۔
        ١ تواریخ   ٢١:١٢    تین سال ۔

١٦ داود علیه السلام كے سورماوں كے سردار نے بھالا مار كر ایك ھی وقت مین كتنےآدمیوں كو قتل كیا تھا؟

        ٢سموئیل    ٢٣:٨   اٹھ سو۔
        ١ تواریخ   ١١:١١   تین سو۔

١٧ داود علیه السلام نے ضوباه كے بادشاه كو هلاك كرنے كے بعد اسكے كتنے سوار اپنے قبضه میں لے لیے تھے؟

        ٢سموئیل   ٨:٤   ایك هزار سات سو سوار۔
        ١تواریخ    ١٨:٤  سات ھزار سوار۔

١٨ سلیمان علیه السلام نے جو خدا كا گھر بنایا تھا،اس كی تعمیر كی دیكھ بھال (نگرانی)كے لیے كتنی تعداد میں خاص آدمی(منصب دار) ركّھےتھے؟

        ٢ تواریخ     ٢:٢    تین ھزار چھ سو۔
        ١ سلاطین  ٥:١٦    تین هزار تین سو۔

١٩ اُس گھر كے ایك مخصوص حصّه میں كتنے بُت سما سكتے تھے؟

         ٢ تواریخ      ٤:٥   تین ھزار بت۔
         ١ سلاطین   ٧:٢٦   دو هزار بت۔

٢٠ وه اسرائیلی جو شاه بابل نبُوكد نضر كی اسیری میں سے نكل گئے تھےان میں بنی پختموآب كی تعداد كیا تھی؟

          عزرا       ٢:٦   دو هزار آٹھ سو باره۔
          نحمیاه   ٧:١١   دو هزار آٹھ سو اٹَھاره۔  

٢١ اور بنی زتُّو كی تعداد كیا تھی؟

           عزرا       ٢:٨   نو سو پینتالیس۔
           نحمیاه   ٧:١٣   آٹھ سو پینتالیس۔

٢٢ اور بنی عزجاد كی تعداد كتنی تھی؟

           عزرا     ٢:١٢   ایك هزار دو سو با ئیس۔
           نحمیاه   ٧:١٧   دو هزار تین سو بائیس۔

٢٣ اور بنی عدین كی تعداد كیا تھی؟

           عزرا     ٢:١٥   چار سو چوّن۔  
           نحمیاه   ٧:٢٠   چھ سو پچپن۔

٢٤ اور بنی حشُوم كی تعداد كیا تھی؟

           عزرا      ٢:١٩   دو سو تئیس
           نحمیاه   ٧:٢٢   تین سواٹّهائیس۔

٢٥ اور بیت ایل اورعی كے لوگ كتنے تھے؟

            عزرا     ٢:٢٨   دو سو تئیس۔
           نحمیاه   ٧:٣٢   ایك سو تئیس۔

٢٦ عزرا ٢:٦٤ اور نحمیاه ٧:٦٦ كے مطابق جماعت كے لوگوں كی كُل تعداد 42,360 نفوس تھی مگر جب بیان كیے گئےلوگوں كی گنتی كی جائے تو تعداد مندرجه ذیل ھے۔

           عزرا      29818 لوگ۔  
           نحمیاه    31089 لوگ۔

٢٧ جماعت میں موجود گانے بجانے والوں كی تعداد كیا تھی؟

        عزرا     ٢:٦٥   دو سو۔ 
        نحمیاه   ٧:٦٧   دو سو پینتالیس۔

٢٨ ابیاه بادشاه كی والده كا نام كیا تھا؟

           ٢ تواریخ     ١٣:٢    اُس كا نام میكایاه تھاجو اُوری ایل جِعبی كی بیٹی تھی ۔
           ٢ تواریخ   ١١:٢٠    اُس كا نام معكه تھاجو ابی سلوم كی بیٹی تھی۔
           مگر اِس اِختلاف كے باوجود ٢سمویل ١٤:٧  كے مُطابِق ابی سلوم كی صرف ایك ھی بیٹی تھی جسكا نام تمر تھا۔

عیسائی عقیدہ كے مطابق بارہ رُسُل[ترمیم]

اناجیلِ موافقہ [مرقس3:13-19، متی10:1-4، لوقا 6:12-16] کے مطابق اُن بارہ لوگوں کے نام یہ ہیں:

1. شمعون: جن کو پطرس کا نام دیا گیا [یونانی پیٹروس یا پیٹرا، آرامی کیفا، بمعنی پتھر یا چٹان]۔ عیسا ئی عقیدہ كے مطابق وہ تمام رسولوں (اصل میں شاگردوں) کے سردار ہونے کے علاوہ مسیحیوں کے پہلے پاپائے اعظم بھی ہیں۔ یہ گلیل کے بیت صیدا کے ماہیگیر تھے اور اپنے اہل ِخانہ کے ساتھ گناسرت کی جھیل پر شکار کیا کرتے تھے۔ جب ان کو چنا گیا تو بائبل كے مطابق حضرت عیسیٰ عیلہ السلام نے انکو کہا 'میرے پیچھے ہو لو میں تمہیں آدمگیر بناؤں گا'۔ پھر اعلانیہ زندگی میں یسوع مسیح نے پطرس کے بارے میں فرمایا 'تُو کیفا [چٹان] ہے اور اِسی چٹان پر اپنی کلیسیا بناؤں گا۔

2. اندریاس: پطرس کے بھائی تھے، بیت سیدہ کے ماہیگیر تھے اور یوحنا اصطباغی کے شاگرد تھے۔ یہ تمام رسولوں (اصل میں شاگردوں) میں سے سب سے پہلے بلائے گئے تھے۔

3. یعقوب اور

4. یوحنا : یہ دونوں زبدی کے بیٹے تھے، ان دونوں کو حضرت عیسیٰ عیلہ السلام نے بونرجیس کہا یعنی اولادِ رعد۔

5. فیلبوس: گلیلی کے بیت صیدا سے تھے۔

6. برتھولما یا برتھلمائی یعنی تھلمائی کے بیٹے یا Ptolemais سے۔ بعض کے مطابق یہ یوحنا 1:45-1:51میں بیان کئے گئے نتھانیئیل سے جوڑتے ہیں۔

7. تھوما یا توما: یہودہ تھوما دیدیمُس بھی کہلاتے ہیں۔ آرامی تھوما اور کونانی دیدیمُس کا مطلب ہے جُڑواں۔

8. یعقوب: حلفائی کے بیٹے۔

9. متی: ایک محصل تھے۔ بعض یہ بھی کہتے ھیں کہ یہ حلفائی کے بیٹے لاوی تھے۔

10. شمعون کنعانی: ان کو شمعون غیور بھی کہتے ہیں۔

11. یہودہ اسخریوتی: انہوں نے عیسا ئی عقیدہ كے مطابق یسوع مسیح کو حکام کے حوالے کیا تھا "مگر اللّٰه تعالٰی نے قرانِ مجید میں اِس بات كی نفی كی ہے" ان کی جگہ پر باقی شاگردوں نے متھیاس کو چنا تھا۔

12. یہودہ: ان کو مرقس اور متی میں تھداؤس کہا گیا ہے۔


یوحنا کی انجیل میں رسولوں(اصل میں شاگردوں) کی کوئی فہرست درج نہیں تاہم درجِ ذیل لوگوں کا ذکر ہے۔

• پطرس

• اندریاس

• زبدی کے بیٹے

• فیلبوس

• نتھانیئیل

توما

• یہودہ اسخریوطی

• یہودہ

مزید دیکھیے[ترمیم]