باغ بابر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مغل بادشاہوں کے مقبرے
نام تاریخ وفات مقبرہ
ظہیر الدین بابر 5 جنوری 1531ء باغ بابر، کابل ، افغانستان
نصیر الدین ہمایوں 27 جنوری، 1556ء مقبرہ ہمایوں، دہلی، بھارت
جلال الدین اکبر 27 اکتوبر 1605ء بہشت آباد سکندرہ، آگرہ، بھارت
نورالدین جہانگیر 8 نومبر 1627ء مقبرہ جہانگیر، لاہور، پاکستان
شہاب الدین شاہجہان 22 جنوری 1666ء تاج محل، آگرہ، بھارت
محی‌الدین اورنگزیب عالمگیر 3 مارچ 1707ء خلد آباد، ضلع اورنگ آباد، بھارت
کابل، افغانستان میں باغ بابر کا اندرونی منظر

باغ بابر افغانستان کے دارالحکومت کابل شہر کے مضافات میں واقع ایک تاریخی سیاحتی مقام ہے۔ یہاں پہلے مغل بادشاہ بابر کا مقبرہ واقع ہے۔

ابتدائی تعمیر[ترمیم]

ان باغات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1528ء میں تعمیر کیے گئے، جب شہنشاہ بابر نے کابل شہر کے لیے راہدری کے طور پر باغات تعمیر کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس حکم اور تاریخ باغ بابر کا ذکر شہنشاہ بابر کی یاداشتوں پر مبنی تصنیف بابر نامہ میں بھی ملتا ہے۔

مغل شہزادوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں سیر و تفریح کے لئے ایسے مقامات، باغات وغیرہ تعمیر کروایا کرتے تھے اور انہی میں سے کسی ایک مقام کو اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر بھی متعین کر دیا کرتے۔

تعمیر جہانگیر[ترمیم]

شہنشاہ بابر کی وفات کے بعد بھی باغ بابر مغل شہنشاہوں کا پسندیدہ مقام رہا اور شہنشاہ جہانگیر نے یہاں 1607ء میں دورہ کیا اور حکم جاری کیا کہ کابل میں واقع تمام باغات کے اردگرد چار دیواری تعمیر کی جائے اور شہنشاہ بابر کے مزار کے سر کی جانب تعارفی کتبہ نصب کیا جائے۔ نیز مزار کے باہر مسجد کی تعمیر کا بھی حکم دیا۔

تعمیر شاہجہاں[ترمیم]

1638ء میں شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنے دورے کے موقع پر مزار بابر کے ارد گرد سنگ مرمر کا احاطہ اور باغات کے باہر بالکونی کی جانب ایک مسجد تعمیر کروائی۔ اسی دورے کے بعد شہنشاہ کے حکم کے مطابق باغ بابر کے عین درمیان میں ایک فوارہ اور نہر تعمیر کی گئی، جس کا پانی بالکونی کے باہر مسجد میں جا کر نمازیوں کے لیے وضو کے تالاب میں گرتا ہے۔

ایوان عکس[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 34°30′11″N 69°09′36″E / 34.503°N 69.16°E / 34.503; 69.16