بحیرہ احمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بحیرہ احمر (Red Sea) یا بحیرہ قلزم بحر ہند کی ایک خلیج ہے۔ یہ آبنائے باب المندب اور خلیج عدن کےذریعے بحر ہند سےمنسلک ہے۔ اس کے شمال میں جزیرہ نمائے سینا، خلیج عقبہ اور خلیج سوئز واقع ہیں جو نہر سوئز سے ملی ہوئی ہے۔ 19 ویں صدی تک یورپی اسے خلیج عرب بھی کہتے تھے۔

بحیرہ احمر یا بحیرہ قلزم کا نقشہ

رقبہ[ترمیم]

بحیرہ احمر ایک لاکھ 74 ہزار مربع میل (4 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر) پر پھیلا ہوا ہے۔ خلیج ایک ہزار 200میل (ایک ہزار 900کلومیٹر) طویل اور زیادہ سے زیادہ 190 میل (300کلومیٹر) چوڑی ہے۔ بحیرہ احمر کی زیادہ سےزیادہ گہرائی 8ہزار 200 فٹ (2ہزار 500 میٹر) جبکہ اوسط گہرائی ایک ہزار 640 فٹ (500 میٹر ہے۔

خصوصیات[ترمیم]

بحیرہ احمر کا پانی دنیاکےنمکین ترین پانیوں میں سےایک ہے۔ شدید گرم موسم کے باعث پانی کے آبی بخارات بننے کے عمل میں تیزی اور ہوا کےدباؤ کےباعث بحیرہ احمر میں نمکیات 36سے38 فیصد ہیں۔

سمندر میں ایک ہزار سےزائد بےمہرہ حیاتیاتی اقسام اور 200 اقسام کےنرم اور سخت مونگے پائے جاتے ہیں۔

نام[ترمیم]

بحیرہ احمر عربی نام البحر الاحمر لاطینی نام Mare Erythraeum يوناني نام Ερυθρά Θάλασσα کا ترجمہ ہےجسےانگريزي میں Red Sea کہتےہیں۔ اور اردو مين اسكا مطلب سرخ سمندر ہے

اس کا نام سمندری پانی کے رنگ کو ظاہر نہیں کرتا کیونکہ اس کا پانی سرخ رنگ کا نہیں بلکہ سطح آب پر مختلف موسموں میں سرخ رنگ کےسائنو بیکٹیریا ٹرائیکو ڈیسمیئم ایریٹریم کےباعث اس کا نام بحیرہ احمر پڑا۔

تاریخ[ترمیم]

تاریخ میں پہلی بار بحیرہ احمر میں سفر کی کوشش مصریوں نےکی۔ بائبل میں موسیٰ کی کہانی میں ایک کنیز کےبیٹےکی جانب سےاسرائیلیوں کو آزادی دلانے کے لئے بحیرہ احمر کو عبور کرنےکی کوششوں کا ذکر ہے۔ یورپیوں نے15 ویں صدی میں بحیرہ احمر میں پہلی بار دلچسپی کااظہار کیا۔ 1798ءمیں فرانسیسی جنرل نپولین بوناپارٹ نے مصر پر حملہ کرکےبحیرہ احمر پر قبضہ کرلیا۔ انجینئر جےپی لیپیر نےبحیرہ احمر اور بحیرہ روم کو ملانےکےلئے نہر کی تعمیر کی, جس کا منصوبہ عثمانیوں نے بنایا تھا مگر اسے بنا نہ سکے تھے۔ نہر سوئز کو نومبر 1869ءمیں کھیلا گیا۔ اس وقت برطانیہ، فرانس اور اٹلی نےمشترکہ طور پر نہر میں تجارتی مقامات سنبھالے۔ جنگ عظیم اول کےبعد یہ مقامات بتدریج ختم ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم کےبعد امریکہ اور سوویت یونین نےاپنا اثرورسوخ بڑھانےکی کوشش کی۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان 6 روزہ جنگ کے باعث نہر سوئز 1967ءسے1975ءتک بند رہی۔

ساحلی ممالک[ترمیم]

بحیرہ احمر کا ساحل مندرجہ ذیل ممالک سےملتا ہے:

شمالی ساحل[ترمیم]

مغربی ساحل[ترمیم]

مشرقی ساحل[ترمیم]

جنوبی ساحل[ترمیم]

شہر اور قصبہ جات[ترمیم]

بحیرہ احمر کےساحلوں پر مندرجہ ذیل شہر اور قصبے واقعہ ہیں :

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]