برج دبئی
وکیپیڈیا سے
برج دبئی متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں زیر تعمیر ایک بلند عمارت ہے جو اپنی تکمیل پر دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرلے گی۔ 15 اپریل 2005ء سے زیر تعمیر اس برج کے ماہر تعمیرات اسکڈمور، اوونگز اینڈ میرل کے ایڈریان اسمتھ ہیں۔
فہرست |
[ترمیم] بلندی
[ترمیم] موجودہ بلندی
21 جولائی 2007ء کو تعمیر کنندگان نے بتایا کہ برج دبئی کی بلندی 141 منزلوں کی تکمیل کے ساتھ 512 میٹر (1680 فٹ) ہو چکی ہے اس طرح اس نے دنیا کی موجودہ سب سے بلند عمارت تائی پے 101 (509.2 میٹر) (1671 فٹ)) کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بلند عمارت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے ۔ بلند عمارتوں کے حوالے سے عالمی ادارے Council on Tall Buildings and Urban Habitat نے اس کو تسلیم تو کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ تب تک عمارت نہیں کہلائے گی جب تک مکمل نہیں ہو جائے گی بالکل اسی طرح جیسے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں واقع ریونگ یونگ ہوٹل کو مکمل عمارت نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے باضابطہ طور پر تائی پے 101 ہی اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت ہے ۔
برج دبئی فروری 2007ء میں شکاگو کے سیئرز ٹاور کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں سب سے زیادہ منزلوں کی حامل عمارت کا اعزاز پہلے ہی چکا ہے ۔ واضح رہے کہ سیئرز ٹاور میں 108 منزلیں ہیں۔
[ترمیم] مجوزہ بلندی
دنیا میں بلند عمارات کے منصوبوں میں سخت مسابقت کے باعث برج دبئی کی حتمی بلندی کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے لیکن منصوبے کے ایک ٹھیکیدار کے ظاہر کردہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی بلندی 808 میٹرز (2650 فٹ) ہوگی۔ بلندی کی بنیاد پر ممکنہ قابل رہائش منزلوں کی تعداد 162 ہوسکتی ہے تاہم منصوبے کی ویب سائٹ پر دکھائی گئی تصویر میں 195 سے زائد منزلیں دکھائی گئی ہیں۔ 20 ستمبر 2006ءکو عمارت کے منصوبے میں شریک ایک عہدیدار کے مطابق عمارت کی حتمی بلندی 940 میٹر سے زائد یعنی کم از کم 3084 فٹ ہوگی لیکن ابھی تک ڈیولپر ادارے اعمار سے اس کی تصدیق نہیں کی۔ 7 نومبر 2006ءتک اس عمارت کی 82 منزلیں تعمیر ہوچکی ہیں جس کی بلندی 295 میٹر ہے ۔
برج دبئی دنیا میں موجود تمام بلند عمارتوں کو پیچھے چھوڑدے گا۔ اس وقت دنیا میں بلند ترین عمارت تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں قائم تائی پے 101 ٹاور ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بلند ترین عمارتوں کے تمام زیر غور منصوبہ جات سے بھی بلند ہوگی جن میں نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ مجوزہ فریڈم ٹاور، شنگھائی ورلڈ فنانشل سینٹر اور کراچی کا پورٹ ٹاور کمپلیکس شامل ہیں۔
[ترمیم] تعمیراتی ادارہ
اس عمارت کو امریکی ادارہ اسکڈمور، اوونگز اینڈ میرل تعمیر کررہا ہے جو شکاگو کا مشہور زمانہ سیئرز ٹاور بھی تیار کرچکا ہے اور نیویارک میں فریڈم ٹاور بھی اس کے منصوبہ جات میں شامل ہے ۔
[ترمیم] خصوصیات
برج دبئی میں دنیا کی تیز ترین لفٹ بھی نصب کی جائے گی جو 18 میٹر فی سیکنڈ (65 کلومیٹر فی گھنٹہ، 40 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرے گی۔ اس وقت دنیا کی تیز ترین لفٹ تائی پے 101 میں نصب ہے جو 16.83 میٹر فی سیکنڈ (60.6 کلومیٹر فی گھنٹہ، 37.5 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلتی ہے ۔ عمارت میں 30ہزار رہائشی مکانات، 9 ہوٹل، 6 ایکڑ باغات،19 رہائشی ٹاور اور برج دبئی جھیل شامل ہوگی۔ اس کی تعمیر پر 8 ارب ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ تکمیل کے بعد ٹاور 20 ملین مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوگا۔
[ترمیم] مشرق وسطی کا کھویا ہوا اعزاز
برج دبئی کی تکمیل سے مشرق وسطی ایک مرتبہ پھر دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا جو اہرام مصر 3 ہزار سال تک اپنے پاس رکھنے میں کامیاب رہا اور 1300ء میں لنکن کیتھڈرل نے مشرق وسطیٰ سے یہ اعزاز چھین لیا۔
[ترمیم] مقابلہ
دنیا کی بلند ترین عمارت بننے کے لئے برج دبئی کا سامنا صرف 50 کلومیٹر دور واقع دبئی کی ایک اور عمارت سے ہے جس کا نام البرج ہے جو دبئی واٹر فرنٹ میں تعمیر کی جائے گی۔ البرج کی بلندی کم از کم 700 میٹر ہوگی تاہم حتمی بلندی صیغہ راز میں رکھی گئی ہے ۔
علاوہ ازیں کویت میں مدینۃ الحریر نامی شہر کی تعمیر میں ایک مجوزہ بلند ترین عمارت کا منصوبہ بھی شامل ہے جو 1001 میٹر بلند ہوگی۔
[ترمیم] متعلقہ مضامین
بلند ترین عمارات جزائر نخیل دبئی برج العرب
[ترمیم] بیرونی روابط
برج دبئی* مقتدرہ ترقی و سرمایہ کاری دبئی* زیر تعمیر برج دبئی کی تصاویر*