برطانیہ دہشت گرفتاریاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

2001ء کے بعد برطانیہ میں سینکڑوں مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جن میں زیادہ تر برطانوی باشندے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق 2001 اور 2009 کے درمیان 1834 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً ہر ماہ مسلمانوں کی گرفتاریوں کی خبر دنیا بھر کے اخباروں میں چھپتی ہے۔

واقعات[ترمیم]

  • کرسمس 2010ء کے موقع پر نو مسلمانوں کی گرفتاریاں اور مقدمہ[1]
  • رنگزیب احمد پر برطانیہ نے بیرون ملک تششد کروانے کے بعد عدالت سے سزا۔[2]
  • محمد گُل کو یوٹیوب پر منظرہ زبراثقال کرنے پر پانچ سال قید۔[3]
  • راجب کریم کو قابل اعتراض برقی خط لکھنے پر سزا۔[4]
  • 6 پاکستانیوں پر بغیر تفصیل بتائے فردِ جرم، ستمبر 2011ء[5]
  • عاصم کوثر کو بم نسخہ بارے جالبین پر پڑھنے پر دو سال قید کی سزا۔[6]
  • بابر احمد کا موقع جال بنانے پر گرفتاری اور آٹھ سال بغیر مقدمہ قید، امریکہ کو حوالگی۔[7]
  • جولائی 2012ء، نامعلوم وجوہات پر مسلمانوں کے آٹھ گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں۔[8]