برقیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
برقیہ (ج: برقات)
HAtomOrbitals.png
برقیہ کثافت (electron density) یعنی مرکزے کہ گرد برقات کے بادلوں کی کثافت کی پیمائش کا ایک نظریاتی تخمینہ یا اظہار ؛ یہاں برقات کی کثافت کی رنگوں کی کثافت سے لونی ترمیز (color coding) کی گئی ہے۔
ترکیب: بنیادی ذرہ
خاندان: فیرمیون
گروہ: نحیفہ
نسل: اول
تفاعل: ثقل، برقناطیسی، نحیف
ضد ذرہ: مثبرقیہ (posi-tron)
تفکیر: G. Johnstone Stoney - 1874
دریافت: J.J. Thomson - 1897
علامت:
e- ، β-
کمیت:
9.109 3826(16) × 10–31 kg
5.485 899 0945(24) × 10–4 u
11822.888 4849(8) u
0.510 998 918(44) MeV/c2
برقی بار:
–1.602 176 53(14) × 10–19 C
غزل: ½
اصطلاحات: برقیہ : electron
برقات : electrons
برق : electricity
برقی : electrical
برقیات : electronics
برقیاتی : electriconic

برقیہ منفی طور پر باردار ذرہ ایک زیرجوہری ذرہ ہوتا ہے جو کہ بنیادی نظریے کے مطابق جوہر کے مرکزے کے اطراف متحرک ہوتا ہے یا آسان الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ گردش کرتا رہتا ہے۔ انگریزی میں اسکو electron کہا جاتا ہے۔

اس کائنات میں موجود تمام عناصر (بلکہ جاندار و بے جان سمیت تمام قسم کے مادوں) کی بنیادی اکائی جوہر ہوتی ہے اور اس جوہر کے تین اہم ترین حصوں میں سے ایک یہی منفی ذرہ برقیہ ہے، جبکہ باقی دو میں سے ایک مثبت ہوتا ہے جو اولیہ یعنی proton کہلاتا ہے اور دوسرا تعدیلی ہوتا ہے جسکو تعدیلہ یعنی neutron کہتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ برقیہ ایک بنیادی زیرجوہری ذرہ ہے جس پر منفی برقی بار ہوتا ہے اور اس کی غزل-½ ہوا کرتی ہے۔ برقیہ کو نحیفہ گروہ میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ بنیادی تفاعلات میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک برقیہ کی کمیت سب سے چھوثے جوہر کی کمیت کے ایک ہزارویں حصے سے بھی کم ہوتی ہے۔ برقیہ پر بار کی مقدار کو −1 تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ جوہری مرکزے کے ساتھ شامل ہو کر جوہر کی تشکیل کرتا ہے اور ان کے اپنے قریب موجود دیگر جواہر کے ساتھ تفاعلات ہی دراصل کیمیائی بند بننے کی بنیادی وجہ ہوتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

برقیہ کو ایک برقی اکائی کے طور پر G. Johnstone Stoney سے 1874 میں پیش کیا اور اسی نے سب سے پہلے 1894 میں Electron کی اصطلاح کو ڈھالا۔ 1890 کی دہائی میں کئی علماء اس بات کی نشاندہی کرچکے تھے کہ برق کو مختلف اکائیوں پر مشتمل ایک شے تصور کیا جاسکتا ہے اور ان اکا ئیوں کی مختلف توجیہات اور نام پیش کیے گئے مگر انکے مستند ہونے کے بارے میں ثبوت ایک عرصہ تک دستیاب نہ ہوسکے۔

سب سے پہلے اس بات کو J. J. Thomson نے 1897 میں دریافت کیا کہ برقیہ دراصل ایک زیرجوہری ذرہ ہے، وہ اس زمانے میں جامعہ کیمبرج کی کیوینڈش مختبر میں مہبط اشعاع نلی (Cathode Ray Tubes) پر اپنے تجربات کر رہا تھا۔ مہبط اشعاع نلی شیشے کی بنی ہوئی ایک نلی ہوتی ہے جس میں خلاء پیدا کر کے اس کو مکمل طور پر بند کردیا جاتا ہے، اس کے دونوں سروں پر ایک ایک برقیرہ یا Electrode لگا ہوتا ہے، ایک جانب کا برقیرہ، مثبت اور دوسری جانب کا برقیرہ منفی ہوتا ہے۔ مثبت برقیرے کو مصعد یا Anode اور منفی برقیرے کو مہبط یا Cathode کہا جاتا ہے۔ جب اس نلی میں سے برقی رو گذاری جاتی ہے تو اس میں ایک خاص قسم کی شعاعیں پیدا ہوتی ہیں جن کو مہبط شعاعیں یا Cathode Rays کہا جاتا ہے۔ تھامسن نے دریافت کیا کہ ان منفی شعاعوں کو مقناطیسی میدان سے تو نہیں موڑا جاسکتا لیکن کسی برقی میدان سے ٹکرا کر منتشر ہو جاتی ہیں. اپنے ان ہی تجربات سے تھامسن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ شعاعیں دراصل ذرات پر مشتمل ہیں اور اس نے ان ذرات کو کریہ (Corpuscle) کا نام دیا۔ اس نے ان کے بارے میں اپنی تحقیقات سے یہ بھی دریافت کیا کہ ان کی کمیتِ حجم تناسب سب سے چھوٹے جوہر hydrogen سے بھی ہزار گنا چھوٹا ہے۔

ایک اور بات یہ بھی سامنے آئی کہ ان مہبط شعاعوں کے خواص مہبط شعاعی نلی میں استعمال کی جانے والی گیس پر نہیں ہوتی جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ ذرات کائناتی حیثیت رکھتے ہیں۔ گویا صرف کسی ایک خاص گیس یا مادے تک محدود نہیں ہوتے۔

برقات پر موجود بار کی مقدار بعد میں 1909 میں رابرٹ ملکن نے اپنے مشہور تیل قطرہ تجربہ سے معلوم کی، اس تجربے کی مزید تفصیل کے لیۓ اسکا صفحہ مخصوص ہے۔

قانون دوری جدول کے مطابق عناصر کے خواص اپنے آپ کو ایک دورانیے کی طرح دہراتے ہیں اور یہی قانون یا نظریہ دوری جدول میں عناصر کی موجودہ ترتیب کی بنیاد ہے۔ اس قانون کی پہلے پہل جوہری کمیت کی مدد سے وضاحت کی گئی لیکن اس کے باوجود دوری جدول میں عناصر کی ترتیب کی وضاحت میں چند خامیاں موجود تھیں۔ اس کے بعد 1913 میں Henry Moseley نے جوہری عدد کا تصور اختیار کرتے ہوئے دوری جدول کی توجیہ پیش کی ، پھر اسی سال Niels Bohr نے ایسے شواہد کی وضاحت کی جن کے تحت دراصل برقات (Electrons) دوری جدول کی ترتیب کی اصل بنیاد ثابت ہوئے۔ اور 1916 وہ عرصہ تھا کہ جب Gilbert Newton نے برقاتی تفاعلات (Electronic Interactions) کی مدد سے کیمیائی بندوں کی وضاحت بیان کی۔

جماعت بندی[ترمیم]

برقیہ کا تعلق زیرجوہری ذرات کی جس جماعت سے ہے اسے نحیفے یا Leptons کہا جاتا ہے۔ ان نحیفات کو بنیادی ذرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو مزید چھوٹے ذرات میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

جیسا کہ دیگر زیرجوہری ذرات کے ساتھ ہوتا ہے وہی خواص برقیہ کے بھی ہیں اور یہ بھی ایک ذرے کے ساتھ ساتھ ایک موج (Wave) کی طرح کا رویہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ ذرات کی اس قسم کی صلاحیت کو موجی ذراتی ثنویت کہا جاتا ہے، اس قسم کے تفاعلات کے لیۓ ایک اور اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے جسکو تکمیلیت کہتے ہیں، اس اصطلاح کو Niels Bohr نے سب سے پہلے اختیار کیا تھا اور اس خاصیت کا دوشگافی تجربے میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

برقیہ کا ضد ذرہ یا Antiparticle ، مثبرقیہ یعنی Positron کہلاتا ہے۔ مثبرقیہ پر بھی اتنا ہی برقی بار ہوتا ہے جتنا کہ برقیہ پر مگر اس بار کی نوعیت مخالف ہوتی ہے یعنی یہ مثبت ہوتا ہے۔ مثبرقیہ کے دریافت کنندہ Carl D. Anderson نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ایک عام برقیہ (Electron) کا نام بدل کر Negatron کر دیا جاۓ اور Electron کی اصطلاح کو مشترکہ طور پر Electron اور Positron دونوں کے لیۓ استعمال کیا جاۓ مگر اس کی اس تجویز کو خاص پذیرائی نہیں ملی۔

خواص و سلوک[ترمیم]

برقات پر موجود برقی بار کی مقدار −1.6022 × 10−19  کولمب ہوتی ہے اور اس کی کمیت کا تخمینہ 9.11 × 10−31  کلوگرام لگایا گیا ہے جو کہ کمیت-حجم تناسب سے اخذ شدہ ہے۔ جبکہ برقیہ کی اضافیتی یکساں کمیت (relativistic rest mass) تقریباًً  MeV/c2 0.511 ہوتا ہے۔ اگر اولیہ یعنی proton سے موازنہ کیا جاۓ تو ایک برقیے کی کمیت اولیہ کے مقابلے میں اس کا 1/1836 واں حصہ ہوتی ہے۔ برقیہ کے لیۓ عام طور پر e علامت اختیار کی جاتی ہے۔

مقداری آلاتیات یعنی Quantum Mechanics کی رو سے برقات کو دالہ موجی (Wave Functions) کے تحت بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے برقیہ کی ایک امکانی کثافت برقیہ نکالی جاسکتی ہے۔ ہوتا اصل میں یوں ہے کہ ہر جوہر میں موجود برقات کے مدار کو ایک دالہ موجی کے تحت بیان کیا جاتا ہے، Heisenberg uncertainty principle کی رو سے کسی برقیہ کے مقام اور معیار حرکت کو ایک ساتھ نہیں معلوم کیا جاسکتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ یہ اصول دراصل ایک قسم کی محدودیت کو بیان کررہا ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس قدر یقینی ہم کسی برقیہ کے مقام کے بارے میں ہوں گے اسی قدر بے یقینی اسکے معیار حرکت کی جانب بڑھ جاۓ گی۔

جیسا کہ ابتداء میں بھی ذکر آیا کہ برقیہ ایک Fermion ہے اور یہ Fermi–Dirac statistics کی پیروی کرتا ہے۔ ایک اندرونی زاویائی معیار حرکت رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اندرونی مقناطیسی حرکت بھی پائی جاتی ہے۔

کسی بھی جوہر میں برقات اس جوہر سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں جبکہ اگر یہی برقات کسی بھی واسطے (گیس یا کسی اور) میں آزاد ہوں تو پھر انکو مہبط نلی یا Cathode Ray کے ذریعے مرتکز کیا جاسکتا ہے۔ جب آزاد برقات حرکت کرتے ہیں یا بہتے ہیں تو اس کی وجہ سے بار کی ایک رو سی پیدا ہو جاتی ہے اور اسی کو برقی جار یا electric current کہا جاتا ہے۔

  • برقیہ (Electron) جب ساکت ہوتا ہے تو اپنے اطراف ایک برقی میدان Electric field رکھتا ہے۔
  • برقیہ جب یکساں رفتار سے حرکت کرتا ہے تو اس کے اطراف مقناطیسی میدان بھی بن جاتا ہے مثلاً الیکٹرو میگنیٹ۔
  • برقیہ جب اسراع پذیر ہوتا ہے تو برقناطیسی اشعاع خارج کرتا ہے مثلاً میگنیٹرون، پکچر ٹیوب، ایکس ریز کی مشین۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]