برٹش نیشنل پارٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

برٹش نیشنل پارٹی یا بی این پی BNP کسی بھی قوم پرست جماعت کی طرح برطانیہ کی ایک قوم پرست اور نسل پرست جماعت ہے جو ساٹھ کی دہائی میں نیشنل فرنٹ کے نام سے قائم کی گئی تھی۔ نیشنل فرنٹ کے اراکین سکن ہیڈ یعنی گنجے سر بڑے بوٹوں اور مخصوص لباس کے ساتھ پہنچانے جاتے تھے۔ اس تنظیم کا سب بڑا نعرہ غیر ملکیوں کو باہر نکالو اور “برطانیہ سفید فام لوگوں کا ملک ہے“ تھا۔ حالیہ نسل پرست جماعت 1982 میں بی این پی کے نام سے قائم ہوئی اور نئے انداز سے سامنے آئی ہے۔ اس تنظیم نے اپنے نام میں تبدیلی کے ساتھ کام کے انداز میں بھی تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب اس کے اراکین ٹائی کوٹ پہن کر اور بظاہر مہذبانہ لباس کے ساتھ اپنا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ امریکہ میں نو ستمبر دوہزار ایک کے واقعات کے بعد اس تنظیم کو نئی زندگی مل گئی اور اس نے برطانیہ میں قیام پذیر دیگر مذاہب کے لوگوں کےبجائے صرف مسلمانوں کو اپنا ہدف بنالیا۔ یہ تنظیم اپنے اشتہارات میں مسلم مخالف جذبات ابھارنے کے لئے کئی مرتبہ پاکستان کی امریکہ اور جنگ مخالف مظاہروں کی تصاویر کو برطانیہ میں ہونے والے مظاہروں کا نام دیتی رہی ہے۔ حالیہ یورپی پارلیمان کے انتخابات میں بھی اس تنظیم نے امریکی فوجی کو برطانوی ظاہر کرکے اس کا بیان لکھا ہے برطانیہ کے فوجیوں کو محفوظ رکھا جائے۔ ایک پولش مزدور کو برطانوی ظاہر کرکے اس سے منسوب بیان میں لکھا گیا کہ برطانوی ملازمتیں صرف برطانوی لوگوں کو ملنے چاہئیں۔ اسی طرح ایک اسپین کے ڈاکٹر کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا کہ بطور برطانوی ڈاکٹر میں جانتا ہوں کہ غیرملکیوں کے باعث ہسپتال اور صحت کے ادارے تباہ ہورہے ہیں ان کو روکا جائے۔

دوہزار پانج کے مقامی انتخابات تک اس جماعت کی کسی بھی کونسل میں نمائندگی نہیں تھی مگر دوہزار پانج میں تنظیم نے لندن اور بریڈفورڈ میں نصف درجن سے کم نشستں حاصل کیں۔ 2009 کے یورپی انتخابات میں اس جماعت نے برطانیہ بھر سے تقریبا نو فیصد ووٹ حاصل کئے اور یارکشائر اینڈ ہمبر نامی حلقہ سے پہلی نشست حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی روز بی این پی کے سربراہ نک گریفن نے بھی نارتھ ویسٹ کے حلقہ سے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔ اپنی کامیابی کے پہلے ہی روز اس نے مسلمانوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الزام عاید کیا کہ بریڈفورڈ میں امیگریشن نہیں بلکہ نوآبادی ہورہی ہے۔

بی این پی نے ابتداء میں تمام غیر سفیدفام اور برطانوی افراد سے تعصب کا رویہ روا رکھا مگر بعد ازاں اس نے ہندو، سکھ اور یہودی مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف مہم بندکردی بلکہ ان مزاہب کے انتہا پسند افراد سے روابط قائم کرلئے اور مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ محاذ قائم کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ایک صحافی نے تنظیم کے ممبر کا روپ دھار کر اس تنطیم کے سربراہ کی ایک خفیہ فلم بھی بنائی تھی جس میں نک گریفن کویہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ بریڈفورڈ کی مساجد کو تباہ کردوں۔ اسی فلم میں ایک ممبر بتاتا ہے کہ اس نے کس طرح ایک مسلمان دکاندار کی دکان میں کتے کی غلاظت پھیکی تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس جماعت کو دانستہ طور پر خفیہ ہاتھوں نے ملک میں بسنے والی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو دبانے کے لئے قائم کیا ہے اور اس کی خفیہ سرپرستی بھی کی جاتی ہے۔ ان افراد کا خیال ہے کہ اگر اس جن کو قابو نہ کیا گیا تو یہ بوتل سے باہر آکر برطانوی معاشرے اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تنظیم کا روئے خط