بریٹن وڈز کا معاہدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بریٹن وڈز کا معاہدہ بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکہ میں کچھ ممالک کے درمیان ہونے والا ایسا معاہدہ ہے جس کا مقصد دنیا کو ایک نیا مالیاتی اور زری نظام دینا اور جنگ زدہ ممالک کی تعمیر و ترقی تھا۔ اسی معاہدہ کے تحت عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے قریب 1944 میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکہ کے مقام پر ہونے والی اس کانفرنس کے نتیجے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (المعروف آئی-ایم-ایف) اور ورلڈ بینک وجود میں آئے۔ اس کانفرنس میں 44 ممالک نے شرکت کی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق 35 امریکی ڈالر ایک اونس سونے کے برابر طے پائے تھے اور امریکہ 35 ڈالر کے عوض اتنا سونا دینےکا پابند تھا۔ دنیا کی دیگر سکّہ رائج الوقت کی قیمت امریکی ڈالر کے حساب سے طے ہوتی تھی۔ اس معاہدے میں بڑی چالاکی سے سونے چاندی کی بجائے ڈالر کو سکّہ رائج الوقت کا معیار مقرر کیا گیا یعنی سونے کی بجائے معیار سونا کی آڑ میں "معیار ڈالر" لایا گیا۔ اس کانفرنس کے معاہدے کا مسودہ انگریز ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے بنایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک ہی عالمی سکّہ رائج الوقت ہو جو نہ سونے سے منسلک ہو نہ سیاسی دباو کے تحت آئے مگر وہ مندوبین کو اس پر قائل نہ کر سکا۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کینیز اپنے آقاوں کے لیئے کام کر رہا تھا۔ دو سال بعد اسکا انتقال ہو گیا۔[1] دوسرے ممالک اس معاہدے کے بعد اپنی سکّہ رائج الوقت کو امریکی ڈالر سے ایک مقررہ نسبت پر رکھنے پر مجبور ہو گئے چاہے اس کے لیئے انہیں ڈالر خریدنے پڑیں یا بیچنے۔ اس معاہدے سے امریکہ کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائ میں آ گیا۔

1971 میں ویتنام کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت سخت دباو کا شکار تھی اور افراط زر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اپریل 1971 میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں آ کر پانچ ارب ڈالر خریدے تا کہ امریکی ڈالر کو سہارا مل سکے۔ (اسوقت امریکہ کے پاس صرف دس ارب ڈالر کا سونا تھا)۔ مئی 1971 میں جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناطہ توڑ لیا کیونکہ وہ گرتے ہوے امریکی ڈالر کی وجہ سے اپنےجرمن مارک کی قیمت مزید نہیں گرانا چاہتا تھا۔ اسکے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معیشت میں بہتری آ گئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔ امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک نے امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔سویزر لینڈ نے جولائی 1971 میں پانچ کروڑ ڈالر کا سونا امریکہ سے وصول کیا۔ امریکہ نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا مگر فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر امریکہ سے سونے میں تبدیل کروائے۔ اس طرح امریکہ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے جو آج تک بہتر نہ ہو سکے۔ 12 اگست 1971 کو برطانیہ نے بھی 75 کروڑ ڈالر کے سونے کا مطالبہ کر دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ حقیقی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ رہے ہوں گے۔[2] 15 اگست 1971 کو امریکہ اپنے بریٹن ووڈز کے وعدے سے یک طرفہ مکر گیا جسے نکسن دھچکا کہتے ہیں [3] کیونکہ وہ کاغذی ڈالر چھاپ چھاپ کر اس کے بدلے عربوں سے اتنا تیل خرید چکا تھا کہ عرب اگر ڈالر کے بدلے سونے کا مطالبہ کر دیتے تو امریکہ اپنا پورا سونا دے کر بھی یہ قرض نہ چکا سکتا تھا۔ 1971 کے اس امریکی اعلان سے عربوں کے اربوں ڈالر کاغذی ردّی میں تبدیل ہو گئے۔ قانون قدرت یہ ہے کہ ایک کا نقصان کسی دوسرے کا فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے اس نقصان کا سارہ فائدہ امریکہ کو ہوا۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ہر ملک کو اپنی مرضی کے مطابق کاغذی سکّہ رائج الوقت چھاپنے کا اختیار مل گیا۔ اس طرح 1971 کے بعد کثیف سکّہ رائج الوقت یا زر کثیف کا دور ختم ہو گیا اور زر فرمان نے مستقل جگہ بنا لی۔ لیکن ان 27 سالوں میں امریکہ کا کاغذی ڈالر بین الاقوامی سکّہ رائج الوقت بن چکا تھا۔ امریکی بینکار 1944 میں بریٹن ووڈز کے معاہدے میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب بڑی حد تک انہیں حاصل ہو گیا۔ سوئزر لینڈ وہ آخری ملک تھا جس نے سنہ 2000 میں اپنی کاغذی سکّہ رائج الوقت کا سونے سے ناطہ توڑا۔



مزید دیکھیئے[ترمیم]