بقراط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بقراط
(قدیم یونان: Ἱπποκράτης)
نیشنل لائبرری آف میڈیسن میں رکھا گیا بقراط کا مجسمہ ، 1638
پیدائش 460 ب۔م۔
کوس (شہر), یونان
وفات ca. 370 BC
لاریزا, یونان
پیشہ طب

بقراط مشہور یونانی سائنس دان تھا، طبابت میں بہت کام کیا اور نام پیدا کیا۔ بیماری میں تعویذ گنڈے کے علاج کی بجائے سائنسی علاج کی بنیاد ڈالی اور اسی وجہ سے بقراط کو باباۓ طب کا درجہ بھی دیا جاتا ہے، بقراط کی ابتداء کردہ اساسوں اور بعد میں جالینوس اور ابن سینا جیسے عالموں کی کاوشوں سے طب یونانی کی بنیاد قائم ہوئی۔


بقراط 460 قبل مسیح یونان کے شہر کوس میں پیدا ہوا۔ بقراط کے والد کا نام رافیس تھا۔ بقراط کا استاد اسقلینوس ثانی تھا۔ بقراط نے علم حاصل کرنے میں 16 سال صرف کئے باقی عمر تحریرو تصنیف میں گذاری۔ بقراط کا شمار بھی یونان کے مشہور و معروف میں حکماء میں ہوتا ہے۔ طب کی باقاعدہ ترویح کا سہرا بقراط کے سر ہے۔ آج بھی ہزاروں سال گذرنے کے باوجود بقراط کا نام بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ بقراط کو ذہانت اور عقل و دانش میں سبھی حکماء افضل مانتے ہیں۔ بقراط نے طبابت میں بہت کام کیا اور نام پیدا کیا۔ بیماری میں تعویذ گنڈے کے علاج کی بجائے سائنسی علاج کی بنیاد ڈالی اور اسی وجہ سے بقراط کو بابائے طب کا درجہ بھی دیا جاتا ہے، بقراط کی ابتداء کردہ اساسوں اور بعد میں جالینوس اور ابن سینا جیسے عالموں کی کاوشوں سے طب یونانی کی بنیاد قائم ہوئی۔ 70 سال کی عمر یونان کے شہر لاریزا میں وفات پائی۔ بقراط کی بہت سی کتب کا ترجمہ ہوچکا ہے۔

"'بقراط کے چند حکیمانہ اقوال ملاحظہ ہوں

(۱)اپنے دوستوں سے اس قدر اخلاص روا رکھو کہ تھوڑی سی تبدیلی دوستی ختم نہ کرڈالے۔

(۲)اگر تم خواتین کے مشوروں کے محتاج نہ بنوگے تو پوری زندگی مصائب سے بچے رہوگے۔

(۳)جو شخص حسد کو قائم رکھے اس کا نفس قائم نہیں رہ سکتا اور اس کی حاسدانہ روش اس کو قبل از وقت موت کے منہ پہنچا دیتی ہے۔

(۴)عقلمند وہ ہے جو میانہ روی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے رکھے۔

(۵)سنجیدگی کو برقرار رکھو، کم بات کرو اور اپنی بات کو بُرے لوگوں سے بچائے رکھو۔

(۶)اگر کوئی تمہارے بد افعال کی نشاندہی کرے تو اس کو بُرا مت کہو بلکہ اس بُرے عمل کو ترک کردو۔

(۷)تمہیں چاہئے کہ لوگوں کے عیوب کے متلاشی نہ رہو، کیونکہ تمہارے عیب بھی کوئی تلاش کرسکتا ہے۔

(۸)جو لوگ حکام بالا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کو ذلت و اہانت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔

(۹)اس دنیا کو مہمان خانہ سمجھو اور موت کو میزبان۔

(۱۰)اگر تمہیں بہت دولت مل جائے تو رب کا شکر کرو اور چھین لی جائے تو ناشکری مت کرو۔

(۱۱)مخلوق کے فیصلوں میں انصاف برقرار رکھو۔

(۱۲)جو تمہیں گالیاں دے تم اس کو گالیاں مت دو، بلکہ حسن اخلاق سے اس کی اصلاح کرو۔

(۱۳)جو شخص اپنے عیوب سے آگاہی حاصل نہیں کرتا اس پر کسی کی نصیحت کا اثر ہوسکتا۔

(۱۴)تحمل مزاجی قائدین اور نیک لوگوں کی اولین نشانی ہے۔

(۱۵)عبرت حاصل کرنے کے شوقین کے لئے ہر نئی چیز میں عبرت پنہاں ہے۔

(۱۶)تمہیں ہر اس بات کا علم ہونا چاہئے جس کے بغیر تم کبھی بھی شرمندگی سے دوچار ہوسکتے ہو۔

یہ مواد مختلف ویب سائٹس سے لیا گیا ہے۔۔۔ ۔۔۔ (این نعیم ساحل) ۲فروری ۲۰۱۵ وقت۹:۵۵

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔