تاریخی پس منظر[ترمیم]
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی 1972 میں ایک صدارتی حکم کے تحت وجود میں آئی۔ اسمبلی کا پہلا اور باقاعدہ اجلاس 2 مئی 1972 کو منعقد ہوا جس میں 21 ممبران (ایک خاتون اور 20 مرد حضرات) نے شرکت کی. بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے وجود میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک کے اس سفر میں مجموعی طور پر 8 عام انتخابات دیکھے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ممبران کی تعداد بتدریج بڑھ کر 65 ہو چکی ہے۔ اگرچہ ممبران کی تبدیلی کی وجہ سے یہ تعداد گھٹتی بڑھتی ہے۔1972ءمیں ممبران کی کل تعداد21اور 1977 ءمیں 45 تھی جو 1999 میں گھٹ کر 43 ہو گئی، آخری مردم شماری کی بناءپر اس کی رکنیت میں اضافے کے بعد یہ تعداد 65 ہو گئی جن میں عام نشستوں کی تعداد 51، خواتین کے لیے مختص کردہ 11 نشستیں اور اقلیتوں کے لیے 3 نشستیں شامل ہیں۔
موجودہ ایوان کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی (مسلم لیگ ہم خیال)،ڈپٹی اسپیکر سید مطیع اللہ آغا (جمعیت علمائے اسلام ) اور قائدایوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی (پاکستان پیپلز پارٹی )ہیں۔
موجودہ اسمبلی 2008ء[ترمیم]
ایک نشست صوبائی وزیر رستم جمالی کے قتل کے بعد سے خالی ہے.
آٹھویںاسمبلی 2002ء[ترمیم]
اکتوبر2002ء کو منتخب ہونے والی آٹھویں بلوچستان اسمبلی میں ممبران کی تعداد 43 سے بڑھا کر 65 کردی گئی جن مین 51 عام ، 11 خواتین اور 3 نشستیں اقلیتوں کے لئے مختص کی گئیں۔ یہ صوبے کی پہلی گریجویٹ اسمبلی رہی یعنی ممبران کے لئے کم از کم تعلیمی قابلیت کی شرط بی ۔ اے رکھی گئی۔مسلم لیگ ق اور متحدہ مجلس عمل نے مخلوط حکومت تشکیل دی۔ قائد ایوان مسلم لیگ ق کے جام محمد یوسف منتخب ہوئے جن کے والد جام غلام قادر بھی ماضی میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ اسمبلی کے قائد حزب اختلاف نیشنل پارٹی کے کچکول علی ایڈووکیٹ نامزد کئے گئے ۔ جبکہ اسپیکر جمال شاہ کاکڑ اور ڈپٹی اسپیکر محمد اسلم بھوتانی منتخب ہوئے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبائی اسمبلی کی تاریخ میںپہلی مرتبہ مسز نسرین رحمان کھیتران لورالائی سے عام نشست پر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر ایوان میں آئیں۔ اکتوبر 2007ء کے آوائل میں پرویز مشرف نے اپنے آپ کو ایسی اسمبلی سے پانچ سال کے لئے منتخب کرایا جو نہ صرف پہلے بھی انہیں صدر منتخب کرچکی تھی بلکہ اپنی مدت بھی نومبر 2007ء میں ختم کرنے والی تھی ۔ صدارتی انتخاب کے خلاف چند روز قبل ہی آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر بلوچستان اسمبلی کے پچیس ارکان نے صدارتی انتخاب کے خلاف استعفے دیدیئے ۔مستعفی ہونے والوںمیں پانچ سال تک اقتدار کا حصہ رہنے والے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سولہ، اپوزیشن کی جماعت نیشنل پارٹی کے پانچ اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چار اراکین شامل تھے۔ اس اسمبلی کو نومبر 2008ء میں صدر پرویز مشرف نے اپنی مدت پورے ہونے کے بعد تحلیل کردیا۔ یوں یہ اپنی مدت پوری کرنےوالی بلوچستان کی پہلی اسمبلی رہی ۔
ساتویں اسمبلی 1997ء[ترمیم]
فروری 1997ء تا اکتوبر 1999ء تک رہنے والی بلوچستان اسمبلی کے پہلے قائد ایوان سردار اختر مینگل جبکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر باالترتیب میر عبدالجبار خان اور مولوی نصیب اللہ منتخب ہوئے۔ تقریبا اٹھارہ ماہ تک قائد ایوان رہنے کے بعد سردار اختر مینگل اکثریت کا اعتماد کھو دینے کی بناء پر مستعفی ہوئے۔ اس کے بعد ایوان نے میر جان محمد جمالی کو اپنا نیا قائد ایوان منتخب کیا۔ اس اسمبلی کو 14 اکتوبر 1999ء کو ایمر جنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی غیر معینہ مدت کے لئے تحلیل کردیا گیا ۔
چھٹی اسمبلی 1993ء[ترمیم]
اکتوبر 1993ء تا 1996ء تک رہنے والی چھٹی بلوچستان اسمبلی کے قائد ایوان نواب ذوالفقار خان مگسی منتخب ہوئے جبکہ اسپیکر عبدالوحید بلوچ اور ڈپٹی اسپیکر بشیر مسیح منتخب ہوئے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع قائد حزب اختلاف نامزد کئے گئے۔ تقریبآ چھ ماہ تک ڈپٹی اسپیکر رہنے ک ےبعد بشیر مسیحوفات پا گئے۔ ان کی جگہ ارجن داس بگٹی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس وقت اسمبلی ممبران کی تعداد میںکوئی بیشی نہیں کی گئی ۔ تقریبا تین سال رہنے والی اس اسمبلی کو اس وقت کے صدر نے توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کیا ۔
پانچویںاسمبلی 1990ء[ترمیم]
پانچویں بلوچستان اسمبلی2 نومبر 1990ء تا 19 جولائی 1993ء تک رہی ۔ ممبران کی تعداد 45 کی بجائے واپس 43 کردی گئی۔ جس میں 40 عام اور تین اقلیتی ممبران تھے جبکہ مذکورہ اسمبلی میںخواتین کے لئے کوئی نشست مختص نہیں کی گئی۔ ملک سکندر خان ایڈووکیٹ اور عبدالمجید بزنجو باالترتیب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ تقریبآ دو سال تک ڈپٹی اسپیکر رہنے کے بعد میر عبدالمجید بزنجو مستعفی ہوکر کابینہ مین شامل ہوئے جس کے بعد عبدالقہار خان ودان کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کیا گیا۔ اڑھائی سال قائد ایوان رہنے کے بعد میر تاج محمد جمالی اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے جس کے بعد نواب ذوالفقارعلی خان ان کی جگہ منتخب ہوئے۔ تقریبآ 29 ماہ تک رہنے والی اس اسمبلی کو اس وقت کے صدر نے توڑ دیا اور نئے عام انتخابات کا اعلان کیا۔
چوتھی اسمبلی 1988ء[ترمیم]
26 نومبر 1988ء تا 7 اگست 1990ء تک رہنے والی چوتھی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر باالترتیب سردار محمد خان باروزئی اور میر عبدالمجید بزنجو منتخب ہوئے جبکہ میر ظفر اللہ خان جمالی قائد ایوان منتخب ہوئے۔ میر ظفر اللہ جمالی کی قیادت میں بننے والی یہ اسمبلی تقریبا22 دن چلنے کے بعد اپنی اکثریت ثابت نہ کرنے کی بناء پر ٹوٹ گئی ۔ عدالتی حکم پر دوبارہ بحال ہونے والی اس اسمبلی نے نواب محمد اکبر خان بگٹی کی قیادت میں میر محمد اکرم بلوچ اور عنایت اللہ بلوچ کو اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب کیا۔ 15 ماہ تک خدمات انجام دے کر میر محمد اکرم خان بلوچ بحیثیت اسپیکر مستعفی ہوئے جس کے بعد اس عہدہ پر میر ظہور حسین خان کھوسہ منتخب ہوئے۔ تقریبآ 20 ماہ تک رہنے والی اس اسمبلی کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے توڑ کر نئے عام انتخابات کا اعلان کیا۔
تیسری اسمبلی 1985ء[ترمیم]
طویل عرصہ تک مارشل لاء کے نفاذ کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والی تیسری اسمبلی 12 مارچ 1985ء کو وجود میں آئی ۔ ممبران کی تعداد 43 سے بڑھا کر 45 کردی گئی جس میں40 عام ، 2 خواتین اور 3 اقلیتی ممبران شامل تھے۔ ملک محمد سرور خان کاکڑ و آغا عبدالظاہر احمد زئی باالترتیب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ۔ جبکہ جام میر غلام قادر قائد ایوان منتخب ہوئے۔ اسی دوران بلوچستان اسمبلی نئی تعمیر شدہ عمارت میں منتقل ہوئی ۔ غیر جماعتی بنیادوں پر وجود میں آنے والی تیسری بلوچستان اسمبلی بھی اپنی مدت پوری نہیںکرسکی ، اسمبلی کو اس وقت کے صدر نے 29 مئی 1988ء کو توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کیا۔
دوسری اسمبلی 1977ء[ترمیم]
10 مارچ 1977ء کو دوسری اسمبلی وجود میںآئی جو کہ 4 جولائی 1977ء تک چلی ۔ یہ سب سے کم عرصہ رہنے والی اسمبلی تھی۔ پچھلی اسمبلی ممبران کی نسبت تعداد 21 سے بڑھا کر 43 کردی گئی ۔ جس میں 40 عام ، 2 خواتین اور ایک اقلیتی ممبر تھے۔ 5 اپریل 1977ء کے اجلاس میں میر جام غلام قادر اور محمد رحیم کاکڑ باالترتیب اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے جبکہ سردار محمد خان باروزئی قائد ایوان منتخب ہوئے ۔ا س اسمبلی نے اپنے مختصر دور میں تین تحاریک استحقاق، 5 قراردادیں اور 270 سوالات نمٹائے۔ 4 جولائی 1977ء کو اسمبلیاںتوڑ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کی گئی۔
فہرست
| نمبر شمار |
نام |
عہدہ |
قلمدان سنبھالا |
قلمدان چھوڑا |
سیاسی جماعت/تبصرہ |
| 1 |
محمد خان باروزئی |
وزیراعلیٰ |
1977-04-05 |
1977-07-04 |
|
| 2 |
جام غلام قادر |
اسپیکر |
1977-04-05 |
1977-07-04 |
|
| 3 |
محمد رحیم کاکڑ |
ڈپٹی اسپیکر |
1977-04-05 |
1977-07-04 |
|
پہلی اسمبلی 1970ء[ترمیم]
صوبائی اسمبلی کے پہلے انتخابات17دسمبر1970ءکو منعقد ہوئے ۔ ان انتخابات کے نتیجے میں نیشنل پارٹی عوامی نے اکثریت حاصل کی اور جمعیت علمائے اسلام مفتی گروپ کے ساتھ ملکر صوبے میں اپریل 1972ء کو سردارعطاء اللہ مینگل کی قیادت میں مخلوط حکومت تشکیل دی ۔ اس وقت اسمبلی ممبران کی کل تعداد21تھی۔ جس میں 20مرد اور خواتین کے لئے ایک نشست مخصوص کی کی گئی تھی ۔چونکہ اس وقت اسمبلی کے لئے کوئی باقاعدہ عمارت نہیں تھی اس لئے اسمبلی کا دفتر حال ٹاﺅن ہال (شاہی جرگہ ہال) میں قائم کیا گیا۔ پہلی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس اس وقت کے گورنر جناب غوث بخش بزنجو نے2مئی1972ءکو طلب کیا جس کی صدارت عبدالصمد خان اچکزئی نے کی۔ محمد خان باروزئی اور مولوی سید محدم شمس الدین بالترتیب بلا مقابلہ اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔اس اسمبلی کے پہلے قائدایوان سردار عطااللہ مینگل تھے جبکہ قائدحزب اختلاف غوث نجش رئیسائی تھے۔ عطاءاللہ مینگل کی سربراہی میں بننے والی یہ مخلوط حکومت کو 13 فروری 1973 کو برطرف کردیا گیا اور نواب اکبر بگٹی مرحوم کو بزنجو کی جگہ پر صوبے کا گورنر مقرر کردیا گیا۔ مینگل حکومت پر غیر ملکی اسلحہ کی مدد سے بلوچستان کوآزاد کرانے کی سازش کا الزام تھا۔ یوں مینگل حکومت صرف نو ماہ ہی چلی۔ اس کے بعد تقریباً2ماہ معطل رہنے والی یہ اسمبلی جام میر غلام قادر کی سربراہی میں دوبارہ فرائض انجام دینے لگی۔ مولوی شمس الدین کی شہادت کے بعد 3جون1974ءکو قادر بخش بلوچ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔ سال1976ءکے اختتام پر جام میر غلام قادر خان کے مستعفی ہونے پر محمد خان باروزئی6دسمبر1976ءکو بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب کئے گئے۔ جبکہ اگلے دن جام غلام قادر نے اسپیکر شپ کا حلف لیا۔ اس اسمبلی نے ریکارڈ بزنس کیا جس میں50بل،18تحاریک استحقاق،75تحاریک التواء،74قراردادیں اور1130سوالات نمٹائے۔
اسمبلیوں کی کارکردگی[ترمیم]
| نمبر شمار |
منتخب اسمبلی |
مسؤدہ قانون/قوانین |
تحاریک استحقاق |
تحاریک التواء |
قراردادیں |
سوالات |
| 1 |
1972-1976 |
39 |
18 |
75 |
74 |
1,130 |
| 2 |
1977-1977 |
- |
3 |
- |
5 |
270 |
| 3 |
1985-1988 |
20 |
15 |
17 |
73 |
1,001 |
| 4 |
1988-1990 |
15 |
21 |
27 |
48 |
349 |
| 5 |
1990-1993 |
9 |
28 |
58 |
117 |
760 |
| 6 |
1993-1996 |
18 |
26 |
76 |
77 |
821 |
| 7 |
1997-1999 |
5 |
10 |
67 |
77 |
819 |
| 8 |
2002-2007 |
33 |
93 |
170 |
174 |
1,327 |
| 9 |
---- -2008 |
- |
- |
- |
- |
- |
اسمبلی کی عمارت[ترمیم]
اسمبلی کی موجودہ عمارت کی تعمیر 1986ء میں مکمل ہوئی اور اس کا باقاعدہ افتتاح اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے 28 اپریل 1987ء کو کیا۔ اس سے قبل اسمبلی کے اجلاس، اسمبلی کی عمارت موجود نہ ہونے کی وجہ سے شاہی جرگرہال(ٹاؤن ہال) میں منعقد ہوتے رہے۔ اسمبلی کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد 1973ء میں اس وقت کے گورنر محمد اکبر خان بگٹی نے رکھا- ان کی خصوصی ہدایت پر موجودہ عمارت کا نمونہ "گدان" یعنی خیمہ کی طرز پر کیا گیا۔ جو انتہائی انوکھا اور دیدہ زیب ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی ثقافت کا آئینہ دار ہے- اس وسیع و عریض عمارت میں 72 ممبران کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اس کے علاوہ گورنر اور اسپیکر کے لیے مخصوص گیلری ہے- یہاں 25 نشستیں معزز مہمانوں کے لیے مخصوص ہیں اور 25 نشستیں صوبائی حکومت کے سینئر افسران کی ہیں۔ بالائی گیلری میں خصوصی مہمانوں کے لیے 168 نشستیں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کے لیے 55 نشستیں مخصوص ہیں۔12 ایکڑ رقبے پر پھیلی اس عمارت کے پہلو میں ایک جدید سہولتوں سے آراستہ ہوسٹل ہے اس میں کل 66 کمرے ہیں جو اسمبلی کے ممبران کے لیے مخصوص ہیں- بلوچستان اسمبلی کی انتظامیہ کی نئی عمارت میں لگ بھگ 40 افسران کے لیے علیحدہ علیحدہ دفاتر موجود ہیں۔اس میں ایک کانفرنس ہال بھی ہے جہاں 61 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ دو کمیٹی روم ہیں جن میں بالترتیب 23 اور 17 افراد بیک وقت بیٹھ سکتے ہیں۔