بلوچی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بلوچی
بلوچی baločî Balóćí
مستعمل پاکستان ، ایران ، افغانستان ، ترکمانستان ، م ع ا ، عمان
واطن مکلمین 20 ملین  (1998)
خاندانہائے زبان
سرکاری حیثیت
دفتری زبان Flag of Pakistan.svg پاکستان (بلوچستان (پاکستان)) (صوبائی) and Flag of Iran.svg ایران (بلوچستان صوبۂ ایران)
نظمیت از بلوچی اکادمی (پاکستان)
رموزِ زبان
آئیسو 639-2 bal
آئیسو 639-3 balinclusive code
Individual codes:
bgp – مشرقی بلوچی
bgn – مغربی بلوچی
bcc – جنوبی بلوچی
Linguasphere 58-AAB-a > 58-AAB-aa (East Balochi) + 58-AAB-ab (West Balochi) + 58-AAB-ac (South Balochi) + 58-AAB-ad (Bashkardi)
{| style="text-align:left;"

|- | colspan="3" |

Indic script
یہ مضمون ، برہمنی حروف یا متن رکھتا ہے۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، برہمنی محارف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔
|}
{| style="text-align:left;"

|- | colspan=3 class="boilerplate metadata" style="line-height: 10pt; padding: 0.5em" | This page contains IPA phonetic symbols in Unicode. Without proper rendering support, you may see question marks, boxes, or other symbols instead of Unicode characters.

|}


بلوچی زبان (Balochi language) بلوچ قبائل کی زبان ہے۔ ہند یورپی خاندانِ السنہ کی ایک شاخ ہند ایرانی جو مروجہ فارسی سے قبل رائج تھی، کی ایک بولی ہے۔ پاکستانی صوبہ بلوچستان ایرانی بلوچستان ، سیستان ، کردستان اور خلیج فارس کی ریاستوں میں بولی جاتی ہے۔ بلوچی ادب کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا رند دور جو 1430ء سے 1600ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔ دوسرا خوانین کا دور جس کی مدت 1600ء سے 1850ء تک ہے۔ تیسرا دور برطانوی دور جو 1850ء سے شروع ہوا اور اگست 1947ء میں تمام ہوا۔ چوتھا ہمعصر دور جس کا آغاز قیام پاکستان سے ہوا۔

رند یا کلاسیکی دور میں بلوچ شعرا نے چار بیت طرز کی رزمیہ داستانیں اور مشہور بلوچ رومان نظم کیے۔ اُس دور کے شعرا میں سردار اعظم ، امیرچاکر رند، امیر بیو راغ ، پھوزرند ، گواہ شاہ لاشاری ، میر ریحان رند ، شاہ مرید ، میر شاد داد ، میر جمال رند اور شاہ مبارک قابل ذکر ہیں۔ خوانین قلات کے دور میں خان عبداللہ خان، جنید رند ، جام درک درمبکی ، محمد خان کشکوری ، مٹھا خان رند اور حیدر ہلاچانی شعرا نے شہرت پائی۔ برطانوی دور نے ملا فضل رند ،قاسم رند ، مست توکلی ، رحم علی، بہرام جکرانی ، حضور بخش جتوئی ، عبدالنبی رند، عزت پنج گرج ، نور محمد بام پشتی ، ملاابراہیم سرسبزی ، ملا بہرام سرسبزی اور اسماعیل پل آبادی جیسے شعرا اور ادبا پیداہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد بلوچی ادب کی ترقی و فروغ کے لیے موثر کوشیں کی گئیں۔ 1949ء میں بلوچستان رائٹر ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ 1951ء میں بلوچ دیوان کی تشکیل ہوئی اور بلوچی زبان کاایک ماہوار مجلہ ادمان کا اجرا ہوا۔ کچھ عرصے بعد ماہنامہ بلوجی جاری کیا گیا۔ اس کے فوری بعد ماہنامہ اولس اور ہفت روزہ ’’دیر‘‘ شائع ہوئے۔ 1959ء میں بلوچی اکیڈیمی قائم ہوئی جس کے زیر اہتمام متعدد بلوچی کلاسیکی کتب شائع ہو چکی ہیں۔

ہمعصر بلوچی شعرا میں ظہور شاہ، عطا شاد ، مراد ساحر ، گل خان نصیر ، مومن بزمد ، اسحاق شمیم ، ملک محمد تقی ، صدیق آزاد ، مرعاد ساحر ، گل خان نصیر ، اکبر بارک زئی، ہاشمی شاکر، مراد ساحر ، مراد آوارانی، میر عبدالقیوم ، میر مٹھا خان مری اور ملک پناہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ نئی پود میں امان اللہ گجکی، نعمت اللہ گجکی، عبدالحکیم بلوچ، عبدالغفار ندیم ،اور صورت خان مری نے بلوچی ادب کے ناقدین کو کافی متاثر کیا ہے۔ بلوچی زبان کو سیکھنا چاہئے، کیوں؟

1. اس زبان کی تقریبا لگ بهگ 20 ملین بولنے والے ہیں، انہیں دنیا کے سب سے زیاده وسیع پیمانے پر بولی جانے والے ٦۰ زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے. 2. ایک وسیع علاقے میں بولی جانے والی زبان ہے۔ جنوب مشرقی ایران ، جنوب مغربی پاکستان اور جنوب مشرقی افغانستان (جو ایک وسیع خطے جسے "بلوچستان" کے نام سے جانا جاتا ہے) کے علاوہ عربستان، ترکمنستان، افریقہ اور دیگر علاقوں کے بلوچ تارکین وطن کے زبان ہیں. اور بصورت دیگر سنٹرل ایشیا کو مڈل ایسٹ سے ملانے والی زبان. 3. اس زبان (بلوچی) کی ایک تاریخی پس منظر ہے، اس کی قدیم فارسی، سنسکرت، اوستائی اور پارتھین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں. 4. انکی بے شمار لہجے هیں، مگر پھر بھی یہ سب (لہجے) ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں (ہر بلوچ انہیں باآسانی سمجھ سکتی ہے). 5. انکی بڑے پیمانے کی ادبی سرمایہ اور کلاسیک (اساطیر) هیں، جن میں سے زیاده ابهی تک (دیگر زبانوں میں) ترجمہ نهیں هوئے ہیں. 6. اردو بولنے والوں کیلئے انکا سیکهنا نسبتا آسان هے، اگر قواعد کو دیکها جائے تو بلوچی ایک آسان زبان هے. انکی "اسم" کی کوئی جنس نهیں ہوتی، "اسم" کو تعریف کی ضرورت نهیں، اور تقریبا تمام تر فعل با قاعدگی سے ماضی میں جاکے کهڑے هوتے هیں. 7. بلوچی انڈو یورپی زبان کے خاندان کی انڈو ایرانی شاخ کا حصہ ہے. لہذا، اگر کچھ بلوچی سیکها جائے تو یقینی طور پر یہ فارسی، کوردی اور هندی سیکهنے میں مدتگار ثابت هوگا. 8. انکو سیکهنا آپ کو ان سارے لوگوں سے ایک اور الگ سا درجہ دیتا هے جن کو دیگر ایرانی زبانون کی تعلیم حاصل هے.


بیرونی روابط[ترمیم]