باناز اے لو سٹوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بناز اے لو سٹوری سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
باناز اے لو سٹوری
Banaz A love Story.jpg
باناز اے لو سٹوری، فلم کا سرورق
ہدایات دیا خان
تخلیق دیا خان
ڈیرن پرنڈل
اینڈریو سمتھ
تحریر دیا خان
ڈیرن پرنڈل
ستارے کیرولین گڈ
ڈیانا نمی
نذیر افضل
موسیقی ایل سبرامنیم
تقسیم کاری فیوز فلمز
نمائش 29 ستمبر، 2012ء
وقت دورانیہ 70 منٹ
ملک برطانیہ، ناروے
زبان انگریزی
IMDb profile

باناز اے لو سٹوری ایک دستاویزی فلم ہے جسے فلمساز و ہدایتکار دیا خان نے بنایا ہے [1]۔ یہ فلم باناز نامی ایک ایسی بد قسمت عراقی کرد نژاد برطانوی لڑکی کی زندگی اور موت کا احاطہ کرتی ہے [2]۔جسے 2006ء میں اپنے خاندان نے غیرت کے نام پر جنوبی لندن میں قتل کر دیا تھا[3] ۔اس فلم کی افتتاحی نمائش ستمبر 2012ء میں برطانیہ کے رین ڈانس فلمی میلے (Raindance Film Festival) میں ہوئی [4] ۔

کہانی[ترمیم]

باناز عراق کے ایک کرد گھرانے میں پیدا ہوئی، اور دس سال کی عمر میں اپنے اہل خاندان کے ساتھ برطانیہ منتقل ہو گئی۔ 17 سال کی عمر میں اسکی شادی اپنے سے دس سال بڑے چچا زاد بھائی سے کر دی گئی۔ میاں بیوی میں نہ بن پائی، باناز کو بیشتر اوقات تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا، ماب باپ نے بھی بیٹی کو اس جہنم سے نکالنے کی بجائے حالات سے سمجھوتا کرنے کی تلقین کی۔ باناز نے خاندان کی خواہشات کے برعکس طلاق کی کوشش کی۔ اور بعد میں برطانیہ میں پلے بڑھے رحمت نامی کرد نوجوان کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔ جب خاندان کو اس بات کی بھنک پڑی، تو ایک دن باپ نے بیٹی کو شراب پلا کر نشے کی حالت میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، باناز باپ کے ارادے بھانپ گئی اور بھاگ کر پولیس کے پاس جا پہنچی لیکن پولیس نے اس کی کہانی کو نشے میں دھت ایک لڑکی کی خرافات سمجھ کر واپس ماں باپ کے گھر بھیج دیا۔ کچھ عرصہ بعد باناز پر اسرار طور پر غائب ہو گئی۔ رحمت نے پولیس کو کمشدگی کو باناز کے قتل سے تعبیر کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی، لیکن ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔اتفاق سے کچھ عرصہ بعد یہ فائل کیرولین گڈ نامی خاتون تفتیشاتی پولیس افسر کی نظروں سے گزری، جس نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلیئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ کیرولین کی تفتیش کی وجہ سے یہ پر اسرار گتھی سلجھ گئی، باناز کا قتل کے پیچھے باناز کے باپ اور چچا جو لندن کی کرد کمیونٹی میں بہت با رسوخ تھا، گرفتار کر لیا گیا۔ جنہوں نے اپنے تین بھتیجوں کو عراق سے بلوا کر باناز کو قتل کروایا تھا۔ ان تینوں کو عراق سے لندن لانے کیلئے کیرولین کو بڑے پاپڑ پیلنے پڑے، لیکن وہ اس میں سرخرو نکلی۔ باناز کے باپ چچا اور تینوں قاتلوں کو سزا ہوئی۔ اس سارے مقدمے میں باناز کی بڑی بہن بیخال محمود نے اپنی مری بہن کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے باپ اور چچا کے خلاف عدالت میں بیانات دیئے۔ باناز کی لاش جو ایک سوٹ کیس میں رکھ کر صحن میں دبا دی گئی تھی اور اس پر ایک پرانا فریج رکھا ہوا تھا، برآمد کر لی گئی۔ برطانوی ملکہ نے بذات خود کیرولین کو اس کامیابی پر اعزاز سے نوازا۔


"غیرت کے نام پر قتل' کی لعنت پر ایک دردناک، نمایاں، اور بروقت بصیرت افروز فلم. ... صیح معنوں میں ایک ڈراونی فلم (horror movie) جو باناز محمود کی انتہائی دردناک زندگی، محبت، دہشت زدگی اور بالاخر موت کی کہانی بیان کرتی ہے وہ موت جو ان لوگوں کے ہاتھوں ہوتی ہے جنہیں اس سے سب سے زیادہ محبت کرنی چاہیئے تھی، یعنی اس کا اپنا خاندان."
جان سنو , چینل فور [5]
" باناز اے لو سٹوری سے ایک کار حادثے کو آہستہ آہستہ (slow motion) سے دیکھتے ہونے کا احساس ہوتا ، جس سے وہ معلومات آپ تک پہنچتی ہیں جنہیں دیکھ کر آپ کا دم گھٹنے لگتا ہے، ( فلم کا) نتیجہ پہلے سے ہی جاننے کے باوجود اپکو تعجب سا ہوتا ہے، کیوں کوئی بھی نہیں تھا جو اس حادثے کو ہونے سے روک دیتا، یہ معلومات جو آہستہ آہستہ اور بتدریج ٹپ ٹپ کے انداز میں آپکے سامنے آتی ہیں، آپکو ڈریم آف اے لائف کے المیہ کی کہانی کی جانب لے جاتی ہیں، کہ کس طرح جوئس ونسنٹ کو معاشرہ 2003ء میں اکیلے مرنے کیلیئے چھوڑ دیتا ہے."
ڈیوڈ پیرلی [6]
"اگر ان کے اپنے خونی رشتہ داروں نے انہیں چھوڑ دیا، دغا دیا، بھلا دیا اور انہیں اذیتیں دیں، تو وہ اب ہماری بچیاں، ہماری بہنیں اور ہماری مائیں ہیں۔ ہم ان کیلیئے گریہ و زاری کریں گے، ہم ان کو یاد رکھیں گے، ان کی کہانی ہماری یاداشت سے کبھی محو نہ ہو پائے گی، ہم انہیں کبھی نہیں بھلائیں گے"۔
سیف ورلڈ سے فلم بنانے کی وجہ پر دیا خان کے الفاظ.[7]

دیگر نمائش جات[ترمیم]

مختلف فلمی میلوں کے علاود بناز اے لو سٹوری کی برطانیہ کے سب سے بڑے چینل آئی ٹی وی پر تحقیقی صحافت پر مبنی سلسلہ وار پروگرام ایکسپوژر میں 31 دسمبر 2012ء کو نشر کیا گیا۔ اس پروگرام کیلیئے ایک نیا ورژن ترتیب دیا گیا.[8] اس ورژن کو دیا خان کی فیوز فلمز اور برطانیہ کی غیر سرکاری فلم کمپنی جس کا نام ہارڈ کور پروڈکشنز ہے، نے مل کر تیار کیا۔ یہ کمپنی ایمی ایوارڈ، بافٹا ایوارڈ جیسے معتبر فلمی ایوارڈ حاصل کر چکی ہے ۔آئی ٹی وی کیلیئے بنائے جانے والے ورژن کا نام " باناز، غیرت کے نام پر ایک قتل " تھا.

کاسٹ[ترمیم]

  • باناز محمود
  • بیخال محمود
  • کیرولین گڈ
  • ڈیانا نمی
  • پالبندر سنگھ
  • وکٹر ٹیمپل
  • بوبی چھیمہ
  • جواین پیٹن
  • اینڈی کریگ
  • سٹوارٹ ریوز
  • نذیر افضل

ایوارڈ[ترمیم]

  • باناز اے لو سٹوری کو رائل ٹیلی ویژن سوسائٹی نے جرنلزم کے زمرے میں ایواڈ کیلئے نامزد کیا ہے۔ بناز کی فلم برطانوی ٹی وی کیلئے 2011ء 2012ء کیلئے نامزد ہونے والی تین فلموں میں سے ایک ہے۔[9]
  • باناز فلم کو مارچ 2013 میں امریکی پی باڈی ایوارڈ سے نوازا گیا۔.[10]
  • باناز اے لو سٹوری کو 2013ء میں حالات حاضرہ کے زمرے میں بہتریں عالمی دستاویزی فلم کے ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ [11]
  • باناز اے لو سٹوری کو 2013ء کے برگن فلم فیسٹیول میں بہتریں نارویجن دستاویزی فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Paul Peachey (2012-09-24). "Still now they follow me": Footage of Banaz Mahmod warning police before her 'honour' killing to be shown for the first time". independent.co.uk. http://www.independent.co.uk/news/uk/crime/still-now-they-follow-me-footage-of-banaz-mahmod-warning-police-before-her-honour-killing-to-be-shown-for-the-first-time-8168099.html. Retrieved 2013-03-11. 
  2. ^ Tamara Hardingham-gill (2012-09-24). "'If anything happens to me, it's them': Chilling previously unseen video of young honour killing victim warning police her life is in danger". dailymail.co.uk. http://www.dailymail.co.uk/femail/article-2207916/Banaz-Mahmod-Chilling-video-young-honour-killing-victim-warning-police-life-danger.html?ito%3Dfeeds-newsxml&ct=ga&cad=CAcQARgAIAAoATAAOABA0O-BgwVIAVgBYgVlbi1VUw&cd=CQhZnnPXWQg&usg=AFQjCNFoePy-ksI_IWlsY59UPJzD4Dk9yg. Retrieved 2013-03-11. 
  3. ^ Tracy McVeigh (2012-09-22). "'They're following me': chilling words of girl who was 'honour killing' victim". guardian.co.uk. http://www.guardian.co.uk/world/2012/sep/22/banaz-mahmod-honour-killing. Retrieved 2013-03-11. 
  4. ^ Orestes Kouzof. "Banaz: A Love Story". raindance.co.uk. http://www.raindance.co.uk/site/index.php?id=593,9050,0,0,1,0. Retrieved 2012-03-11. 
  5. ^ "New Film Tells Brutal Story of Honour Killing in Suburban London". asafeworldforwomen.org. http://www.asafeworldforwomen.org/rights-defenders/rd-europe/3076-banaz-love-story.html. Retrieved 2013-03-11. 
  6. ^ David Perilli (2012-10-02). "Banaz: A Love Story". takeonecff.com. http://www.takeonecff.com/2012/banaz-a-love-story. Retrieved 2013-03-11. 
  7. ^ "Deeyah Speaks Out". asafeworldforwomen.org. http://www.asafeworldforwomen.org/rights-defenders/rd-europe/3076-banaz-love-story.html. Retrieved 2013-03-11. 
  8. ^ "Exposure: Honour killing victim predicts death in video". itv.com. 2012-10-31. http://www.itv.com/news/2012-10-31/video-of-honour-killing-victims-prediction-of-own-fate-to-be-shown/. Retrieved 2012-10-31. 
  9. ^ "RTS ANNOUNCES SHORTLIST FOR TELEVISION JOURNALISM AWARDS 2011/2012". rts.org.uk. http://www.rts.org.uk/rts-announces-shortlist-television-journalism-awards-20112012. Retrieved 2013-03-11. 
  10. ^ ekropp (March 27, 2013). "72nd Annual Peabody Awards: Complete List of Winners". peabodyawards.com. http://peabodyawards.com/2013/03/72nd-annual-peabody-awards-complete-list-of-winners/. Retrieved March 29, 2013. 
  11. ^ THE DEADLINE TEAM (August 14, 2013). "International Emmy Current Affairs, News Nominees Announced". deadline.com. http://www.deadline.com/2013/08/international-emmy-current-affairs-news-nominees-announced/. Retrieved جنوری 11, 2014. 
  12. ^ "NORSKE DOKUMENTARVINNERE". biff.no. October 29, 2013. http://www.biff.no/informasjon/article1133999.ece. Retrieved جنوری 11, 2014.