بائنڈنگ انرجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بندھنی توانائی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کسی ایٹم کے مرکزے (nucleus) کو اپنے اجزا میں توڑنے کے لیئے جتنی توانائ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس مرکزے کی binding energy کہلاتی ہے۔
کسی مادے کے سب سے چھوٹے ذرے کو ایٹم کہتے ہیں جسکے مرکز میں مرکزہ ہوتا ہے جو نیوٹرون اور پروٹون سے بنا ہوتاہے اور اسکے گرد مختلف مدار میں الیکٹران گردش کرتےہیں۔ کسی بھی ایٹم کا 99.9 فیصد سے زیادہ وزن اسکے مرکزے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
جب ایک نیوٹرون اور پروٹون ایک دوسرے سے جڑتے ہیں تو کچھ توانائ خارج ہوتی ہے۔ جب تک اتنی ہی توانائی دوبارہ نہ ملے یہ نیوٹرون اور پروٹون ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ توانائی کی یہ مقدار انکی binding energy ہے۔ مرکزہ اگرچہ نیوٹرون اور پروٹون سے بنا ہوتا ہے لیکن اسکی کمیت ہمیشہ ملنے والے اجزا کی مجموعی کمیت سے کم ہوتی ہے۔ کمیت کی یہ کمی آئن سٹائن کی مساوات E = mc2 کے مطابق توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مادے میں ہونے والی اس کمی کو mass deficit, mass defect یا mass packing fraction بھی کہتے ہیں۔


سورج یا اس سے چھوٹے ستاروں میں چار ہائڈروجن کے ایٹم ملکر ہیلیئم بناتے ہیں۔ اس عمل میں کثیر مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ یہ عمل پروٹون پروٹون چین ری ایکشن کہلاتا ہے۔ سورج میں ہر سیکنڈ 62 کروڑ ٹن ہائیڈروجن ہیلیئم میں تبدیل ہوتی ہے۔

ایک پروٹون کی کمیت 1.6726x10-24 گرام ہوتی ہے یعنی 1.00728 amu


ایک نیوٹرون کی کمیت 1.6749x10-24 گرام ہوتی ہے یعنی1.00866 amu

ایک الیکٹرون کی کمیت ایک پروٹون کا 1/1837 حصہ ہوتی ہے یعنی 0.000549 amu

ایک ھیلیم کے ایٹم کے مرکزے میں دو پروٹون اور دو نیوٹرون ہوتے ہیں جنکی کمیت کل ملا کر 4.03188 amu بننی چاہیئے مگر پیمائش کرنے پر حاصل ہونے والی کمیت اس سے لگ بھگ 0.75 فیصد کم ہوتی ہے یعنی 4.00153 amu۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دو پروٹون اور دو نیوٹرون جب ملکر ھیلیم کا مرکزہ بناتے ہیں تو 0.03035 amu کے برابر مادہ تحلیل ہو کر توانائ بن جاتا ہے۔ یہ توانائی گاما شعاع کی شکل میں خارج ہوتی ہے جسکی توانائی دوکروڑ 83 لاکھ الیکٹران وولٹ ہوتی ہے۔ یہ توانائی کی بہت بڑی مقدار ہے۔ عام کیمیائی بند (chemical bond) توڑنے کے لیئے اس سے کہیں کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً ہائیڈروجن کے ایٹم سے الیکٹران نکالنے کے لیئے صرف 13.6 الیکٹران وولٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔

ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم سے نکلنے والی توانائی دراصل یہی بائینڈنگ انرجی ہوتی ہے۔ اسکے برعکس بارود، ٹی این ٹی، نائیٹروگلسرین یا RDX کے پھٹنے سے نکلنے والی توانائی کیمیائی بند (chemical bond) کے ٹوٹنے اور کمتر توانائی کے نئےکیمیائ بند بننے سے خارج ہوتی ہے۔
سورج اور دوسرے ستاروں کی چمک دمک بھی اسی بائینڈنگ انرجی کا نتیجہ ہے۔ ایٹمی بجلی گھر سے حاصل ہونے والی بجلی بھی اسی بائینڈنگ انرجی سے حاصل ہوتی ہے۔

بائینڈنگ انرجی کا گراف[ترمیم]

بائینڈنگ انرجی کے گراف سے مراد ایسا گراف ہے جس میں سارے عناصر (elements) کی بائینڈنگ انرجی کو اسی عنصر کے مرکزے میں موجود نیوٹرون اور پروٹون کی کل تعداد (یعنی nucleons کی کل تعداد) سے تقسیم کر کے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس گراف سے پتہ چلتا ہے کہ لوہے اور نکل (nickel) کے ایٹم کے مرکزے سب سے زیادہ پائیدار ہوتے ہیں کیونکہ انکے بننے کے دوران 8.8 MeV فی نیکلیون توانائی خارج ہو چکی ہوتی ہے اور اب ان مرکزوں کو توڑنے کے لیئے پھر اتنی ہی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے سارے عناصر کے مرکزے اس سے کم تر توانائی پر توڑے جا سکتے ہیں۔

اس گراف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہلکے عناصر کے مرکزے آپس میں مل کر نسبتاً بھاری عناصر بنا سکتے ہیں اور اس عمل میں توانائی خارج ہوتی ہے مگر یہ سلسلہ لوہے کے مرکزے کے بننے تک ہی جاری رہ سکتا ہے۔ لوہے سے زیادہ بھاری عناصر بنانے میں توانائی خارج نہیں بلکہ جذب ہوتی ہے۔ سورج اور دوسرے ستاروں میں جب درجہ حرارت ایک کروڑ ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے تو پروٹون پروٹون چین ری ایکشن کے تحت ہائیڈروجن سے ہیلیم بنتی ہے اور اس طرح کثیر مقدار میں توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ عمل فیوزن (fusion) کہلاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب ساری ہائیڈروجن ختم ہو جاتی ہے۔ اگر ستارہ بڑا ہو اور ٹمپریچر دس کروڑ ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو triple alpha process کے تحت ہیلیئم فیوزن کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے کاربن بنتا ہے۔ اس گراف سے یہ بھی واضح ہے کہ ہیلیئم سے ہیلیئم کے بعد والا عنصر لیتھیئم نہیں بن سکتا کیونکہ اس عمل میں توانائی جذب ہوتی ہے۔ کاربن کے مرکزوں کو فیوزن کے لیئے ایک ارب ڈگری سنٹی گریڈ کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف بہت بڑے ستاروں میں ہی ممکن ہے۔ اسکے بعد نیون آکسیجن سلیکون اور لوہا بنتا ہے۔ چونکہ لوہے میں مزید فیوزن نہیں ہو سکتا اس لیئے اب بڑے سے بڑا ستارہ بھی اپنے آخری انجام کی طرف چلا جاتا ہے۔

لوہے اور نکل سے بھی زیادہ بھاری عناصر میں فیوزن اور توانائی کا اخراج تو ممکن نہیں مگر fission اور توانائی کا اخراج ممکن ہے۔ ایٹمی بجلی گھر میں یورینیم کی fission سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔

فی نیکلیون (یعنی پروٹون یا نیوٹرون) کے لحاظ سے بائینڈنگ انرجی کا گراف۔ H سے مراد ہائیڈروجن، He سے مراد ہیلیئم، Li سے مراد لیتھیئم، C سے مراد کاربن، O سے مراد آکسیجن، Fe سے مراد لوہا اور U سے مراد یورینیئم ہیں۔
جب بہت بڑا ستارہ اپنے آخری انجام کے نزدیک ہوتا ہے تو اسکی مختلف تہوں میں مختلف عناصر جمع ہو چکے ہوتے ہیں۔














فیوزن کی انرجی آوٹ پٹ اور ٹمپریچر کا گراف۔ پروٹون پروٹون چین ری ایکشن سورج کے درجہ حرارت پر زیادہ موزوں ہے بہ نسبت کاربن نائٹروجن آکسیجن سائیکل اور ٹرپل الفا پروسس کے۔

عناصر کی فراوانی[ترمیم]

کائنات میں کچھ عنصر بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں اور کچھ بہت کم۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ جن عناصر کی بائنڈنگ انرجی کم ہوتی ہے وہ بہت زیادہ پائیدار نہیں ہوتے اور اس لیئے کم پائے جاتے ہیں۔ لیکن زیادہ بائینڈنگ انرجی رکھنے والے عناصر بہت پائیدار ہوتے ہیں اور اسی لیئے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اگر عناصر کی فراوانی کے گراف پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر فراواں کے بعد کم فراواں عنصر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پروٹون جفت تعداد میں زیادہ پائیداری اور زیادہ بائنڈنگ انرجی رکھتے ہیں بہ نسبت طاق تعداد میں۔

کائنات میں عناصر کی فراوانی۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم سب سے زیادہ فراواں ہیں۔ لوہا اپنی غیر معمولی پائیداری کی وجہ سے اتنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایٹم جوں جوں بھاری ہوتے جاتے ہیں انکی فراوانی کم ہوتی جاتی ہے۔












جیسے جیسے ایٹم کا وزن بڑھتا جاتا ہے انکی فراوانی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیتھیئم بریلیئم اور بورون چونکہ کم بائنڈنگ انرجی رکھتے ہیں اس لیئے کم پائے جاتے ہیں۔ ہائیڈروجن زیادہ اس لیئے ملتی ہے کیونکہ بگ بینگ کے بعد یہ ہی عنصر سب سے زیادہ مقدار میں بنا تھا اور اس وقت بھاری عناصر کا کوئی وجود نہ تھا۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]