بنی اسرائیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

یہودیت

Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

تاریخ یہودیت

عقائد
خدا کی وحدانیت · ارض اسرائیل · بنی اسرائیل · صدقہ · صنوعت
عبادات اور عبادت گاہیں
مِقواہ · شول · بیت مِقداش · منیان · شاخاریت · منخا · معاریب · شماع
تہوار
شابات · روش ھاشاناہ · عشرۃ التوبہ · یوم کِپور · سکوت · سِمخات توراہ · ہنوکا · عیدپوریم · عید فسح · شاوُوت
اہم شخصیات
ابراہیم · سارہ · اسحاق · یعقوب عرف اسرائیل · بارہ قبائل · موسیٰ · سلیمان · داؤد
کتب و قوانین
تورات · زبور
مشنی ·
تلمود · ہالاخا · کاشرُوت

حضرت ابراہیم کے پوتے اور حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب کا عبرانی لقب اسرائیل تھا۔ لہذاان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے اس لیے ابتدا سے بنی ااسرئیل بارہ قبیلوں میں بیٹے ہوئے ہیں۔

MiddleEast.A2003031.0820.250m.jpg
BritishMandatePalestine1920.png
Flag of Palestine - long triangle.svg
Dome in Jerusalem The Capital City Of Palestine
1 Palestine Pound 1939 Obverse.jpg
عملة فلسطينية معدنية.jpg
British Mandate Palestinian passport.jpg

ابتدا، عروج اور زوال[ترمیم]

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آبائی وطن ایراق تھا۔ ۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام عراق سے ہجرت کر کے فلسطین میں آباد ہوگئے۔ سفر ہجرت کے دوران آپ علیہ اسلام نے حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ سے شادیاں کیں۔ آپ کے چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق حضرت سارہ کے بطن سے تھے جبکہ بڑے بیٹے حضرت اسمائیل جو آپ صلی و علیہ وسلم کے جد امجد بھی ہیں حضرت ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ حضرت ابراہیم عیلہ اسلام نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے چھوٹے اسمائیل اور انکی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ میں لاکر آباد کردیا جبکہ خود حضرت سارہ اور بڑے بیٹے اسحاق کے ساتھ فلسطین میں ہی مقیم رہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادےاسحاق علیہ السلام کے بیٹے کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام تھا۔ اپنے ولد دادا اور چچا کی طرح آپ بھی اللہ کے برگزیدہ نبی ہوئے۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے اگیارہ بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹے حضرت یوسف مصر میں ایک بہت بڑے سرکاری عہدے پر متمکن ہوئے تو بیشمار بنی اسرائیل مصر میں جا کر آباد ہوگئے۔ اس دوران بھی اس قوم کی حدایت کے لئے کئی پیغیمبر آئے جن میں حضرت ایوب علیہ اسلام کافی مشہور ہیں۔ بنی اسرئیل ایک طویل مدت کی آسائش اور حکمرانی کے بعد قبطیوں کی غلامی میں جکڑے گئے تو ان کی رہنمائی اور آزادی کے لیے حضرت موسی تشریف لائے۔

حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو قبطیوں کی غلامی سے آزاد کراکر بحر احمر کے پار واپس فلسطین میں لے آئے۔ یہاں آپ کے بعد آپ کے بھائ حضرت ہاروں علیہ السلام پیغمبر اور بادشاہ ہوئے۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بنی اسرائیل نے فلسطین پر حکومت کیں۔ اس دوران ان پر اللہ کی طرح طرح کی نعتمیں نازل جیسے ہوئہں من و سلوى وغیره تاہم اس قوم نے انکی قدر نہ کی۔ ان میں سیکڑوں نبی بیجے گئے، کئی کا انکار کیا گیا، کئی کی نبوت کو قبول تو قبول کی گئی مگر ان کی نافرمانی میں کثر اٹھا نہ رکھی گئی۔

اس کے بعد بھی اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل دو باپ بیٹوں حضرت دائود اور حضرت سليمان سے عزت بخشی۔ حضرت سلیمان نویں صدی ق م میں فلسطین کے مشہور فرمانروا اور پیغمبر تھے۔ ان کی وفات کے بعددس اسرائیلی قبائل نے ان کے جانشین کی مخالفت کی اور اسرائیل کے نام سے شمالی فسلطین میں اپنی بادشاہت قائم کر لی۔

537 قبل مسیح میں بابل اور نینوا کے حکمران فلسطین ہر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑے پیمانے پر قتل کیا اور ہزاروں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

قرآن کریم میں کئی جگہ اسرائیل کا ذکر آتا ہے۔ ایک سورت کا نام ہی سورۃ بنی اسرائیل ہے۔ یہ قوم اگرچہ بڑی دولت مند تھی مگر دنیا کے مختلف ممالک میں منتشر تھی۔ 1917ء میں برطانیہ نے ان سے وعدہ کیا کہ فلسطین میں ان کی آزاد حکومت قائم کر دی جائے گی۔لیکن اسرائیلیوں نے ایفائے عہد سے پہلے ہی علاقے میں بسنے والے فلسطینیوں پر بے اندازہ مظالم توڑ کر انھیں اپنے اپنے علاقوں سے کھدیڑ ڈالا اور اپنے طور پر آزادی کا اعلان کردیا جسے غیر منصفانہ طور پر اول روز ہی سے اسرائیل کی پشتیبانی کرنے والی طاقتوں امریکہ ،برطانیہ روس وغیرہ نے تسلیم کرلیا۔اور آج تک تقسیم فلسطین کی قرادادیں دنیا بھر کا منہ چڑا رہی ہیںاورغاصب اسرائیلی حکومت قائم ہے۔

تحر یر کا مزید کام ابھی جاری ہےـ

بنی اسرائیل کے مشہور انبیاء[ترمیم]

حضرت ابراہیم

حضرت اسحاق

حضرت یعقوب

حضرت یوسف

حضرت موسی

حضرت ہارون

حضرت داود

حضرت سليمان

حضرت دانیال

حضرت عیسی ابن مریم

بنی اسرائیل کے مشہور صحائف[ترمیم]