بھارتیہ جنتا پارٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بھارتیہ جنتا پارٹی کا پرچم
مختار عباس نقوی، بی جے پی کے نائب صدر

بھارتیہ جنتا پارٹی (ہندی: भारतीय जनता पार्टी) المعروف "بی جے پی" بھارت کی ایک سیاسی جماعت ہے جو 1980ء میں قائم کی گئی۔ یہ اِس وقت (2009ء میں) بھارت کی حزب اختلاف قومی جمہوری اتحاد (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) کی سب سے اہم جماعت ہے۔ یہ جماعت کٹّر ہندو قوم پرستی (ہندوتوا) کی علمبردار ہے اور قدامت پسند سماجی حکمت عملیوں، خود انحصاری، قوم پرستانہ طرز عمل سے خارجہ حکمت عملی چلانے اور مستحکم قومی دفاع پر یقین رکھتی ہے۔

بی جے پی 1998ء سے 2004ء تک، دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے، اقتدار میں رہی اور اس عرصے میں اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم اور لعل کرشن ایڈوانی ان کے نائب رہے۔ اپنے قدامت پسندانہ نظریات کے باوجود بی جے پی پاکستان کے ساتھ قیام امن کی متعدد کوششیں کر چکی ہے جن میں 1999ء کا اعلان لاہور، 2001ء میں پرویز مشرف کا ناکام دورۂ بھارت اور 2004ء میں جنوبی ایشیائی آزاد تجارت کا معاہدہ اہم ہیں۔ تاہم بابری مسجد کے حوالے سے بی جے پی کے نظریات کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ اس مسجد کے انہدام میں اس جماعت کے رہنما مبیّنہ طور پر ملوّث ہے - اس کے علاوہ یہ اس مسجد کی شہادت کے بعد اس مقام پر رام مندر کی تعمیر کے حق میں رائے رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ گجرات فسادات 2002ء میں بی جے پی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور چشم پوشی کے باعث سینکڑوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔

جماعت کے موجودہ صدر راجناتھ سنگھ ہیں جو 2006ء سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اس کے بانی صدر تھے جبکہ سابق نائب وزیر اعظم لعل کرشن ایڈوانی تین مرتبہ جماعت کی صدارت کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کی سیاسی بازو جن سنگھ کی موجودہ شکل ہے۔ 1977ء میں جن سنگھ کی حمایت سے جنتا پارٹی زیرِ اقتدار آئی۔ 1980ء میں اٹل بہاری واجپائی ، لال کرشن اڈوانی اور بھیرون سنگھ شیکھاوت نے مل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو تشکیل دی۔ اس کا پہلا صدر اٹل بہاری واجپائی رہے۔

آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے ساتھ بی جے پی نے بھی رام جنم بھومی تنازعہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، اور بابری مسجد منہدم کر کے مندر کی تعمیر کی مانگ کی۔ 6 دسمبر 1996ء میں بی جے پی -آر ایس ایس - وشوا ہندو کے کارکنوں نے بابری مسجد کو منہدم کیا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف حصّوں میں فرقہ وارانہ فسادات واقع ہوئے اور ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

1996ء میں انتخابات کے بعد بی جے پی کو 161 نشستیں ملیں ، اور گٹھ جوڑ کے توسّط سے 13 دن تک واجپائی نے وزیرِ اعظم کے عہدہ سنبھالا۔ لیکن اکثریت ثابت نہ کر سکا تو استعفیٰ دینا پڑا۔ 1998ء کے انتخابات میں بی جے بی کا محاذ 182 نشستیں حاصل کر کے واجپائی دوبارہ عہدۂ وزیرِ اعظم پر فائز رہے۔ لیکن جیا للیتا کی قیادت والی جماعت نے انحراف کی تو حکومت گر گئی۔

بیرونی روابط[ترمیم]

بھارتیہ جنتا پارٹی کی باضابطہ ویب سائٹ