بہائی مت

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

امر بہائی کی تعریف ، بہائیوں کے موقع روۓ خط کے مطابق یوں بیان کی گئی ہے کہ ؛ یہ آزاد حیثیت رکھنے والے مذاہب میں سے دنیا کا سب سے نومولود مذہب ہے جس کے بانی ، مرزا حسین علی نوری (1817ء تا 1892ء) کو اس کے ماننے والے، ابراھیمی و غیرابراھیمی مذاہب کے پیامبروں میں سب سے حالیہ (نیا ترین) پیامبر قرار دیتے ہیں[1]۔ بعد میں مرزا حسن علی کے بڑے فرزند عبد البھاء نے بہائیت کو مشتہر کرنے اور وسعت دینے میں اھم کردار ادا کیا[2]۔ بہائیت کو ایک الگ مذہب سمجھا جاتا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود پیدائش و آغازِ بہائیت پر اسلام کی ؛ جغرافیائی حدود ، معاشرتی نفسیات اور اس کے فکری محرکات جیسے عوامل کے اثر کی وجہ سے پیدا ہونے والی نسبت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا[3]۔ بہائیت اور اسلام کی اس تاریخی و معاشرتی نسبت سے بعض اوقات ایک ابہام کی کیفیت بھی دیکھنے میں آتی ہے جو ان افراد میں زیادہ پیدا ہوتا ہے کہ جو بہائیت کے تاریخی پس منظر سے ناواقف ہوں، یہ ابہام بہائی مت کی دستاویزات کے مطالعے کے دوران سامنے آنے والے قرآنی آیات و احادیث کے حوالوں کی موجودگی میں اس وقت واضح ہو جاتا ہے کہ جہاں ان کی تفسیر بہائیت کے نظریات کے مطابق پیش کی گئی ہو، جیسے رسول اور نبی میں فرق کا نظریہ[4]۔ بہائی مت کے ماننے والوں کی موجودہ تعداد بعض زرائع کے مطابق پچاس لاکھ[2] اور خود ایک بہائی موقع کے مطابق ساٹھ لاکھ سامنے آتی ہے[5]۔

فہرست

[ترمیم] تاریخ

ویکیمیڈیا العام
(Wikimedia Commons) پر شیخ احمد احسائی کی مبینہ تصویر (اصل ماخذ ، نامعلوم)۔

شیخ احمد احسائی (1775ء تا 1826ء) نے انیسویں صدی میں اہل تشیع کے درمیان ایک تحریک (مکتبۂ خیال) کی بنیاد رکھی جس کو شیخیہ کہا گیا ، بعد میں اس تحریک کی راہنمائی شیخ احمد احسائی کے ایک طالب علم ، سید کاظم رشتی (1793ء تا 1843ء) کو دی گئی؛ ان دونوں ابتدائی اشخاص کا تعلق اثنا عشریہ اہل تشیع سے تھا جبکہ پانچ پشتوں قبل شیخ احمد احسائی کے اجداد سنی تفرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ احمد احسائی کا رجحان ، تصوف میں پاۓ جانے والے تصورات؛ مشاہدۂ نفس، گوشہ نشینی اور رہبانیت کی جانب مائل تھا اور انہیں ذاتی طور پر بصارت کے تجربات بھی درپیش آچکے تھے[6]، مثلاً وہ دیکھنا یا سننا کہ جو دوسرے نا دیکھ اور سن سکیں اور یا عالم غیب کے خواب وغیرہ۔ انہوں نے متعدد ایسے بیانات دیۓ جن پر دیگر مسلم علماء نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا؛ جیسے انہوں نے امامیان (فارسی براۓ ائمہ) کے بارے میں کہا کہ وہ تخلیق کی طاقت رکھتے ہیں[7][8]۔ گو احمد احسائی نے کبھی کسی نۓ مذہب یا فرقے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن ان کے بیان کردہ مافوق الفطرت واقعات اور خوابوں کی مدد سے ان کے شاگرد سید کاظم رشتی نے شیخ احمد احسائی کو براہ راست امام حسین سمیت دیگر امامیان سے علم حاصل کرنے کیوجہ سے دیگر علماء سے اشرف اور جدا حیثیت میں پیش کرنا شروع کردیا۔ MacEoin کے مطابق سید کاظم رشتی نے احمد احسائی کو اسلام کی بارہ سو سالہ --- ظاہری تعلیمات --- کے بعد ، اندرونی سچ ( مشاہدۂ نفس) یا --- باطنی تعلیمات --- کو رائج کرنے والا قرار دیا۔ کاظم رشتی کی جانب سے اسلام کے عمومی اجتماع سے الگ انتہاء پسندانہ رجحانات ان کی موت کے بعد دو تفرقوں کی بنیاد بنے؛ ایک کی راہنمائی حاج محمد کریم خان کرمانی (1810ء تا 1817ء) کو ملی جبکہ دوسرا سید علی محمد شیرازی (1819ء تا 1850ء) کے گرد مرتکز ہوا۔ اول الذکر نے شیخ احمد احسائی کی شدت پسند تعلیمات سے دور رہتے ہوۓ مجموعی طور پر اہل تشیع سے تعلق استوار کرنے کی کوشش کی اور بعد الذکر نے ایسے خیالات پر عمل جاری رکھا کہ جن کو علماء کی اجتماعیت قبول نہیں کرتی تھی ، سید علی محمد شیرازی نے اپنے لیۓ باب کا لقب اختیار کیا۔ اس بات کی شہادتیں ملتی ہیں کہ سید محمد شیرازی کے اپنے لیۓ باب کا لقب اختیار کرنے سے بہت قبل ، شیخیہ میں ایسے افراد بھی تھے کہ جو شیخ احمد احسائی اور سید کاظم رشتی کے لیۓ بابان (فارسی براۓ ابواب) کا تصور رکھتے تھے؛ شیخ احمد احسائی کی تعلیمات سے متاثرہ اس دوسرے فرقے سے ہی ، جس کی قیادت سید علی محمد شیرازی (باب) کے ہاتھ میں تھی ، بابیت (babism) کی بنیادیں تیار ہوئیں[9]۔



[ترمیم] پرانا نسخہ (عارضی)

  • یہ پرانا نسخہ مضمون کی تجدید نو مکمل ہونے تک عارضی طور پر برقرار رکھا جارہا ہے۔

اُنّیس وِیں صدی میں بہاءاللہ نے ایران میں اپنے موعودِ کُل ادیان ہونے کا دعویٰ کیا ، یعنی کہ وہ جس کا وعدہ تمام ادیان میں کیا گیا ہے۔ بہاءاللہ کا تعلق ایران کے مشہور شہر تہران سے تھا۔ اِس سلسلے كو امربہائی كے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس وقت امرِبہائی کے ماننے والے دُنیا کے تقریباً ہر مُلک میں بہائیوں کی نشونما اور مدد کرنے میں مشغول ہیں [10]۔ امر بہائی کی مقدس ترین کتاب، کتابِ اقدس ہےجو عربی زبان میں ہے اور اس کے علاوہ فارسی زبان میں بھی کلام موجود ہے ۔یہ تمام کلام سو(100) جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں سے کچھ انٹرنیٹ پر موجود ہے [11]۔ تمام سابقہ الہامی كتابوں اور روایات میں ایک ایسے وقت کا وعدہ کیا گیا ہے جب پوری دنیا پر امن و سلامتی قائم ہو جائے گی۔ بہائیوں کے دعویٰ کے مطابق ، حضرت بہاءاللہ اِن وعدوں[12] کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالٰی کی طرف سے تعلیمات اور ہدایات لے کر آئے ہیں۔ بہائیوں کے دعووں اور نظریات کے مطابق ، امربہائی دیگر الہامی ادیان (جیسے کہ اسلام، عیسائیت، ہندو مت اور یہودیت) كی جدید كڑی ہے۔


[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ بہائی مت کے موقع روۓ خط پر بہائی مت کی تعریف۔
  2. ^ 2.0 2.1 ایک روۓ خط انگریزی دائرۃ المعارف پر بہائیت کے تحت اندراج۔
  3. ^ ایک روۓ خط ، دائرۃ المعارف پر بہائیت کی پیدائش و اسلام سے نسبت کا پس منظر۔
  4. ^ ایک بہائی موقع روۓ خط پر محمد (ص) کے آخری نبی سے انکار اور رسول و نبی کا نظریہ۔
  5. ^ ایک موقع حبالہ پر بہائی شماریات۔
  6. ^ ایرانیکا نامی ایک دائرۃ المعارف پر شیخ احمد احسائی کے سنی تفرقے سے تعلق کا بیان۔
  7. ^ احمد احسائی کا امیامیان میں تخلیق کی طاقت کے بارے میں بیان۔
  8. ^ The Mysticism of Shaykh Ahmad al-Ahsai in The Twelver Shia in Modern Times: Publisher Brill
  9. ^ حوالہ 6 ایرانیکا پر babism پر مقالہ۔
  10. ^ http://www.bahai.org/attaining/gallery.html?lang=english
  11. ^ http://reference.bahai.org/en
  12. ^ http://www.bci.org/prophecy-fulfilled

[ترمیم] بیرونی حوالہ

بہائی عالمی بہائی جامع کی ویب سائٹ

بہائیانِ پاکستان پاکستانی بہائی جامع کی ویب سائٹ

مذاہب و عقائد
Religions.jpg
اسلام | عیسائیت | بدھ مت | بہائی | تائو مت | جین مت | زرتشت | شنتومت | سکھ مت | کنفیوشس مت| ہندومت| یہودیت