بہاماس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Commonwealth of The Bahamas
دولتِ مشترکہ بہاماس
بہاماس کا پرچم بہاماس کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Forward, Upward, Onward Together
(اکٹھے اوپر اور آگے جائیں اور ترقی کریں)
ترانہ: March On, Bahamaland
بہاماس کا محل وقوع
دارالحکومت نساؤ
عظیم ترین شہر نساؤ
دفتری زبان(یں) انگریزی
نظامِ حکومت
ملکہ
وزیرِ اعظم
آئینی ملوکیت
ایلیزابیتھ دوم
ہیوبرٹ انگراہام
آزادی
- خود مختاری
مکمل آزادی
برطانیہ سے
1964ء
10 جولائی 1973ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
13878  مربع کلومیٹر (159)
5358 مربع میل
28
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 1990 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
331,000 (172)
254685
23 فی مربع کلومیٹر(191)
60 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

6.925 ارب بین الاقوامی ڈالر (147 واں)
22700 بین الاقوامی ڈالر (40 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.845
(49) – بلند
سکہ رائج الوقت بہاماسی ڈالر (BSD)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ -5)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ -4)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.bs
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+1242

بہاماس (Bahamas) جسے سرکاری طور پر کامن ویلتھ آف دی بہاماس بھی کہا جاتا ہے، 27 بڑے جزائر، 661 چھوٹے جزائر اور 2٫387 سمندری چٹانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ملک کیوبا کے شمال میں بحرِ الکاہل کے کنارے واقع ہے۔ اس کے شمال مغرب میں امریکہ واقع ہے۔ کل زمینی رقبہ 13٫939 مربع کلومیٹر ہے اور کل آبادی کا تخمینہ 3٫30٫000 ہے۔ دارلحکومت نساؤ ہے۔

بہاماس 1492 میں کولمبس کی پہلی منزل تھی۔ 1513 سے 1648 تک غیر آباد رہا اور اس کے بعد برمودا میں موجود برطانویوں نے یہاں آباد ہونا شروع کر دیا۔

1718 میں اسے برطانوی کالونی کا درجہ دے دیا گیا۔ امریکہ کی جنگِ آزادی کے بعد ہزاروں کی تعداد میں تاجِ برطانیہ کے وفاداروں اور سیاہ فام غلاموں نے بہاماس کا رخ کیا اور آباد ہونے لگے۔ برطانوی سلطنت میں 1807 میں غلاموں کی تجارت کو ختم کر دیا گیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی غلاموں سے بھرے برطانوی شاہی بحریہ کے جہازوں سے غلاموں کو آزاد کر دیا گیا۔ ان میں سے کچھ بہاماس میں بس گئے۔ 1834 میں غلامی کو یکسر ختم کر دیا گیا اور انہی آزاد کردہ غلاموں کی اگلی نسلیں بہاماس میں آباد ہیں۔

فی کس آمدنی کے اعتبار سے شمالی امریکہ میں بہاماس تیسرے نمبر پر امریکہ اور کینیڈا کے بعد آتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے جنوب میں واقع امیر ترین ملک ہے۔ اس کے علاوہ سیاہ فام آبادی کی بھاری اکثریت والے ممالک میں سب سے زیادہ امیر ملک بہاماس ہی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ٹینو نسل کے افراد ہسپانولیا اور کیوبا سے بہاماس کے غیر آباد جزیرے پر 11ویں صدی عیسوی میں آئے۔ یہ لوگ لوکین کہلاتے تھے۔ انداز ہے کہ کرسٹوفر کولمبس کی 1492 میں یہاں آمد کے وقت لوکین لوگوں کی تعداد 30٫000 سے زیادہ تھی۔ کرسٹوفر کولمبس کے قدم جہاں پہلی بار پڑے، وہ جزیرہ سان سلواڈور کے نام سے مشہور ہے۔

تاہم لوکین افراد یورپی اقوام کی لائی ہوئی بیماریوں سے اپنا بچاؤ نہ کر سکے اور ساری قوم ہی معدوم ہو گئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 17ویں صدی سے قبل یورپی یہاں آباد ہونے سے کتراتے رہے تھے۔ 1670 میں بادشاہ چارلس دوئم نے ان جزائر کو اپنی ملکیت میں لے لیا جس کے بعد سے یہاں تجارت، ٹیکس اور گورنر کے تعین وغیرہ جیسے اختیارات بادشاہ نے کرائے پر دینے شروع کر دیئے۔

18ویں صدی[ترمیم]

اس ملکیتی دور میں بہاماس بحری قذاقوں کی جنت بن گیا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے 1718 میں برطانوی حکومت نے مسلح دستے بھیجے جنہوں نے کافی کوشش کے بعد ان قذاقوں کو ختم کر دیا۔

امریکہ کی جنگِ آزادی کے دوران یہ جزائر امریکی بحری فوج کا نشانہ تھے۔

1782 میں یارک ٹاؤن میں برطانویوں کی شکست کے بعد ہسپانوی بیڑہ ساحل پر پہنچا اور شہر پر بغیر کسی لڑائی کے قابض ہو گیا۔

امریکہ کی آزادی کے بعد 7٫300 برطانوی وفادار اپنے غلاموں کے ہمراہ نیو یارک، فلوریڈا اور دی کیرولینا سے فرار ہو کر بہاماس پہنچے۔ انہی افراد نے کئی جزیروں پر کاشتکاری شروع کر دی اور جلد ہی سیاسی قوت بن کر ابھرے۔ اس وقت یہاں کی زیادہ تر آبادی سیاہ فام افریقیوں پر مشتمل تھی۔

برطانویوں نے 1807 میں غلاموں کی تجارت کو ختم کر دیا جس کی وجہ سے ان جزائر پر ہزاروں کی تعداد میں آزاد غلاموں نے رہائش اختیار کر لی۔ برطانوی سلطنت سے آخر کار یکم اگست 1834 کو غلامی بالکل ختم کر دی گئی۔

20ویں صدی[ترمیم]

دوسری جنگِ عظیم کے بعد جدید سیاسی ترقی ہونا شروع ہوئی۔ 1950 کی دہائی میں اولین سیاسی جماعتیں بننا شروع ہوئیں اور 1964 میں برطانیہ نے بہاماس کو اندرونی خود مختاری دے دی۔

1967 میں سر لنڈن پیڈلنگ یہاں کے پہلے پریمئر بنے۔ 1968 میں ان کا عہدہ وزیر اعظم کا بن گیا۔ 1973 میں بہاماس مکمل طور پر آزاد ہو گیا تاہم دولتِ مشترکہ کی رکنیت کو برقرار رکھا۔

بہاماس کی معیشت کے دو اہم ستون ہیں جو سیاحت اور سمندر پار معاشی سہولیات ہیں۔ تاہم تعلیم، صحتِ عامہ، ہاؤسنگ، بین الاقوامی پیمانے پر منشیات کی منتقلی اور ہیٹی سے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن جیسے اہم مسائل ہیں۔

جغرافیہ اور موسم[ترمیم]

بہاماس خطوط ارض بلد 20 اور 28 شمالاً جبکہ طول بلد 72 اور 80 غرباً کے درمیان واقع ہے۔

ریاست ہائے متحدہ کے نزدیک ترین جزیرے کا نام بمینی ہے جسے بہاماس کا گیٹ وے بھی کہاتا جاتا ہے۔ جنوب مشرقی جزیرہ اناگوا کہلاتا ہے۔ سب سے بڑا جزیرہ انڈروس ہے۔ دارلحکومت نساؤ نیو پرووائیڈنس نامی جزیرے پر آباد ہے۔

تمام جزیرے مسطح اور نیچے ہیں اور زیادہ تر 15 سے 20 میٹر تک سطح سمندر سے بلند ہیں۔ ملک میں بلند ترین مقام کومو نامی پہاڑی ہے جو سطح سمندر سے 63 میٹر بلند ہے۔

موسم[ترمیم]

بہاماس کا موسم نیم استوائی سے استوائی نوعیت کا ہے اور خلیجی بحری رو کی وجہ سے معتدل رہتا ہے۔ تاہم گرمیوں اور خزاں میں یہاں سے ہری کین یعنی سمندری طوفان گذرتے ہیں۔

بہاماس میں درجہ حرارت کبھی بھی صفر درجے تک نہیں پہنچا لیکن دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت چلا جاتا ہے۔ فری پورٹ کے مقام پر جنوری 1977 میں بارش کے دوران معمولی مقدار میں برف بھی گرتی دیکھی گئی تھی۔ اس وقت میامی کے علاقے میں عام برفباری ہو رہی تھی۔ اس وقت یہاں کا درجہ حرارت 4.5 ڈگری تھا۔

حکومت اور سیاست[ترمیم]

بہاماس خود مختار اور آزاد ملک ہے۔ تاہم سیاسی اور قانونی نظام زیادہ تر برطانوی نظام سے نکلا ہے۔ بہاماس میں پارلیمانی جمہوریت ہے جہاں دو اہم سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان کے نام فری نیشنل موومنٹ اور پروگریسو لبرل پارٹی ہیں۔

کل ملازمتوں کا نصف حصہ سیاحت کی صنعت سے وابستہ ہے تاہم حالیہ معاشی بحران کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ اسی تناسب سے بینکاری اور بین الاقوامی معاشی سرگرمیاں بھی کم ہو گئی ہیں۔

بہاماس اقوامِ دولتِ مشترکہ اور دولتِ مشترکہ کا رکن ہے۔ ملکہ الزبتھ دوئم کو ریاستی سربراہ کا درجہ ملا ہوا ہے جن کی نمائندگی گورنر جنرل کرتا ہے۔

قانون سازی کا اختیاری دو ایوانوں والی پارلیمان کے پاس ہے۔ اس میں 41 اراکین پر مشتمل ہاؤس آف اسمبلی یعنی ایوانِ زیریں اور 16 رکنی سینیٹ یعنی ایوانِ بالا شامل ہیں۔ ایوانِ زیریں کے اراکین بذریعہ انتخاب چنے جاتے ہیں جبکہ ایوانِ بالا کے اراکین کو گورنر جنرل مقرر کرتا ہے۔ تاہم ان 16 اراکین میں سے 9 کا تقرر گورنر جنرل وزیرِ اعظم کے مشورے، 4 کا انتخاب حزبِِ اختلاف کے سربراہ کے مشورے سے جبکہ بقیہ تین اراکین کو گورنر جنرل وزیرِ اعظم اور حزبِ اختلاف کے سربراہ کے مشورے سے کرتا ہے۔ ہاؤس آف اسمبلی تمام تر قانون سازی کرتا ہے۔

وزیر اعظم کو حکومتی سربراہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور ہاؤس آف اسمبلی میں اکثریتی جماعت کا لیڈر ہوتا ہے۔ زیادہ تر اختیارات کابینہ کو حاصل ہوتے ہیں جسے وزیرِ اعظم اپنی جماعت سے چنتا ہے۔

آئین میں بول چال، پریس، عبادت، نقل و حرکت وغیرہ کی آزادی یقینی بنائی گئی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے کریبئن کا حصہ نہ ہونے کے باوجود بہاماس کریبئن کمیونٹی کا حصہ ہے۔ یہاں عدلیہ آزاد ہے۔ زیادہ تر قوانین برطانوی قوانین سے اخذ کیے گئے ہیں۔

معیشت[ترمیم]

کریبئن کے امیر ترین ممالک میں سے ایک بہاماس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحت پر ہے جو کل ملکی معیشت کے 60 فیصد کے برابر ہے۔ نصف سے زیادہ ملازمتیں بھی سیاحت سے وابستہ ہیں۔ سیاحت کے بعد دوسری اہم صنعت معاشی خدمات ہیں جو کل معیشت کے 15 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔

ملکی معیشت کا انحصار ٹیکس پر ہے۔ حکومتی آمدنی کا بڑا حصہ درآمدی محصول، لائسنس فیس، جائیداد اور سرکاری ٹکٹوں سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم بہاماس میں کسی قسم کا انکم ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس، کیپیٹل گین ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس یا دولت ٹیکس نہیں۔ کل ملکی آمدنی کا تقریباً 22 فیصد حصہ ٹیکسوں سے آتا ہے۔ افراطِ زر کی شرح محض 3.7 فیصد ہے۔

فی کس آمدنی کے اعتبار سے بہاماس امریکہ کے براعظم میں تیسرے نمبر پر ہے۔

نسلی گروہ[ترمیم]

افریقی بہاماس[ترمیم]

افریقی بہاماس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے آباؤ اجداد کا تعلق براعظم افریقہ سے تھا۔ بہاماس میں آنے والے اولین افریقی دراصل آزاد کردہ غلام تھے جو نئی زندگی کی تلاش میں بہاماس آن آباد ہوئے۔ اس وقت بہاماس میں افریقی النسل افراد آبادی کے 85 فیصد کے برابر ہیں۔

یورپی[ترمیم]

یورپی بہاماس افراد کی کل تعداد تقریباً 38،000 ہے۔ یہ افراد امریکی اور برطانوی النسل ہیں۔ یہ افراد کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

بہاماس کی کل آبادی 3،54،563 افراد پر مشتمل ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین بہاماس[ترمیم]