بیگم اختر ریاض الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بیگم اختر ریاض الدین کا اصل شعبہ درس و تدریس تھا، اس کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنا جاری رکھا۔ آپ ایک سی ایس پی افسر ریاض الدین کی بیوی تھی۔ جو مولانا صلاح الدین کے رشتہ میں بھتیجے ہیں۔ بیگم اختر ریاض الدین نے انگریزی میں ایم اے کیا اور پھر تعلیم و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ کچھ مدت پڑھاتی رہیں۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ انگریزی اور اردو مضامین لکھنے کا شوق بھی انہوں نے برابر جاری رکھا ان کے انگریزی مضامین پاکستان ٹائمز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ سفرنامے ملک کے بلند پایہ جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔

ان کے خاوند کوسرکاری فرائض کے سلسلے میں مختلف ممالک کے سفر پرجانا پڑا۔ اختر نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ ان علاقوں کی سیر کی اور ادبی شوق کی وجہ سے ان ممالک کے سفرنامے بھی تخلیق کیے اور ان میں یورپ،ایشیاء اور امریکہ کے ممالک کے متعلق اپنے دو سفرنامے سات سمندر پار اور دھنک پر قدم لکھے، جو بہت مشہور ہوئے۔ ان کو پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھر بیٹھے ان ممالک کی سیر کررہے ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

بیگم اختر ریاض الدین نے ممالک کی سیر کرنے کی وجہ سے صرف دو ہی تصانیف لکھی ہیں، جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

طرز تحریر کی خصوصیات[ترمیم]

بیگم اختر ریاض الدین کی تحریر کی ایک خصوصیت ان کی منظر نگاری ہے۔ انھوں نے ترقی پزیر ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کی حالات کی جو منظر کشی کی، اس میں ذرہ بھر بھی شک کی گنجائش نہیں۔

ایوارڈ[ترمیم]

بیگم اختر ریاض الدین کی محنت،کاوشوں اور قابیلیت کی بنا پر انھیں ان کی ایک تصنیف دھنک پر قدم پر انہیں آدم جی ایورڈ بھی مل چکا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

سات سمندر پار