بیگم حضرت محل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بیگم حضرت محل
بیگم نواب اودھ
بیگم حضرت محل
بیگم حضرت محل
شریک حیات واجد علی شاہ
پیدائش اندازْ 1820
فیض آباد, اودھ, بھارت
وفات اپریل 1879
کھٹمنڈو, نیپال
مذہب اہل تشیع

بیگم حضرت محل کا نام زبان پرا ٓتے ہی جنگ آزادی کا تصور ذہن میں ابھر آتا ہے ۔ حضرت محل کا نام ہندوستان کی جنگ آزادی میں پہلی سرگرم عمل خاتون رہنما کے نام سے مشہور ہے ۔ 1857-1858 کی جنگ آزادی میں صوبہ اودھ سے حضرت محل کی نہ قابل فراموش جدو جہد تاریخ کے صفحات میں سنہرے الفاظ میں درج ہے حضرت محل نے صنف نازک ہوتے ہوئے بھی بر طانوی سامراج و ایسٹ انڈیا کمپنی سے لوہا لیا ۔ برطانوی حکومت کی” تقسیم کرو اور حکومت کرو“کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے ہندوﺅں اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کر کے تحریک جنگ آزادی ہند 1857ء کو ایک نیا ر خ دیا ۔ بیگم حضرت محل پہلی ایسی قائد تھیں، جنہوں نے برطانوی حکومت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور 20برس جلا وطنی اور اپنی موت 1879 تک لگاتار برطانوی حکومت کی مخالفت کی ۔ حالانکہ حضرت محل کے متعلق مورخین کو بھی زیادہ پختہ جانکاری نہیں ہے شاید وہ فیض آباد کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں کچھ انگریزی مصنفین کے مطابق ان کا نام افتخار النساء تھا ۔ نام سے لگتا ہے کہ ان کے آباو اجداد ایران سے یہاں آکر اودھ میں بس گئے تھے ۔ ان کی تعلیم ایک رقاصہ کی شکل میں ہوئی جس کا مقصد واجد علی شاہ کو متاثر کرنا تھا ۔ نواب صاحب نے ان کو اپنے حرم میں جگہ دی ۔ پی-جے-او-ٹیلر کے مطابق جب افتخار النساء کے یہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی تو ان کا رتبہ بڑھا اور انہیں نواب صاحب نے اپنی ازواج میں شامل کرکے حضرت محل کا لقب دیا اور انہیں شاہی خاندان میں ملکہ کا درجہ دیا ۔ اپنے بیٹے برجیس قدر کی پیدائش کے بعد حضرت محل کی شخصیت میں بہت بدلاﺅ آیا اور ان کی تنظیمیں صلاحیتوں کو جلا ملی ۔ 1856میں برطانوی حکومت نے نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کر کے کلکتہ بھیج دیا ۔ تب حضرت محل نے اودھ کی باگ ڈور سنبھال لی اور بیگم حضرت محل ایک نئے وجود میں سب کے سامنے آتی ہیں۔ ان کا یہ رخ اپنے وطن کے لئے تھا ۔ جس کا مقصد تھا اپنے ملک سے انگریزوں کو باہر پھینکنا یہ مشعل لو ، سبھی کے دل میں جل رہی تھی ۔ لیکن اسے بھڑکانے اور جنون میں بدلنے میں بیگم حضرت محل نے ایک خاص کردارادا کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عورت صرف گھر کی چہار دیواری کا نظام ہی خوبی سے نہیں سنبھالتی بلکہ وقت پڑنے پر وہ اپنے جوہر دکھا کر دشمنوں کو کھدیڑنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے ۔ ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی کے دوران انہوں نے اپنے حامیوں جن کے دلوں میں اپنے ملک سے انگریزوں کے ناپاک قدموں کو دور کرنے کا جذبہ تھا ۔ انگریزی حکومت کے خلاف منظم کیا اور جب ان سے اودھ کا نظام چھین لیا گیا تو انہوں نے اپنے بیٹے برجیس قدر کو ولی عہد بنا دیا ۔ جنگ آزادی میں وہ دوسرے مجاہدین آزادی کے ساتھ مل کر چلنے کی حامی تھیں جس میں نانا صاحب بھی شامل تھے۔ جب برطانوی فوج نے لکھنو پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور ان کے سارے حقوق چھین لئے تو انہوں نے برٹش حکومت کی طرف سے دی گئی کسی بھی طرح کی عنایت کو ٹھکرادیا ۔ اس سے بیگم حضرت محل کی خود داری کا پتہ چلتا ہے۔ وہ صرف ایک بہترین پالیسی ساز ہی نہیں تھیں۔ بلکہ جنگ کے میدان میں بھی انہوں نے جوہر دکھائے۔ جب ان کی فوج ہار گئی تو انہوں نے دوسرے مقامات پر فوج کو منظم کیا۔ بیگم حضرت محل کا اپنے ملک کے لئے خدمت کرنا بے شک کوئی نیا کارنامہ نہیں تھا ۔ لیکن ایک عورت ہو کر انہوں نے جس خوبی سے انگریزوں سے ٹکر لی وہ معنی رکھتا ہے ۔ 1857کی بغاوت کی چنگاریاں تو ملک کے کونے کونے میں پھوٹ رہی تھیں۔ ملک کے ہر کونے میں اس کی تپش محسوس کی جارہی تھی اسی چنگاری کو آگ میں تبدیل کرنے کا سحرہ بیگم حضرت محل کے سر جاتا ہے ۔ اترپردیش کے اودھ علاقہ میں بھی آزادی کی للک تھی ۔ جگہ جگہ بغاوتیں شروع ہو گئی تھیں۔ بیگم حضرت محل نے لکھنو کے مختلف علاقوں میں گھوم گھوم کر لگاتار انقلابیوں اور اپنی فوج کی حوصلہ افزائی کرنے میں دن رات ایک کر دیا ۔ ایک عورت کا یہ حوصلہ اور ہمت دیکھ کر فوج اور باغیوں کا حوصلہ جوش سے دوگنا ہو جاتا ۔ انہوں نے آس پاس کے جاگیر داروں کو بھی ساتھ ملا کر انگریزوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ بیگم حضرت محل کا کردار جنگ آزادی کی اس پہلی جنگ میں نا قابل فرامو ش ہے ۔ آج جب بھی 1857کی بغاوت کا ذکر آتا ہے تو بیگم حضرت محل کا نام خود بخود زباں پر آجاتا ہے ۔ انگریزوں کی مکاری اور چالاکی کو حضرت محل بہت اچھی طرح سمجھ چکی تھیں۔ وہ ایک دور اندیش خاتون تھیں ۔ انگریزوں سے لوہا لینے کیلئے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کیا ۔ انتظامی حکومتی فیصلوں میں بیگم حضرت محل کی صلاحیت خوب کام آئی۔ بیگم حضرت محل کے فیصلوں کو قبول کیا گیا ۔ بڑے بڑے عہدوں پر قابل عہد یدار مقرر کئے گئے ۔ محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود بیگم حضرت محل لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ بیگم حضرت محل نے خواتین کی ایک فوج تیار کی اور کچھ ماہرخواتین کو جاسوسی کے کام پر بھی لگایا ۔ فوجی خواتین نے محل کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی ۔ انگریزی فوج لگاتار ریزی ڈینسی سے اپنے ساتھیوں کو آزاد کرانے کیلئے کوشش کرر ہی تھی ۔ لیکن بھاری مخالفت کی وجہ سے انگریزوں کو لکھنو فوج بھیجنا مشکل ہو گیا تھا ۔ ادھر ریزی ڈینسی پر ناموں کے ذریعہ لگاتار حملے کئے جارہے تھے ۔ بیگم حضرت محل لکھنو کے مختلف علاقوں میں تنہا فوجیوں کا حوصلہ بڑھا رہی تھیں۔ لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا تھا ۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو چکا تھا ۔مغل شاہ بہادر شاہ ظفرکے نظر بند ہوتے ہی انقلابیوں کے حوصلے کمزور پڑنے لگے ۔ لکھنو بھی دھیرے دھیرے انگریزوں کے قبضہ میں آنے لگا تھا ۔ ہینری ہیولاک اور جیمز آوٹ رام کی فوجیں لکھنو پہنچ گئیں۔ بیگم حضرت محل نے قیصر باغ کے دروازے پر تالے لٹکوا دیئے ۔ انگریزی فوج بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی ۔ بیگم نے اپنے فوجیوں میں جوش بھرتے ہوئے کہا ،

” اب سب کچھ قربان کرنے کا وقت آگیا ہے“-

انگریزی فوج کا افسر ہینری ہیولاک عالم باغ تک پہنچ چکا تھا ۔ کیمپ ویل بھی کچھ اور فوج لے کر اس کے ساتھ جا ملا ۔ عالم باغ میں بہت ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا ۔ عوام کے ساتھ محل کے سپاہی شہر کی حفاظت کیلئے امنڈ پڑے ۔ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی ۔ دونوں طرف تیروں کی بوچھار ہو رہی تھیں۔ بیگم حضرت محل کو قرار نہیں تھا ۔ وہ چاروں طرف گھوم گھوم کر سرداروں میں جوش بھر رہی تھیں۔ ان کی حوصلہ افزائی سے انقلابیوں کا جوش ہزار گنا بڑھ جاتا ۔ وہ بھوکے پیاسے سب کچھ بھول کر اپنے وطن کی ایک ایک انچ زمین کیلئے مرمٹنے کو تیار تھے ۔ آخر وہ لمحہ بھی آگیا جب انگریزیوں نے اپنے ساتھیوں کو ریزیڈنسی سے آزاد کرا ہی لیا ۔ اور لکھنو پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا ۔

بیگم حضرت محل کی شخصیت ہندوستانی نسوانی سماج کی پیروی کرتا ہے وہ بے حد خوبصورت رحم دل اور نڈر خاتون تھیں۔ اودھ کی پوری قوم ، عوام عہدیدار ، فوج ان کی عزت کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے ایک اشارے پر اپنی جان تک قربان کرنے کا جذبہ ان کی عوام میں تھا ۔ انہیں کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ عورت کی سر براہی میں کام کررہے ہیں انہیں اپنی ا س لیڈر پر اپنے سے زیادہ بھروسہ تھا ۔ اور یہ بھروسہ بیگم حضرت محل نے ٹوٹنے نہیں دیا ۔

جب باغیوں کے سردار دلپت سنگھ محل میں پہنچے اور بیگم حضرت محل سے کہا،بیگم حضور آپ سے ایک التجا کرنے آیا ہوں۔ بیگم نے پوچھا وہ کیا ؟ اس نے کہا ۔ آپ اپنے فرنگی قیدیوں کو مجھے سونپ دیجیئے ۔ میں اس میں سے ایک ایک کا ہاتھ پیر کاٹ کر انگریزوں کی چھاﺅنی میں بھیجوں گا ۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ بیگم کے لہجہ میں سختی آگئی ۔ ہم قیدیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ تو خود کر سکتے ہیں اور نہ کسی کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔قیدیوں پر ظلم کرنے کی روایت ہم میں نہیں ہے ۔ ہمارے جتنے بھی فرنگی قیدی اور ان کی عورتوں پر کبھی ظلم نہیں ہوگا ۔

اندازہ ہوتا ہے بیگم حضرت محل انصاف پسند اور حسن سلوک کی مالک تھیں ۔ بیگم نے جن حالات اور مشکل وقت میں ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے وہ ہمارے لئے مثال ہے وہ بھلے ہی آج ہمارے بیچ نہ ہوں پر ان کا یہ قول عام ہندوستانیوں کیلئے ایک درس ہے ۔ یہ ہند کی پاک و صاف سر زمین ہے ۔ یہاں جب بھی کوئی جنگ بھڑکی ہے ہمیشہ ظلم کرنے والے ظالم کی شکست ہوئی ہے ۔ یہ میرا پختہ یقین ہے ۔ بے کسوں ، مظلوموں کا خون بہانے والا یہاں کبھی اپنے گندے خوابوں کے محل نہیں کھڑا کر سکے گا ۔ آنے والا وقت میرے اس یقین کی تائید کرے گا ۔

جنگ کے بعد آخر کار بیگم حضرت محل نے نیپال میں پناہ لی ۔ ابتدا میں نیپال کے رانا جنگ بہادر نے انکار کر دیا ۔ لیکن بعد میں اجازت دے دی ۔ وہیں پر 1879 میں ان کی وفات ہوئی۔ کاٹھ منڈو کی جامع مسجد کے قبرستان میں گمنام طور پر ان کو دفنا دیا گیا ۔15 اگست، 1962 میں ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے وکٹوریہ پارک میں ان کی یادمیں سنگ مر مر کا مقبرہ تعمیر کرا کر اسے بیگم حضرت محل پارک نام دیا ۔ حضرت محل کا یہ کارنامہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت لاچار اور مظلوم نہیں ۔ وہ وقت پڑنے پر مردوں کے ساتھ قدم ملا کر چل بھی سکتی ہے اور آگے بڑھ کر کوئی بھی ذمہ داری بہ خوبی نبھا بھی سکتی ہے ۔ ضرورت ہے اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں استعمال کرنے کی اپنے وجود کو پہچان دینے کی-